تک بندی

دوست — مئی 6، 2009 6:27 شام
آداب عرض ہے
بہت سے دنوں‌کے بعد انٹرنیٹ چلا اور اس دوران ہم پر بہت کچھ بیت گیا۔ عروض سے واقفیت کے بعد غزل کہتے ہوئے ڈر سا لگتا تھا لیکن اب تُک بندی کی کوشش سی کی ہے۔
بحر شاید یہ ہے
فاعِلاتن مفاعلن
میں نے 2 1 2 2 1 2 1 2 کے پیٹرن پر اشعار کہنے کی کوشش کی ہے۔ ملاحظہ کیجیے کتنی کامیاب ہوئی۔
وہ جو میرا حبیب تھا
وہ نہ میرا نصیب تھا
غیر سے میں کیا کہوں
میں ہی اپنا رقیب تھا
نعمتیں‌تو ملیں ‌مجھے
دوستوں کا غریب تھا
تھا وہم کہ فریب تھا
وہ جو دل کے قریب تھا
بجھتا سا اک دیا ہے، جو
روشنی کا نقیب تھا
۔۔۔۔۔
اس میں عروض اور زبان و بیان و معنی مفاہیم کی ڈھیر ساری غلطیاں ہونگی۔ یہاں حاضری کا مقصد یہی ہے کہ اساتذہ کرام اس پر نظر کرم فرمائیں۔
وسلام
فا ر و ق — مئی 6، 2009 7:25 شام
وہ جو میرا نصیب ہے
وہ ہی میرا حبیب ہے
غیر سے میں کتا نہیں دل کی بات
بس وہ ہی میرا رقیب ہے
نعمتیں‌تو بہت ملیں ‌مجھے
سچےدوستوں کا غریب ہوں
ہے یہ وہم میرا کہ غریب ہوں
محفل میں سب کے قریب ہوں
جلتا ہوا اک دیا ہے
مغلوں کی روشنی کا نقیب ہوں
خرم شہزاد خرم — مئی 6، 2009 8:41 شام
نعمتیں‌تو ملیں ‌مجھے
دوستوں کا غریب تھا
دوست بھائی یہ شعر بہت خوب ہے مجھے بہت پسند آیا
ابن سعید — مئی 7، 2009 2:32 صبح
کہاں گم گم تھے شاکر بھائی؟
آپ سے کچھ عرض کرنا ہے اس عروض‌ کے عارضے کے علاوہ۔ ان شاء اللہ میں جلدی ہی ذاتی پیغام بھیجتا ہوں۔
ویسے طبع آزمائی خوب کی۔ مجھ سے تو اب تک بندیاں بھی نہیں ہو پاتیں کیوں کہ کئی شعراء سے میرا بے تاج تک بند ہونا دیکھا نہیں گیا اور سب کے سب تک بندی پر اتر آئے۔ :)
ایم اے راجا — مئی 7، 2009 5:26 صبح
بہت خوب شاکر صاحب، باقی اصلاح تو اساتذہ کرام ہی فرمائیں گے۔ شکریہ۔
دوست — مئی 7، 2009 5:07 شام
بھائی ابن سعید کیا بتائیں نیٹ نہیں چل رہا تھا اور سسٹم خراب تھا سو ہم محفل سے دور تھے۔
اساتذہ کرام شکریہ ادا کرکے چلے گئے راجہ بھائی۔ :confused:
خرم — مئی 7، 2009 5:15 شام
جلتا ہوا اک دیا ہے
مغلوں کی روشنی کا نقیب ہوں
ایک تو یہ "بجھتا ہوا" دیا ہے اور دوجا یہ کہ روشنی کا نقیب نہیں ہوتا اور تیسری بات یہ کہ مغلوں کی اب روشنی نہیں رہی بلکہ کئی صدیوں سے ان کے یہاں لوڈشیڈنگ چل رہی ہے۔ ثبوت کے طور پر اپنے آپ کو ملاحظہ فرما لیجئے :)
خرم — مئی 7، 2009 5:17 شام
شاکر بھائی میں تو تُک بند بھی نہیں لیکن اس شعر کو
غیر سے میں کیا کہوں
میں ہی اپنا رقیب تھا
اگر ایسے بدل لیں
غیر سے شکوہ کیا کروں
آپ ہی اپنا رقیب تھا
تو اچھا لگے گا
اور آخری مصرعہ میں نقیب کو اگر نوید سے بدل دیں تو شائد بہتر ہو جائے۔
الف عین — مئی 7، 2009 6:40 شام
وارث حاضر ہوں، اور فورآ سے پیشتر بتائیں کہ کیا یہ valid بحر ہے؟
شاکر، میں یہی سوچ رہا تھا کل ہی کہ تم نے ڈیجیٹل تقطیع سیکھ لی ہے لیکن بہت دن سے اس فورم میں نظر نہیں آئے، مجھے یہ درست معلوم نہیں کہ یہ بحر ممکن ہے یا نہیں، ویسے تقطیع تو زیادہ تر درست ہے، محنت نہیں کر رہا فی الحال، ذرا وارث کا انتظار ہے بس۔۔
محمد وارث — مئی 7، 2009 6:41 شام
کہاں چلے گئے بھائی اساتذہ، اعجاز صاحب تو ابھی آئے ہی نہیں، ویسے اگر آپ اس پیٹرن کے آخر میں دو ہجائے بلند یا 22 کا اضافہ کر دیتے تو یہ ایک خوبصورت اور ثقہ بحر بن جاتی جسے بحرِ خفیف کہتے ہیں، وہی جس میں غالب کا مصرع ہے 'دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے'۔
خیر مجھے تو اس بحر میں بھی کوئی مضائقہ نہیں لگتا کہ کھینچ تان کر اجازت دی جا سکتی ہے گو "ثقہ" یا آرتھوڈاکس شاعر یا نقاد اس کو صحیح نہیں سمجھتے۔ خیر ذرا اپنے ان مصرعوں کی تقطیع کر کے بتائیں:
غیر سے میں کیا کہوں
تھا وہم کہ فریب تھا

باقی بعد میں انشاءاللہ۔
محمد وارث — مئی 7، 2009 6:44 شام
وارث حاضر ہوں، اور فورآ سے پیشتر بتائیں کہ کیا یہ valid بحر ہے؟
شاکر، میں یہی سوچ رہا تھا کل ہی کہ تم نے ڈیجیٹل تقطیع سیکھ لی ہے لیکن بہت دن سے اس فورم میں نظر نہیں آئے، مجھے یہ درست معلوم نہیں کہ یہ بحر ممکن ہے یا نہیں، ویسے تقطیع تو زیادہ تر درست ہے، محنت نہیں کر رہا فی الحال، ذرا وارث کا انتظار ہے بس۔۔

اعجاز صاحب دل کو دل سے راہ شاید اسی کو کہا جاتا ہے، جب آپ لکھ رہے تھے تو میں بھی لکھ رہا تھا اور جو آپ لکھ رہے تھے میں بھی وہی لکھ رہا تھا :)
اور 'ڈیجیٹل تقطیع" واہ واہ واہ، دل و جان سے آپ کی ترکیب پسند آئی :)
الف عین — مئی 8، 2009 10:42 صبح
بھائی وارث، میرا خیال یہی ہے کہ اس قسم کی ہر بحر کو رواج دینا ممکن نہیں اگرچہ ارکان کے حساب سے ٹھیک ہو. اس لئے میرا ذاتی خیال تو یہی ہے کہ یہ جائز نہیں ہے.
رہی بات اس کی
غیر سے میں کیا کہوں
تھا وہم کہ فریب تھا
میرے خیال میں شاکر نے پہلے مصرعے میں ’کیا‘ کو ’فعو‘ باندھا ہے
اور دوسرے مصرع میں ’وہیم کے‘ تلفظ کیا ہے، وہم بر وزن فعو، اور ’کہ‘ کو تمہارے جواز کے مطابق!!
شاکایک رکن ’فعلن‘ اور بڑھا دو نا تاکہ مجھ جیسا ثقہ بھی مطمئن ہو جائے.
مغزل — مئی 8، 2009 11:10 صبح
جلتا ہوا اک دیا ہے
مغلوں کی روشنی کا نقیب ہوں

صاحب ہمیں کیوں کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں ۔، خیریت تو ہے
دوست — مئی 8، 2009 5:57 شام
غی 2
ر 1
سے 2
میں 2
ک 1
یا 2
ک 1
ہوں 2
--------
تھا 2
و 1
ہم 2
کہ 2
ف 1
ری 2
ب 1
تھا 2
--------
کیا میں ایک ہی لانگ واؤل ہے اور وہم میں بھی مسئلہ لگ رہا ہے۔۔
آہ مجھے یاد نہیں رہتا کہ پیاس، کیا وغیرہ میں سنگل واؤل ہے۔
محمد وارث — مئی 8، 2009 7:06 شام
'کیا' کو بالکل صحیح سمجھے آپ شاکر صاحب، اب چونکی غلطی کا علم ہو گیا ہے تو اسے آپ درست بھی کر لیں گے!
'وہم' میں روایتی تلفظ والی غلطی ہے یہ لفظ 'وہَم' نہیں ہے بلکہ 'وہ، م' ہے یعنی اس میں ہ ساکن ہے نہ کہ متحرک اور اس غلطی سے چونکہ سلیبیل یا ہجے کی جگہ تبدیل ہو گئی سو مصرع بے وزن ہو گیا۔
یہ وہی غلطی ہے جو عموماً صبر، قبر، جبر، گرم، برف وغیرہ میں کی جاتی ہے ان سب میں دوسرا حرف ساکن ہے لیکن زیادہ تر پنجابی حضرات ان کو زبر کے ساتھ بولتے ہیں اور شعر میں اس سے وزن کی فاش غلطی ہو جاتی ہے حالانکہ یہ ہوتی معمولی بات ہے، وہم کو تھا سے پہلے کر لیں تو مسئلہ حل ہے:
وہم تھا کہ فریب تھا
اور چونکہ اعجاز صاحب نے 'کہ' کی بھی بات کی جو وہ ہمیشہ کرتے ہیں :) سو اس کو بھی حل کیا جا سکتا ہے
وہم تھا یا فریب تھا
فا ر و ق — مئی 8، 2009 8:15 شام
صاحب ہمیں کیوں کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں ۔، خیریت تو ہے

اوہ میں تو صرف اپنے بارے میں کہرہا تھا اگر اپ کو بورا لگا ہو تو معذرت چاہتا ہوں
ایم اے راجا — مئی 9، 2009 10:57 صبح
بھائی ابن سعید کیا بتائیں نیٹ نہیں چل رہا تھا اور سسٹم خراب تھا سو ہم محفل سے دور تھے۔
اساتذہ کرام شکریہ ادا کرکے چلے گئے راجہ بھائی۔ :confused:

لیں جی اب تو خوش ہو جائیں کہ اساتذہ کرام تشریف لا چکے۔
دوست — مئی 10، 2009 5:42 شام
غی 2
ر 1
سے 2
کیوں 2
گِ 1
لہ 2
کَ 1
روں 2
------
یہ ٹھیک رہے گا؟
کیوں کا وزن 2 ہی ہوگا؟
محمد وارث — مئی 10، 2009 6:44 شام
اب مصرع بالکل وزن میں ہے!
اور 'کیوں' 2 ہی ہے، نون غنہ اور 'ی' دونوں کا کوئی وزن نہیں گویا یہ فقط 'کو' ہے!
دوست — مئی 11، 2009 5:51 شام
یہاں‌ ناک میں جانے والا واؤل ہے۔ میں‌تو اس کو ایسے دیکھتا ہوں۔ :grin:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DA%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C.21597/