یاسر شاہ — اکتوبر 18، 2022 5:18 شام
اللہ یہ شعر تو پورا کا پورا مجھ پر صادق آتا ہے

شاباش
"لڑا دے ممولے کو شہباز سے"
خود اک سمت ہو جا بصد ناز سے
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 18، 2022 5:37 شام
بہت شکریہ رہنمائی فرمانے کا
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 18، 2022 5:39 شام
اصلاح کے بعد:
جب بھی زادِ سفر لیا ہم نے
مختصر مختصر لیا ہم نے
بخت بٹتا تھا جس جگہ پہ وہاں
آپ سا ہمسفر لیا ہم نے
دردِ سر لے گئے خرد والے
اور دردِ جگر لیا ہم نے
کچھ شکایت نہیں تھی یاروں سے
بس کنارہ سا کر لیا ہم نے
رہزنی کا ہو ڈر ہمیں کیوں کر
ساتھ کب راہبر لیا ہم نے؟
جنگ یاروں سے آ پڑی تھی، سو
خوں جگر کو ہی کر لیا ہم نے
حملہ آور ہوئے جو غم، تو سپر
تیری یادوں کو کر لیا ہم نے
اشرف علی — اکتوبر 20، 2022 12:16 شام
دردِ سر لے گئے خرد والے
اور دردِ جگر لیا ہم نے
کچھ شکایت نہیں تھی یاروں سے
بس کنارہ سا کر لیا ہم نے
بہت خوب !
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 20، 2022 1:11 شام
بہت شکریہ حوصلہ افزائی کا، خوش رہیں