جب قدم سوئے یار اٹھتا ہے برائے اصلاح

صابرہ امین — نومبر 22، 2021 4:14 صبح
محترم اساتذہ الف عین ، ظہیراحمدظہیر
محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد خلیل الرحمٰن ، یاسر شاہ ، سید عاطف علی
السلام علیکم،
آپ سب کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے ۔ آپ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
جب قدم سوئے یار اٹھتا ہے
پاؤں دیوانہ وار اٹھتا ہے
سوچتے ہم ہیں بارہا اس کو
درد بھی بار بار اٹھتا ہے
آس بڑھتی ہے اس کے آنے کی
راہ سے جب غبار اٹھتا ہے
کوئی ہم کو بتائے کیوں آخر
اس طرح دل میں پیار اٹھتا ہے
جو بھی اٹھتا ہے اس کی محفل سے
دیدہِ اشک بار اٹھتا ہے
کیا کہیں اس کی خوش کلامی کا
آدمی زیرِ بار اٹھتا ہے
باز آئے ہم اس کی چاہت سے
اب نہ ہم سے یہ بار اٹھتا ہے
میرے دل سے وہ اس طرح نکلے
جس طرح اعتبار اٹھتا ہے
آنکھ سے اٹھتی ہے حیا پہلے
بعد اس کے وقار اٹھتا ہے
باپ کی آنکھ بند ہونے پر
شجرِ سایہ دار اٹھتا ہے
ہو کے مایوس آدمی رب سے
ہر کسی کو پکار اٹھتا ہے
الف عین — نومبر 22، 2021 4:55 صبح
اچھی غزل ہے بیٹا صابرہ امین مجھے بس ان دو اشعار میں درست محاورہ نہیں لگا
کوئی ہم کو بتائے کیوں آخر
اس طرح دل میں پیار اٹھتا ہے
... پیار اٹھنا سے مراد اٹھ کر چلا جانا ہے یا پیدا ہونا ہے؟ جیسے پیار امڈ آنا بھی کہتے ہیں؟ اس شعر کو نکال ہی دو یا پھر واضح کر کے پھر کہو
جو بھی اٹھتا ہے اس کی محفل سے
دیدہِ اشک بار اٹھتا ہے
... دیدۂ اشکبار سے مراد؟ محل کے اعتبار سے تو پر از دیدۂ اشکبار کہنا تھا، ورنہ محض اشک بار کہا جائے
ہو کے وہ اشکبار....
زوجہ اظہر — نومبر 22، 2021 6:20 صبح
واہ ، صبح صبح ، اچھی اور سادہ غزل
باز آئے ہم اس کی چاہت سے
اب نہ ہم سے یہ بار اٹھتا ہے
ایسی محبت سے ہم باز آئے۔:)
محمد عبدالرؤوف — نومبر 22، 2021 7:08 صبح
ماشاءاللہ، اچھی غزل ہے۔
آپ غائب کہاں ہو بہنا؟
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 22، 2021 7:24 صبح
ماشاءاللہ، اچھی غزل ہے۔
آپ غائب کہاں ہو بہنا؟
یہی دونوں باتیں تو ہم لکھنا چاہ رہے تھے! یہی آپ نے بھی لکھ دیں، خیر!!!
ماشاءاللہ اچھی غزل ہے۔
کہاں غائب ہو بٹیا؟؟؟
محمد عدنان اکبری نقیبی — نومبر 22، 2021 10:33 صبح
ماشاءاللہ
زبردست شاندار غزل بہنا۔
صابرہ امین — نومبر 22، 2021 11:17 صبح
اچھی غزل ہے بیٹا صابرہ امین مجھے بس ان دو اشعار میں درست محاورہ نہیں لگا
کوئی ہم کو بتائے کیوں آخر
اس طرح دل میں پیار اٹھتا ہے
... پیار اٹھنا سے مراد اٹھ کر چلا جانا ہے یا پیدا ہونا ہے؟ جیسے پیار امڈ آنا بھی کہتے ہیں؟ اس شعر کو نکال ہی دو یا پھر واضح کر کے پھر کہو
جو بھی اٹھتا ہے اس کی محفل سے
دیدہِ اشک بار اٹھتا ہے
... دیدۂ اشکبار سے مراد؟ محل کے اعتبار سے تو پر از دیدۂ اشکبار کہنا تھا، ورنہ محض اشک بار کہا جائے
ہو کے وہ اشکبار....
استادِ محترم، پذیرائی کا بے حد شکریہ ۔ ۔
جی میں نے ٖ غلط طور پر اسے پیار امڈ آنے کے ملاحظہ کیجیے۔
دل میں اک ہوک سی یوں اٹھتی ہے
جب کسی دل سے پیار اٹھتا ہے
یا
دل کی روداد دل لگی ہو جب
پیار سے اعتبار اٹھتا ہے
جی چشم اشک بار وزن میں پورا نہ تھا تو اسے دیدہ کر دیا تھا۔ لغت سے رہنمائی کا خیال نہیں آیا ۔ اب دیکھیے ۔ ۔
جو بھی اٹھتا ہے تیری محفل سے
چشمِ نم ، بے قرار اٹھتا ہے
یا
ہو کے وہ اشک بار اٹھتا ہے ۔ ۔
جو متبادل آپ کو مناسب معلوم ہوں رہنمائی کیجیے ۔
صابرہ امین — نومبر 22، 2021 11:19 صبح
واہ ، صبح صبح ، اچھی اور سادہ غزل
ایسی محبت سے ہم باز آئے۔:)
آنا بھی چاہئے ۔ ۔:LOL:
پسندیدگی کا شکریہ بہنا ۔ ۔ آپ نے خوش کر دیا ۔ ۔ :love:
صابرہ امین — نومبر 22، 2021 11:20 صبح
ماشاءاللہ، اچھی غزل ہے۔
آپ غائب کہاں ہو بہنا؟
جی بس کچھ پریشانیاں تھیں جو اللہ نے دور کر دیں ۔ الحمد للہ :)
صابرہ امین — نومبر 22، 2021 11:26 صبح
یہی دونوں باتیں تو ہم لکھنا چاہ رہے تھے! یہی آپ نے بھی لکھ دیں، خیر!!!
ماشاءاللہ اچھی غزل ہے۔
کہاں غائب ہو بٹیا؟؟؟
جی ہم نے کہاں جانا ہے سر۔ بس کچھ پریشان کن مصروفیتیں رہیں کہ دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا۔ اب اللہ کریم نے کرم فرمایا ہے۔ آپ کا شکریہ :)
صابرہ امین — نومبر 22، 2021 11:34 صبح
ماشاءاللہ
زبردست شاندار غزل بہنا۔
شکریہ بھیا ۔ خوش رہیں ۔ ۔ :)
محمد عبدالرؤوف — نومبر 22، 2021 12:38 شام
جی بس کچھ پریشانیاں تھیں جو اللہ نے دور کر دیں ۔ الحمد للہ :)
اللہ پاک آپ کے قدم قدم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔ آمین
سیما علی — نومبر 22، 2021 1:38 شام
آنکھ سے اٹھتی ہے حیا پہلے
بعد اس کے وقار اٹھتا ہے
واہ واہ
بہت خوبصورت غزل
جیتی رہیے ۔۔۔
بہت ڈھیر ساری ۔۔۔
بہت خوشی ہوئی آپ دوبارہ محفل میں دیکھ ۔۔
🥰🥰🥰🥰🥰
صابرہ امین — نومبر 22، 2021 1:47 شام
واہ واہ
بہت خوبصورت غزل
جیتی رہیے ۔۔۔
بہت ڈھیر ساری ۔۔۔
بہت خوشی ہوئی آپ دوبارہ محفل میں دیکھ ۔۔
🥰🥰🥰🥰🥰
شکریہ سیما آپا ۔ ۔ آپ کا حسن نظر ہے ۔ ۔ سلامت رہیں ۔ ۔ :love: :love: :love:
صابرہ امین — نومبر 22، 2021 1:52 شام
اللہ پاک آپ کے قدم قدم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔ آمین
آپ اور سب پر بھی ۔ ۔ آمین
ایس ایس ساگر — نومبر 22، 2021 7:07 شام
واہ واہ ۔ماشاءاللہ۔
بہت اچھی غزل ہے صابرہ امین بہنا۔
جیتی رہیں۔ اللہ پریشانیوں سے دور رکھے۔ آمین۔
اشرف علی — نومبر 22، 2021 8:20 شام
محترم اساتذہ الف عین ، ظہیر احمد ظہیر
محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد خلیل الرحمٰن ، یاسر شاہ ، سید عاطف علی
السلام علیکم،
آپ سب کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے ۔ آپ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
جب قدم سوئے یار اٹھتا ہے
پاؤں دیوانہ وار اٹھتا ہے
سوچتے ہم ہیں بارہا اس کو
درد بھی بار بار اٹھتا ہے
آس بڑھتی ہے اس کے آنے کی
راہ سے جب غبار اٹھتا ہے
کوئی ہم کو بتائے کیوں آخر
اس طرح دل میں پیار اٹھتا ہے
جو بھی اٹھتا ہے اس کی محفل سے
دیدہِ اشک بار اٹھتا ہے
کیا کہیں اس کی خوش کلامی کا
آدمی زیرِ بار اٹھتا ہے
باز آئے ہم اس کی چاہت سے
اب نہ ہم سے یہ بار اٹھتا ہے
میرے دل سے وہ اس طرح نکلے
جس طرح اعتبار اٹھتا ہے
آنکھ سے اٹھتی ہے حیا پہلے
بعد اس کے وقار اٹھتا ہے
باپ کی آنکھ بند ہونے پر
شجرِ سایہ دار اٹھتا ہے
ہو کے مایوس آدمی رب سے
ہر کسی کو پکار اٹھتا ہے
و علیکم السلام و رحمتہ اللّٰہ و برکاتہ
ماشاء اللّٰہ
بہت خوووب
الف عین — نومبر 23، 2021 5:08 صبح
ان دونوں میں
دل میں اک ہوک سی یوں اٹھتی ہے
جب کسی دل سے پیار اٹھتا ہے
یا
دل کی روداد دل لگی ہو جب
پیار سے اعتبار اٹھتا ہے
دوسرا متبادل بہتر ہے،
چشمِ نم ، بے قرار اٹھتا ہے
یا
ہو کے وہ اشک بار اٹھتا ہے ۔ ۔
.. خود تمہیں جو پسند ہو، وہی رکھ لو۔ مجھے تو دونوں قبول ہیں
صابرہ امین — نومبر 24، 2021 3:20 صبح
و علیکم السلام و رحمتہ اللّٰہ و برکاتہ
ماشاء اللّٰہ
بہت خوووب
شکریہ اشرف علی بھائی ۔ :)
صابرہ امین — نومبر 24، 2021 3:31 صبح
ان دونوں میں
دل میں اک ہوک سی یوں اٹھتی ہے
جب کسی دل سے پیار اٹھتا ہے
یا
دل کی روداد دل لگی ہو جب
پیار سے اعتبار اٹھتا ہے
دوسرا متبادل بہتر ہے،
چشمِ نم ، بے قرار اٹھتا ہے
یا
ہو کے وہ اشک بار اٹھتا ہے ۔ ۔
.. خود تمہیں جو پسند ہو، وہی رکھ لو۔ مجھے تو دونوں قبول ہیں

بہت شکریہ۔ فلو کے باعث طبیعت ناساز تھی۔ اب بہتر ہے، الحمدللہ۔ تاخیر کی معذرت استاد محترم۔
آپ سے نظر ثانی کی درخواست ہے۔
جب قدم سوئے یار اٹھتا ہے
پاؤں دیوانہ وار اٹھتا ہے
سوچتے ہم ہیں بارہا اس کو
درد بھی بار بار اٹھتا ہے
آس بڑھتی ہے اس کے آنے کی
راہ سے جب غبار اٹھتا ہے
دل کی روداد دل لگی ہو جب
پیار سے اعتبار اٹھتا ہے
جو بھی اٹھتا ہے اس کی محفل سے
ہو کے وہ اشک بار اٹھتا ہے
کیا کہیں اس کی خوش کلامی کا
آدمی زیرِ بار اٹھتا ہے
باز آئے ہم اس کی چاہت سے
اب نہ ہم سے یہ بار اٹھتا ہے
میرے دل سے وہ اس طرح نکلے
جس طرح اعتبار اٹھتا ہے
آنکھ سے اٹھتی ہے حیا پہلے
بعد اس کے وقار اٹھتا ہے
باپ کی آنکھ بند ہونے پر
شجرِ سایہ دار اٹھتا ہے
ہو کے مایوس آدمی رب سے
ہر کسی کو پکار اٹھتا ہے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A8-%D9%82%D8%AF%D9%85-%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92-%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.117747/