محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 14، 2017 8:12 صبح
ہماری گوگل ڈرائیو پر جنگل بک کی اب تک کی فائل شریکِ محفل کررہے ہیں۔ آپ کی قیمتی آرا کا انتظار رہے گا۔
جنگل بُک
عظیم — ستمبر 14، 2017 8:34 صبح
ہماری گوگل ڈرائیو پر جنگل بک کی اب تک کی فائل شریکِ محفل کررہے ہیں۔ آپ کی قیمتی آرا کا انتظار رہے گا۔
جنگل بُک
السلام علیکم خلیل بھائی ۔ اس لنک سے میرے ٹیبلٹ پر ٹیکسٹ ٹوٹا پھوٹا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔ البتہ
برس بیتے نہ آیا تھا کسی انسان کا سایا
یہ مصرع اگر اس طرح کہا جائے ؟
÷÷برس بیتے نہ پڑ پایا کسی انسان کا سایا ۔
باقی جو
بابا فرمائیں ۔
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 15، 2017 4:15 شام
یہ سُنتے ہی اُچھل کر ہوگیا واں سے روانہ وہ
بُلاتے رہ گئے دونوں مگر پھر بھی نہ مانا وہ
یہ سُنتے ہی وہاں سے ہوگیا فوراً روانہ وہ
شزہ مغل — ستمبر 20، 2017 11:58 صبح
شزہ مغل — ستمبر 20، 2017 12:00 شام
محمد خلیل الرحمٰن انکل اور بھی سنائیں ناں۔۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 25، 2018 3:33 شام
محمد خلیل الرحمٰن انکل اور بھی سنائیں ناں۔۔۔۔
شزہ بٹیا! ہم شرمندہ ہیں کہ آپ کے یہ پیغامات نہ دیکھ پائے۔
پوری نظم پڑھنے پر شکریہ قبول فرمائیے۔
بہت دن ہوگئے کچھ کہہ نہیں پارہے ہیں۔ کہانی اب زیادہ نہیں رہ گئی ۔ ان شاء اللہ آئیندہ چند قسطوں میں اختتام کو پہنچے گی۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 21، 2018 11:56 صبح
باب ھفدھم: ویرانے کے ساتھی
وہاں سے بھاگ کر وہ ایک ویرانے میں آپہنچا
عجب وحشت سی طاری تھی عجب ویران منظر تھا
پہنچ کر اس جگہ کچھ دیر کو سستا لیا اس نے
بہت ہی تھک چکا تھا وہ، ٹھکانا پالیا اُس نے
اسی ویران جنگل میں، یہیں کچھ گِدھ بھی رہتے تھے
یہ مسکن تھا چڑیلوں کا جسے اپنا یہ کہتے تھے
یہ جنگل بھی عجب تھا، یاں کوئی آتا نہ جاتا تھا
نہ اس حصے میں کوئی جانور بھی گھر بناتا تھا
یہی وحشت تھی جو اُن کے مزاجوں میں سمائی تھی
اِسی میں دِن کٹا تھا اور اسی میں رات آئی تھی
یہیں پر کوئی مردہ جانور ملتا تو کھا لیتے
ذرا کچھ پیٹ میں جاتا تو کچھ دن یوں بِتا لیتے
یہ مردہ خور تھے اور بس یہی تھی اُن کی خصلت بھی
یہی وحشت یہی مستی بنی تھی اُن کی عادت بھی
اسی عالم میں بیزاری کے، اک ٹہنی پہ رہتے تھے
"کوئی مردہ، کوئی بسمل نظر آئے " یہ کہتے تھے
کوئی زخمی نظر آتا تو اس کی تاک میں رہتے
جب اُس کی جاں نکلتی تب یہ اُس کو نوچ کھاتے تھے
انہیں اِس حال میں یوں موگلی چلتا نظر آیا
کہ اِس جنگل میں انساں کا نظر آنا عجوبہ تھا
بہت حیراں ہوئے وہ دیکھ کر ایسے درندے کو
بجائے چار پیروں کے جو دو پیروں پہ چلتا ہو
کئی چکر لگائے اور پھر نیچے اُتر آئے
بہت نزدیک سے پھر موگلی کو دیکھ وہ پائے
انہیں روتا ہوا یہ موگلی اچھا لگا اُس دم
کہ وحشت اُسکے چہرے پر تھی اور آنکھیں تھیں اُسکی نم
اسی باعث انہوں نے موگلی کو دوست گردانا
غنیمت ہے کسی جنگل میں اِک اچھے کا مل جانا
ذرا سی دیر کو باتیں ہوئیں اور ہوگئی یاری
جنھیں کچھ دیر پہلے صرف اپنی بھوک تھی پیاری
سید عاطف علی — اکتوبر 21، 2018 12:14 شام
بہت خوب خلیل بھائی۔ کافی وقت بعد سلسلہ جوڑا ھے ۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 21، 2018 12:30 شام
بہت خوب خلیل بھائی۔ کافی وقت بعد سلسلہ جوڑا ھے ۔
جزاک اللہ۔ آپ کی ،استادِ محترم
الف عین کی اور دیگر اساتذہ و محفلین کی اصلاح کا انتظار رہے گا۔
الف عین — اکتوبر 22، 2018 7:10 صبح
بہت خوب بھائی خلیل۔ تمہارے اشعار میں روانی قابل رشک ہے (غنیمت ہے کہ میں نے آٹو کریکٹ کو بر وقت دیکھ لیا ورنہ میرا کی بورڈ اسے 'قابلِ رحم' بنانے پر بضد تھا)
پہنچ کر اس جگہ کچھ دیر کو سستا لیا اس نے
بس یہ مصرع گرامر کی رو سے سوال اٹھاتا ہے ۔ 'وہ سستا لیا' درست ہوتا ہے ۔ کچھ الفاظ بدل کر دیکھیں جیسے
وہاں پہنچا تو پھر آرام کچھ لمحے کیا اس نے
سید عاطف علی — اکتوبر 22، 2018 7:57 صبح
اچھے کا مل جا نا کی جگہ ساتھی کا مل جانا کچھ شاید بہتر لگے۔مجرد صفت زباں پر تھوڑی گراں سی لگ رہی ہے۔
ذرا سی دیر بیٹھے اور ان میں ہوگئی یاری
جنھیں کچھ دیر پہلے تک بس اپنی بھوک تھی پیاری
اس طرح قصہ گوئی کا تاثر ذرا زیادہ جھلکتا ہے۔ویسے کوئی خرابی نہیں ۔
پہلے مصرع میں "ان " سے ، دوسرے مصرع میں "جنہیں" کےلیے شعر میں ایک ضمیر کی کمی پوری ہوجاتی ہے۔
فرحت کیانی — اکتوبر 22، 2018 8:02 صبح
باب ھفدھم: ویرانے کے ساتھی
وہاں سے بھاگ کر وہ ایک ویرانے میں آپہنچا
عجب وحشت سی طاری تھی عجب ویران منظر تھا
پہنچ کر اس جگہ کچھ دیر کو سستا لیا اس نے
بہت ہی تھک چکا تھا وہ، ٹھکانا پالیا اُس نے
اسی ویران جنگل میں، یہیں کچھ گِدھ بھی رہتے تھے
یہ مسکن تھا چڑیلوں کا جسے اپنا یہ کہتے تھے
یہ جنگل بھی عجب تھا، یاں کوئی آتا نہ جاتا تھا
نہ اس حصے میں کوئی جانور بھی گھر بناتا تھا
یہی وحشت تھی جو اُن کے مزاجوں میں سمائی تھی
اِسی میں دِن کٹا تھا اور اسی میں رات آئی تھی
یہیں پر کوئی مردہ جانور ملتا تو کھا لیتے
ذرا کچھ پیٹ میں جاتا تو کچھ دن یوں بِتا لیتے
یہ مردہ خور تھے اور بس یہی تھی اُن کی خصلت بھی
یہی وحشت یہی مستی بنی تھی اُن کی عادت بھی
اسی عالم میں بیزاری کے، اک ٹہنی پہ رہتے تھے
"کوئی مردہ، کوئی بسمل نظر آئے " یہ کہتے تھے
کوئی زخمی نظر آتا تو اس کی تاک میں رہتے
جب اُس کی جاں نکلتی تب یہ اُس کو نوچ کھاتے تھے
انہیں اِس حال میں یوں موگلی چلتا نظر آیا
کہ اِس جنگل میں انساں کا نظر آنا عجوبہ تھا
بہت حیراں ہوئے وہ دیکھ کر ایسے درندے کو
بجائے چار پیروں کے جو دو پیروں پہ چلتا ہو
کئی چکر لگائے اور پھر نیچے اُتر آئے
بہت نزدیک سے پھر موگلی کو دیکھ وہ پائے
انہیں روتا ہوا یہ موگلی اچھا لگا اُس دم
کہ وحشت اُسکے چہرے پر تھی اور آنکھیں تھیں اُسکی نم
اسی باعث انہوں نے موگلی کو دوست گردانا
غنیمت ہے کسی جنگل میں اِک اچھے کا مل جانا
ذرا سی دیر کو باتیں ہوئیں اور ہوگئی یاری
جنھیں کچھ دیر پہلے صرف اپنی بھوک تھی پیاری
ہمیشہ کی طرح آپ کی تحریر پورٹل پر دیکھ کر فورا ہی پڑھنے کو کھول لیا اور ہر بار کی طرح بے اختیار منہ سے زبردست، بہترین نکلا۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 22، 2018 8:44 صبح
زبردست خلیل سر ۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 23، 2018 3:06 صبح
بہت خوب بھائی خلیل۔ تمہارے اشعار میں روانی قابل رشک ہے (غنیمت ہے کہ میں نے آٹو کریکٹ کو بر وقت دیکھ لیا ورنہ میرا کی بورڈ اسے 'قابلِ رحم' بنانے پر بضد تھا)
پہنچ کر اس جگہ کچھ دیر کو سستا لیا اس نے
بس یہ مصرع گرامر کی رو سے سوال اٹھاتا ہے ۔ 'وہ سستا لیا' درست ہوتا ہے ۔ کچھ الفاظ بدل کر دیکھیں جیسے
وہاں پہنچا تو پھر آرام کچھ لمحے کیا اس نے
آداب استادِ محترم! آپ کا پہلا جملہ تو ایک خوب صورت انعام ہے ہمارے لیے۔ سدا خوش رہیے۔
شکریہ قبول فرمائیے کہ آپ نے آٹو کریکٹ کو ہمارے اس خوب صورت انعام کا تیاپانچہ کرنے سے بروقت روک دیا۔
نیز کیا اچھا مصرع عنایت فرمایا ہے، اجازت دیجیے کہ اس سے اپنی نظم کو سجالیں۔ جزاک اللہ الخیر۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 23، 2018 3:29 صبح
اچھے کا مل جا نا کی جگہ ساتھی کا مل جانا کچھ شاید بہتر لگے۔مجرد صفت زباں پر تھوڑی گراں سی لگ رہی ہے۔
ذرا سی دیر بیٹھے اور ان میں ہوگئی یاری
جنھیں کچھ دیر پہلے تک بس اپنی بھوک تھی پیاری
اس طرح قصہ گوئی کا تاثر ذرا زیادہ جھلکتا ہے۔ویسے کوئی خرابی نہیں ۔
پہلے مصرع میں "ان " سے ، دوسرے مصرع میں "جنہیں" کےلیے شعر میں ایک ضمیر کی کمی پوری ہوجاتی ہے۔
خوش رہیے
سید عاطف علی بھائی ۔ خوب صورت اصلاح، جسے اب ہماری نظم کا حصہ جانیے۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 23، 2018 3:30 صبح
ہمیشہ کی طرح آپ کی تحریر پورٹل پر دیکھ کر فورا ہی پڑھنے کو کھول لیا اور ہر بار کی طرح بے اختیار منہ سے زبردست، بہترین نکلا۔
ہمیشہ کی طرح بہنا کی حوصلہ افزائی، جسے پڑھ کر ہم خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ سدا سکھی رہیے۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 23، 2018 3:31 صبح
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 25، 2018 6:50 شام
انیس جان بھائی اتنا تو بتا دیتے کہ ہمارے مراسلے میں کیا بات ناگوارِ خاطر گزری جو آپ نے ناپسندیدہ کی ریٹنگ سے نوازا ہے؟
انیس جان — اکتوبر 26، 2018 3:59 صبح
انیس جان بھائی اتنا تو بتا دیتے کہ ہمارے مراسلے میں کیا بات ناگوارِ خاطر گزری جو آپ نے ناپسندیدہ کی ریٹنگ سے نوازا ہے؟
محمد خلیل الرحمٰن بھائی میں نے تو شروع سے اخیر تک پوری کہانی پڑھی بلکہ مکرّر پڑھی بہت پسند آئی
شاید غلطی سے کہیں ریٹنگ ہوگئی ہو
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 28، 2018 8:23 صبح
محمد خلیل الرحمٰن بھائی میں نے تو شروع سے اخیر تک پوری کہانی پڑھی بلکہ مکرّر پڑھی بہت پسند آئی
شاید غلطی سے کہیں ریٹنگ ہوگئی ہو
جزاک اللہ
انیس جان بھائی۔
یقیناً یہ ٹچ سکرین بعض اوقات کرشمے دکھاتا ہے!!