ماشا اللہ ۔ ۔ ۔ سبحان اللہ ۔ ۔ ۔ کیا خوب منظوم ترجمہ ہے ۔ ۔ ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالا کہ دلچسپی اور تجسس نے اٹھنے ہی نہیں دیا ۔ ۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ سات سال سے آپ یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ ۔ ۔ مستقل مزاجی کی الگ سے داد کہ بہت سے لوگ تو بس سوچ کر ہی رہ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔
آخری باب میں تو لاکھوں کی باتیں ایک ساتھ کر ڈالیں آپ نے
"سلام ایسے جوانوں پر جو ظلم و جور سہتے ہیں
ہمیشہ جو ستم سے بر سرِ پیکار رہتے ہیں"
"جواں مردوں کی ہمت سے جہاں آباد رہتے ہیں
کہ ایسے لوگ مرکر بھی ہمیشہ یاد رہتے ہیں"
"ہے آئینِ جواں مرداں ستم سے پنجہ زن رہنا
نہ ڈرنا ظلم کی طاقت سے ، جو سچ ہو وہی کہنا"
بھلائی کی بدی سے اِس جہاں میں جنگ رہتی ہے
کہانی اِ س لڑائی کی زبانِ خلق کہتی ہے
مِرے بچو جہاں میں حق کے دعوے دار بن جاؤ
ستم کے سامنے ڈٹ جاؤ ، اک دیوار بن جاؤ
سنہرے الفاظ دل میں اترتے گئے ۔ ۔ ۔ بہت لظف اٹھایا ۔ ۔ کئی اشعار تو باربار پڑھے ۔ ۔ بچوں کے لیئے تو بہت ہی عمدہ نظم ایک داستان کے پیرائے میں تیار ہو گئ ہے ۔ ۔ ۔
اساتذہ کی توجہ اور آپ کی کاوش کو پہترین بنانے کی سعی بھی قابل ستائش اور ادب پروری کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ۔ ۔
کپلنگ کی " ٰIF" میری ہمیشہ سے پسندیدہ رہی ہے ۔ ۔ کاش اس کا بھی کوئی ایسا ترجمہ کرے جیسا کہ آپ نے کیا ۔ ۔( دیکھیئے کیسی خواہشیں پیدا ہو رہی ہیں)
ایک بار پھر ڈھیروں ڈھیر مبارکباد ۔ ۔


