فارسی والے نونِ آخر (ماقبل حرفِ علت) کو عام طور پر نون غنہ باندھتے ہیں اور یہ نون وہاں ناطق ہوتا ہے جہاں اس پر کوئی حرکت (زیرِ اضافت، واوِ عطف وغیرہ) نافذ ہو جائے۔ بعضوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ ترکیب (اضافی، توصیفی، عطفی) میں ایسا نون لازماً غنہ ہونا چاہئے، بعض اس میں لچک لے لیتے ہیں، یعنی ناطق لے آتے ہیں۔
جناب
ابن رضا کے پیش کردہ اشعار میں قوافی کا مسئلہ لسانی سے زیادہ عدمِ ملائمت کا لگتا ہے۔ ہم کچھ اظہاریوں سے بہت زیادہ مانوس نہیں ہیں؛ مثلاً:
یہ کون دشمنان ہیں (یہ کون دشمن ہیں)، ہمارے محسنان ہیں(ہمارے محسن ہیں)
وضاحت: یہاں فاضل شاعر نے اردو محاورے کو نظر انداز کیا ہے۔