ابن رضا بھائی ایک منظر کو میں نے مکمل کر دیا ہے دوسرے منظر پر آپ روشنی ڈالئے تا کہ اسے بھی اس نظم کے پیٹ میں ڈال دیا جائے
یہ کیسی افتاد آ پڑی ہے کہ میں نے جس سمت بھی نظر کی
تو کوئی مقہور کوئی معتوب سب بھکاری ہیں جن کے مابین اہلِ ثروت
بہ وسعتِ ظرف طعن و دشنام ہی کی خیرات بانٹتے ہیں
مگر یہ پھر بھی جبیں پٹکتے ہیں مانگتے ہیں
ازل سے امروز تک زمانوں کے اس سمندر کو ایک سرعت سے پاٹ کر ان تک آگیا ہے
غرض یہ دریوزہ ان کی میراث بن چکا ہے
تلاشئے مت کوئی مداوا
نہیں بجز صبر کوئی چارہ
اگر سلامت ہے ایک کاسہ
تو اور تم چاہتے بھی کیا ہو
گداگری ہے فرائضِ مذہبی میں شامل
اب ایسے آشوبِ کم نگاہی میں کون جانے کہاں خدا ہے
وہ ہے بھی یا صرف واہمہ ہے
میں کاسۂ زر فشاں میں جھانکوں تو دیکھتا ہوں
وہ ایک منظر
کہ جس میں تقسیمِ مال و زر پر اسی کی چپ کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہے

