خیال یار نے ہم کو ۔۔۔

La Alma — مئی 12، 2016 12:44 شام

خیالِ یار نے ہم کو بھی دیوانہ بنا ڈالا
ذرا سی دیر میں خود سے ہی بیگانہ بنا ڈالا
وفور ِشوق سے تھاما، لبوں سے پھرلگایا تھا
غمِ ہستی کو ہم نے آج پیمانہ بنا ڈالا
تری چاہت کی لو ہے اور آوارہ دلِ مضطر
طوافِ شمع کی خاطر یہ پروانہ بنا ڈلا
محبت کے لئے ہم نے، فقط اک جان ہی دی تھی
ذرا سی بات تھی جس کا یوں افسانہ بنا ڈالا
سنو اے ساقیء ِمحفل، سخن سے جام تو بھر دو
سرورِ حرف کو آخر، یہ میخانہ بنا ڈالا

سر الف عین ، جناب محمداحمد ، جناب فاتح ، جناب ابن رضا

ابن رضا — مئی 12، 2016 4:25 شام
بہت خوب
عباد اللہ — مئی 12، 2016 7:50 شام
سنو اے ساقیء ِمحفل، سخن سے جام تو بھر دو
سرورِ حرف کو آخر، یہ میخانہ بنا ڈالا
شتابی ساقی جی !
بہت خوب
La Alma — مئی 13، 2016 6:39 صبح
بہت شکریہ ۔
La Alma — مئی 13، 2016 6:39 صبح
شتابی ساقی جی !
بہت خوب
بہت شکریہ ۔
اکمل زیدی — مئی 13، 2016 6:41 صبح
بہت اچھی لکھی ...
برا مت مانئے گا اس پر مجھے وہ یاد آگیا
کسی بھولو کو جب چاہا یہاں گاما بنا ڈلا
کسی پتلون کو کھینچا تو پاجامہ بنا ڈالا
نور وجدان — مئی 13، 2016 10:16 صبح
زبردست ۔۔۔جناب
حمیرا عدنان — مئی 13، 2016 10:21 صبح
بہت خوب جناب کیا کہنا
La Alma — مئی 13، 2016 1:00 شام
بہت اچھی لکھی ...
برا مت مانئے گا اس پر مجھے وہ یاد آگیا
کسی بھولو کو جب چاہا یہاں گاما بنا ڈلا
کسی پتلون کو کھینچا تو پاجامہ بنا ڈالا[/QUOTE
شکریہ
اچھا ہی مانا ہے._☺
La Alma — مئی 13، 2016 1:02 شام
بہت ممنون ہوں نور ۔
La Alma — مئی 13، 2016 1:06 شام
بہت خوب جناب کیا کہنا
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے ۔۔۔
مجھے تو لگنے لگا تھا شاید اس سیکشن میں خواتین کا داخلہ منع ہے .
پسندیدگی کا بہت شکریہ ۔
عباد اللہ — مئی 16، 2016 9:55 شام
بہت خوب غزل ہے داد قبول فرمائیے
رائے اقتباس میں شامل کر رہا ہوں
خیالِ یار نے ہم کو بھی دیوانہ بنا ڈالا
ذرا سی دیر میں خود سے ہی بیگانہ بنا ڈالا
کیا کسی اور کو بھی خیالِ یار نے دیوانہ بنا رکھا ھے؟
اگر ہاں تو اس شعر کے کینوس میں ان حضرات کی غیر موجودگی صراحت مانگتی ہے؟
کچھ تشنگی کا احساس ہوتا ہے مطلع کو پر اثر اور پر کشش ہونا چاہئے
وفور ِشوق سے تھاما، لبوں سے پھرلگایا تھا
غمِ ہستی کو ہم نے آج پیمانہ بنا ڈالا
پہلا مصرع چست نہیں ہر دو ٹکڑوں میں زمانہ بھی بدل رہا ھے
وفورِ شوق سے تھاما زمانۂ حال کا ذکر ہے لبوں سے پھر لگایا تھا ماضی گا
اسے دیکھ لیجئے
تری چاہت کی لو ہے اور آوارہ دلِ مضطر
طوافِ شمع کی خاطر یہ پروانہ بنا ڈلا
دوسرے مصرعے میں "یہ " بھرتی کا ہے
محبت کے لئے ہم نے، فقط اک جان ہی دی تھی
ذرا سی بات تھی جس کا یوں افسانہ بنا ڈالا
افسانہ بنانے پر اگر آپ شکوہ سنج ہیں تو یہ کیفیت شعر میں موجود نہیں!!
یہ شکوہ جس سے کیا جا رہا ہے اس کی غیر موجودگی بھی کھٹکتی ہے
سنو اے ساقیء ِمحفل، سخن سے جام تو بھر دو
سرورِ حرف کو آخر، یہ میخانہ بنا ڈالا
سخن سے جام بھرنا !
سرورِ حرف کو ،یا کیلئے میخانہ بنانا ؟
چلئے خیر
غزل بہت خوب ہے بہت داد
الشفاء — مئی 17، 2016 5:01 صبح
بہت خوب غزل ہے ۔۔۔:)
برا مت مانئے گا اس پر مجھے وہ یاد آگیا
کسی بھولو کو جب چاہا یہاں گاما بنا ڈلا
کسی پتلون کو کھینچا تو پاجامہ بنا ڈالا
اور ہمیں یہ یاد آ گیا۔
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
مری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا۔
الف عین — مئی 17، 2016 6:49 صبح
درست ہے غزل، اگرچہ کوئی زبردست خیال بھی محسوس نہیں ہوا اشعار میں
La Alma — مئی 17، 2016 12:33 شام
درست ہے غزل، اگرچہ کوئی زبردست خیال بھی محسوس نہیں ہوا اشعار میں
رہنمائی کے لیے بہت ممنون ہوں سر ۔
La Alma — مئی 17، 2016 12:35 شام
بہت خوب غزل ہے ۔۔۔:)
اور ہمیں یہ یاد آ گیا۔
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
مری آوارگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا۔
شکریہ ۔
یہ بھی خوب رہی ۔:)
La Alma — مئی 17، 2016 12:45 شام
بہت خوب غزل ہے داد قبول فرمائیے
رائے اقتباس میں شامل کر رہا ہوں

(خیالِ یار نے ہم کو بھی دیوانہ بنا ڈالا
ذرا سی دیر میں خود سے ہی بیگانہ بنا ڈالا
کیا کسی اور کو بھی خیالِ یار نے دیوانہ بنا رکھا ھے؟
اگر ہاں تو اس شعر کے کینوس میں ان حضرات کی غیر موجودگی صراحت مانگتی ہے؟)
اگر اس شعر کو حقیقی معنوں میں لیں گے تو پھر " بھی " نہیں کھٹکے گا
(وفور ِشوق سے تھاما، لبوں سے پھرلگایا تھا
غمِ ہستی کو ہم نے آج پیمانہ بنا ڈالا
پہلا مصرع چست نہیں ہر دو ٹکڑوں میں زمانہ بھی بدل رہا ھے
وفورِ شوق سے تھاما زمانۂ حال کا ذکر ہے لبوں سے پھر لگایا تھا ماضی گا
اسے دیکھ لیجئے)
جی ضرور ۔
(تری چاہت کی لو ہے اور آوارہ دلِ مضطر
طوافِ شمع کی خاطر یہ پروانہ بنا ڈلا
دوسرے مصرعے میں "یہ " بھرتی کا ہے)
اس معصوم کو تو ہم نے ترازو کے باٹ کے طور پر استمال کیا ہے ۔پڑا رہنے دیں ایک پلڑے میں ۔
(محبت کے لئے ہم نے، فقط اک جان ہی دی تھی
ذرا سی بات تھی جس کا یوں افسانہ بنا ڈالا
افسانہ بنانے پر اگر آپ شکوہ سنج ہیں تو یہ کیفیت شعر میں موجود نہیں!!
یہ شکوہ جس سے کیا جا رہا ہے اس کی غیر موجودگی بھی کھٹکتی ہے)
شاعر اپنی جان دے کر بھی یہی کہے جا رہا ہے کہ اس کے لیے جان سے جانا ذرا سی تو بات ہے ۔اس سے بڑھ کر بیچارگی کی کیا کیفیت ہو گی ۔
شکوہ ظاہر ہے زمانے سے ہی کیا جا رہا ہے جس نے اس بات کا افسانہ بنا ڈالا ۔
(سنو اے ساقیء ِمحفل، سخن سے جام تو بھر دو
سرورِ حرف کو آخر، یہ میخانہ بنا ڈالا
سخن سے جام بھرنا !)
علامت یا استعارہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔
(سرورِ حرف کو ،یا کیلئے میخانہ بنانا ؟)
مجھے پینے کے لیے پانی دو
مجھے پینے کو پانی دو
اتنی شعری رعایت تو ہونی چاہیے ۔
فرقان احمد — مئی 17، 2016 12:49 شام
وفور ِشوق سے تھاما، لبوں سے پھرلگایا تھا
غمِ ہستی کو ہم نے آج پیمانہ ۔۔۔۔بنا ڈالا
غضب کا شعر!
La Alma — مئی 17، 2016 12:55 شام
وفور ِشوق سے تھاما، لبوں سے پھرلگایا تھا
غمِ ہستی کو ہم نے آج پیمانہ ۔۔۔۔بنا ڈالا
غضب کا شعر!
نوازش ۔
سدرہ نور — مئی 17، 2016 1:03 شام
اپنی رسوائی، ترے نام کا چرچا دیکھوں
اِک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں
نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں
آنکھ کھُل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں
شام بھی ہو گئی، دھُندلا گئیں آنکھیں بھی مری
بھُولنے والے، میں کب تک ترا رَستا دیکھوں
ایک اِک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں
آج میں خُود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں
کاش صندل سے مری مانگ اُجالے آ کر
اتنے غیروں میں وہی ہاتھ ، جو اپنا دیکھوں
تو مرا کُچھ نہیں لگتا ہے مگر جانِ حیات!
جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکتا دیکھوں!
بند کر کے مِری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے
بُوجھے جانے کا میں ہر روز تماشہ دیکھوں
سب ضِدیں اُس کی میں پوری کروں ، ہر بات سُنوں
ایک بچے کی طرح سے اُسے ہنستا دیکھوں
مُجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح
انگ انگ اپنا اسی رُت میں مہکتا دیکھوں
پھُول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھِل جائے
پنکھڑی پنکھڑی اُن ہونٹوں کا سایا دیکھوں
میں نے جس لمحے کو پُوجا ہے، اُسے بس اِک بار
اب بن کر تری آنکھوں میں اُترتا دیکھوں
تو مری طرح سے یکتا ہے، مگر میرے حبیب!
میں آتا ہے، کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں
ٹُوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے
تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84-%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D9%86%DB%92-%DB%81%D9%85-%DA%A9%D9%88-%DB%94%DB%94%DB%94.89867/