دامِ ظلمت سے مرے دل کو چھڑایا جائے

ابن رضا — جولائی 8، 2015 6:54 شام
زبردست ، زبردست ، زبردست ۔
شکریہ شکریہ شکریہ
نوازش نوازش نوازش
:) :) :)
loneliness4ever — جولائی 8، 2015 7:15 شام
کیا خوب عرض کیا ہے جناب
ڈھیروں داد قبول فرمائیں اس عمدہ غزل پر
اللہ پاک مزید ترقی عطا فرمائے آپ کو
اور حاسدوں کی نظر سے محفوظ رکھے ۔۔۔۔۔ آمین
ابن رضا — جولائی 8، 2015 7:21 شام
کیا خوب عرض کیا ہے جناب
ڈھیروں داد قبول فرمائیں اس عمدہ غزل پر
اللہ پاک مزید ترقی عطا فرمائے آپ کو
اور حاسدوں کی نظر سے محفوظ رکھے ۔۔۔۔۔ آمین
تشکر بسیار. جزاکم اللہ خیرا
الف عین — جولائی 9، 2015 12:23 صبح
آسی بھائی سے متفق ہوں۔
زخم کہن کی کیا تخصیص؟ میرے خیال میں یہاں ’پال رکھے ہیں‘ کا محل ہے۔
ابن رضا — جولائی 9، 2015 9:33 صبح
آسی بھائی سے متفق ہوں۔
زخم کہن کی کیا تخصیص؟ میرے خیال میں یہاں ’پال رکھے ہیں‘ کا محل ہے۔
شکریہ استاد جی نظرِ محبت کرنے کے لیے۔ شاد و آباد رہیے۔
محمد یعقوب آسی — جولائی 9، 2015 6:28 شام
آسی بھائی سے متفق ہوں۔
زخم کہن کی کیا تخصیص؟ میرے خیال میں یہاں ’پال رکھے ہیں‘ کا محل ہے۔
آداب عرض ہے، محترمی۔ آپ کی طرف سے "اتفاق" میرے لئے اعزاز ہوتا ہے۔
نور وجدان — جولائی 10، 2015 2:39 صبح
آپ کی غزل بہت خوب ہے ۔۔۔۔
میں نے پہلے ہی کئی زخمِ کہن پالے ہیں
دوستو اور نہ اب مجھ کو ستایا جائے
یہ شعر مجھے پسند آیا ۔۔۔۔۔ جزاک اللہ ۔۔۔۔
نور وجدان — جولائی 10، 2015 2:47 صبح
ترکیب "خونِ وفا" کا لفظی ترجمہ دھوکا دے گیا شاید۔ وفا کا خون بمعنی قتل؟ اردو محاورے میں خون بمعنی قتل یا موت (خون کرنا، خون ہونا، خون ہو جانا، محبت کا خون، وفا کا خون؛ وغیرہ) درست ہے۔ فارسی ترکیب میں یہ معانی محلِ نظر ہیں۔ سیدھا سیدھا "قتلِ وفا" لکھئے۔ پہلا مصرع چست ہو سکتا تھا: اب ہے بے لوث محبت کا سبق یاد کسے، کس کو بے لوث محبت کا سبق یاد رہا، وغیرہ۔ یا پھر اس کو سیدھا محبوب پر فٹ کیجئے: وہ تو بے لوث محبت کا سبق بھول چکے؛ کچھ نہ کچھ بہتری ہو رہے گی۔
یہیں سے اک سوال ذہن میں آیا۔۔۔۔
گرہ لگائے ۔۔۔سلسلے میں ۔۔
ڈالئے سر پہ خاک و خونِ وفا
یہ تیمم بھی ہے ، وضو بھی ہے
یہ شعر ۔۔۔۔
اس ترکیب پر کچھ روشنی کریں ۔۔۔ کیا یہ درست ہے '' خاک و خون ِ وفا ۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی — جولائی 10، 2015 5:35 صبح
یہیں سے اک سوال ذہن میں آیا۔۔۔۔
گرہ لگائے ۔۔۔سلسلے میں ۔۔
ڈالئے سر پہ خاک و خونِ وفا
یہ تیمم بھی ہے ، وضو بھی ہے

یہ شعر ۔۔۔۔
اس ترکیب پر کچھ روشنی کریں ۔۔۔ کیا یہ درست ہے '' خاک و خون ِ وفا ۔۔۔۔

یہ شعر میں نے پڑھا ہے گرہ لگانے کے دھاگے میں۔ تاہم وہاں تبصرے طلب نہیں کئے گئے۔
ابن رضا — اگست 17، 2015 2:58 شام
چند تبدیلیوں کے ساتھ

دلِ بسمل کا تماشا نہ بنایا جائے
رُخ سے چلمن کو کسی طور ہٹایا جائے
اُن کا یوں صرفِ نظر کرنا سر آنکھوں پہ مگر
کچھ ہمیں بھی تو سبب اس کا بتایا جائے
ہجر کا درد رگِ جاں میں اُتر آتا ہے
اُن کو کس طرح یہ احساس دلایا جائے؟
وہ اگر ترکِ مراسم پہ ہی آمادہ ہیں
تو یہ فرمان سرِ بزم سُنایا جائے
ہوچکا پاسِ وفا گردشِ دوراں کی نذر
ایک آنسو بھی نہ اب اِس پہ بہایا جائے
آپ لاتے جو نہیں ہم کو کبھی خاطر میں
کیوں نہ آج آپ کو آئینہ دِکھایا جائے

برائے توجہ اساتذہ
محمد یعقوب آسی صاحب و الف عین صاحب
آوازِ دوست — اگست 17، 2015 5:19 شام
میں نے پہلے ہی کئی زخمِ کہن پالے ہیں
دوستو اور نہ اب مجھ کو ستایا جائے
چھا گئے ہیں رضا بھائی ! محفل لوٹ لی آپ نے تو :)
ابن رضا — اگست 17، 2015 5:24 شام
چھا گئے ہیں رضا بھائی ! محفل لوٹ لی آپ نے تو :)
پسند آوری کا شکریہ زاہد صاحب، یہ سب "اصلاح" کا کمال ہے ورنہ ہم کس قابل۔ سلامت رہیے۔
محمد یعقوب آسی — اگست 17، 2015 7:40 شام
ہوچکا پاسِ وفا گردشِ دوراں کی نذر
ایک آنسو بھی نہ اب اِس پہ بہایا جائے
آپ لاتے جو نہیں ہم کو
کسی خاطر میں
کیوں نہ پھر آپ کو آئینہ دِکھایا جائے
نَذْر (قربانی، صدقہ، پیش کرنا) یہ وتد مفروق ہے۔ (نَ ذْ ۔ ر) ۔
نَظَرْ (نگاہ، دیکھنا) یہ وتد مجموع ہے (نَ ۔ ظَ رْ) ۔
اس مصرعے میں عروضی ٹیکنیک پر تو یہ درست ہے تاہم ذوقِ سلیم پر کسی قدر گراں گزرتا ہے۔
خاطر میں نہ لانا ۔ یہاں کسی کا محل نہیں ہے۔ یہاں کبھی رکھ کے دیکھ لیجئے،
اور ۔۔۔ کبھی کے ساتھ ۔۔۔ کیوں نہ آج آپ کو ۔۔ ۔۔ ۔۔
پسند آ جائے تو ٹھیک ہے نہیں تو اختیار تو آپ کا ہے ہی۔۔۔۔
نجف ناجی — اگست 18، 2015 12:10 شام
(وہ اگر ترکِ مراسم پہ ہی آمادہ ہیں
تو یہ فرمان سرِ بزم سنایا جائے)
اس کا جواب نہیں۔ ۔
اوزان سے میں نابلد ہوں لیکن اس شعر نے دل کی تاروں میں ساز چھیڑ دیا ھے۔
بعد از دعا داد حاضر ہے!!!
محمداحمد — اگست 18، 2015 1:14 شام
بہت خوب !
عمدہ غزل ہے ابن رضا بھائی!
داد قبول کیجے۔
ابن رضا — اگست 18، 2015 4:15 شام
(وہ اگر ترکِ مراسم پہ ہی آمادہ ہیں
تو یہ فرمان سرِ بزم سنایا جائے)
اس کا جواب نہیں۔ ۔
اوزان سے میں نابلد ہوں لیکن اس شعر نے دل کی تاروں میں ساز چھیڑ دیا ھے۔
بعد از دعا داد حاضر ہے!!!
پسند آوری کا شکریہ
ابن رضا — اگست 18، 2015 4:15 شام
بہت خوب !
عمدہ غزل ہے ابن رضا بھائی!
داد قبول کیجے۔
بہت نوازش احمد بھائی۔ آجکل کہاں غائب ہیں آپ؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%90-%D8%B8%D9%84%D9%85%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%D9%88-%DA%86%DA%BE%DA%91%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92.83336/page-2