نوید ناظم — اگست 16، 2018 6:05 شام
پوچھتے ہو پتہ دِوانے سے
کیا لگے اس کو آشیانے سے
میں تو اُس کو بھی کھو چکا ہوں اب
یاد آیا مجھے کمانے سے
ہے مِرا بھی خمیر سونے کا
میں نکھر جاؤں گا جلانے سے
میری ہستی نہیں رہے گی بس
اور کیا ہو گا اُس کے جانے سے
مجھ کو سچ بولنے کی عادت ہے
میری بنتی نہیں زمانے سے
درد، غم، آہ، آنسو، کچھ لیجے
ایسے مت جائیے خزانے سے
میری آنکھوں میں کچھ نہیں ہے اب
خواب ہیں بس، وہ بھی پرانے سے
نوید ناظم — اگست 16، 2018 6:07 شام
نور وجدان — اگست 16، 2018 6:11 شام
اچھی غزل ہے
اور کیا ہوگا اسکے جانے سے
کیا کا وزن فع ہے یہاں فعو کا وزن بنتا ہے
وجاہت حسین — اگست 16، 2018 6:12 شام
ماشاء اللہ جناب۔ بہت خوب۔
یہ تو کمال ہیں
ہے مِرا بھی خمیر سونے کا
میں نکھر جاؤں گا جلانے سے
میری ہستی نہیں رہے گی بس
اور کیا ہو گا اُس کے جانے سے
واہ!
باقی اگر کہیں اصلاح کی ضرورت ہے تو وہ اساتذہ ہی فرمائیں گے۔
نوید ناظم — اگست 16، 2018 6:39 شام
اچھی غزل ہے
اور کیا ہوگا اسکے جانے سے
کیا کا وزن فع ہے یہاں آپ نے شاید فعو باندھا ہے
شکریہ،
جی "کیا" کو فع ہی باندھا گیا۔۔۔۔ آپ کو مغالطہ ہوا شاید۔
نوید ناظم — اگست 16، 2018 6:40 شام
ماشاء اللہ جناب۔ بہت خوب۔
یہ تو کمال ہیں
واہ!
باقی اگر کہیں اصلاح کی ضرورت ہے تو وہ اساتذہ ہی فرمائیں گے۔
جی بڑی نوازش۔
عبد السمیع عرف عاصمؔ — اگست 16، 2018 7:04 شام
بہت خوب، جواب نہیں، مآ شآء اللہ۔۔۔
نور وجدان — اگست 16، 2018 10:39 شام
شکریہ،
جی "کیا" کو فع ہی باندھا گیا۔۔۔۔ آپ کو مغالطہ ہوا شاید۔
اصل میں جب "کیا " سوال ہو تو وزن فع ہوتا ہے اور اگر فعل یا کام تو بروزن فعو ہوتا ہے
خالد محمود چوہدری — اگست 17، 2018 5:02 صبح
نوید ناظم — اگست 17، 2018 7:04 صبح
بہت خوب، جواب نہیں، مآ شآء اللہ۔۔۔
جی بہت شکریہ اس پسندیدگی کے لیے۔
نوید ناظم — اگست 17، 2018 7:07 صبح
نوید ناظم — اگست 17، 2018 7:14 صبح
اصل میں جب "کیا " سوال ہو تو وزن فع ہوتا ہے اور اگر فعل یا کام تو بروزن فعو ہوتا ہے
جی ہاں! یہاں پر "کیا" سوالیہ ہے اور اس لیے فع ہی باندھا گیا۔ تاہم آپ کیوں مغالطے میں ہیں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — اگست 17، 2018 7:14 صبح
ہے مِرا بھی خمیر سونے کا
میں نکھر جاؤں گا جلانے سے
زبردست نوید بھائی ،
بہت عمدہ غزل پیش کی ، سلامت رہیں ۔
عظیم — اگست 17، 2018 7:14 صبح
میرا مشورہ ہے کہ مطلع کے دوسرے مصرع میں 'لگے' کی جگہ'ملے' استعمال کریں
اور دوسرے شعر کے دوسرے مصرع میں اس بات کی وضاحت کریں کہ کیا کمانے سے؟چوتھے شعر میں 'ہستی' کی جگہ کچھ اور لے کر آئیں کہ یہ لفظ ذرا فلسفے کی جانب چلا جاتا ہے. مثلا
میں ہی زندہ نہیں بچوں گا بس یا 'رہوں گا بس وغیرہ.
چھٹے شعر کے پہلے مصرع کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے 'آہ' کی جگہ 'آہیں' کا محل معلوم ہوتا ہے اور دوسرے مصرع میں اس بات کی بھی وضاحت ہونی چاہیے کہ کس کے خزانے سے؟آخری شعر میں 'وہ بھی' 'و بی' تقطیع ہونا اچھا نہیں لگ رہا
الف عین — اگست 17، 2018 4:47 شام
کم از کم مطلع، اگلا شعر اور آخری شعر دوبارہ دیکھو
نوید ناظم — اگست 17، 2018 5:41 شام
زبردست نوید بھائی ،
بہت عمدہ غزل پیش کی ، سلامت رہیں ۔
سپاس گزار ہوں جی۔
نوید ناظم — اگست 17، 2018 5:48 شام
کم از کم مطلع، اگلا شعر اور آخری شعر دوبارہ دیکھو
سر مطلع یوں کر دیا ہے، دوسرے اور آخری شعر کی آپ سے رعایت طلب کر لوں گا۔

ہے غرض برق کو جلانے سے
کیا لگے اس کو آشیانے سے
نور وجدان — اگست 18، 2018 5:54 صبح
جی ہاں! یہاں پر "کیا" سوالیہ ہے اور اس لیے فع ہی باندھا گیا۔ تاہم آپ کیوں مغالطے میں ہیں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔
آپ نے شاید یہ بحر استعمال کی ہے
فاعلاتن مفاعلن فعلن
اس میں کیا فع کے طور شعر کو بے وزن نہیں کر رہا ہے
محمد تابش صدیقی — اگست 18، 2018 5:58 صبح
آپ نے شاید یہ بحر استعمال کی ہے
فاعلاتن مفاعلن فعلن
اس میں کیا فع کے طور شعر کو بے وزن نہیں کر رہا ہے
اور کا ہو فاعلاتن
گَ اُس کِ جا مفاعلن
نے سے فعلن
نور وجدان — اگست 18، 2018 6:06 صبح
یہ فاعلاتن کیسے ہوا ، یہی سمجھ سے باہر ہے اور تو کبھی فعل کے وزن پر نہیں دیکھا