دردِ پیہم ہے، لا دوا ہے عشق - برائے اصلاح

صابرہ امین — نومبر 26، 2021 9:29 صبح
محترم اساتذہ الف عین ، ظہیراحمدظہیر محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد خلیل الرحمٰن ، یاسر شاہ ، سید عاطف علی
السلام علیکم،
آپ سب کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے ۔ آپ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
ہے جنوں، یاس، التجا ہے عشق
دردِ پیہم ہے، لا دوا ہے عشق
سب اسیرِ وفا یہ جانتے ہیں
عمر بھر قید کی سزا ہے عشق
ذرہ ذرہ ہے عشق کا داعی
ہے خدا یا خدا نما ہے عشق
کب صلہ مانگتا ہے عشقِ جنوں
بےوفاؤں سے بھی وفا ہے عشق
دنیا ہاری ہے عشق کے آگے
یہ حقیقت ہے لافنا ہے عشق
بہتا آنسو ہے یا سسکتی آہ
ایک روٹھی ہوئی ادا ہے عشق
جان دیتے ہیں عشق میں عاشق
جَبْر سے بھی کبھی جھکا ہے عشق
دل اجڑتا ہے بس محبت میں
ایسا لگتا ہے بد دعا ہے عشق
وقتِ رخصت کہا یہ عاشق نے
ہے اگر کچھ تو ابتلا ہے عشق
عشق نے سب مزے چکھائے ہمیں
کون کہتا ہے بےمزا ہے عشق
بھری دنیا میں بس تمی تو نہیں
یا
بھری دنیا میں ایک تم ہی نہیں
کیوں تمہیں رب سے مانگتا ہے عشق
ہم ہیں برباد عشق میں ان کے
ہم سے ہی پوچھتے کیا ہے عشق
محمد عدنان اکبری نقیبی — نومبر 26، 2021 9:41 صبح
اساتذہ کی رائے برحق
ہمیں آپ کی غزل بہت شاندار لگی
عشق نے سب مزے چکھائے ہمیں
کون کہتا ہے بےمزا ہے عشق
اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے ،واہ
ڈھیروں داد
صابرہ امین — نومبر 26، 2021 10:18 صبح
اساتذہ کی رائے برحق
ہمیں آپ کی غزل بہت شاندار لگی
اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے ،واہ
ڈھیروں داد
بہت نوازش، اللہ ایسے بھائی سب کو نصیب فرمائیں۔ دل بڑھا دیا آپ نے ۔ :)
سیما علی — نومبر 26، 2021 3:04 شام
ذرہ ذرہ ہے عشق کا داعی
ہے خدا یا خدا نما ہے عشق
واہ واہ کیا بات ہے
جیتی رہیے بہت ساری دعائیں❤️❤️
الف عین — نومبر 27، 2021 3:25 صبح
اچھی غزل کہی ہے صابرہ امین ماشاء اللہ، تکنیکی سقم تو کوئی نظر نہیں آیا، البتہ مفہوم کے اعتبار سے کچھ اشعار کم از کم میری سمجھ میں نہیں آ سکے۔
ہے جنوں، یاس، التجا ہے عشق
دردِ پیہم ہے، لا دوا ہے عشق
... مطلع دو لخت بھی لگ رہا ہے، اور پہلا مصرع بلکہ اس کا قافیہ زبردستی بنایا ہوا لگتا ہے۔ کس سے التجا؟
اس کے علاوہ 'یاس' بے ربط درمیان میں آ رہا ہے، کہ جنوں اور التجا تو 'ہے' سے منسلک ہیں لیکن یاس بغیر کسی عطف کے ہے۔ قافیہ بدل دو۔ جیسے
ہے جزا یا کوئی سزا ہے عشق
یا
کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا ہے عشق
یا اس قسم کا کوئی اور مصرع، ویسے یہ دونوں مصرعے بھی مطلع بننے کے قابل ہیں!
درمیانی اشعار درست ہیں
بھری دنیا میں بس تمی تو نہیں
یا
بھری دنیا میں ایک تم ہی نہیں
کیوں تمہیں رب سے مانگتا ہے عشق
... پہلا متبادل بہتر ہے لیکن 'تمی' کوئی لفظ نہیں۔ 'تمہیں' درست املا ہے، ی پر کھڑی زیر کے ساتھ
ہم ہیں برباد عشق میں ان کے
ہم سے ہی پوچھتے کیا ہے عشق
.. دوسرے مصرعے میں 'ہیں' شاید چھوٹ گیا ہے لکھنے میں ۔لیکن بہتر ہو کہ فاعل بھی شامل ہو
ہم سے وہ پوچھتے...
یا ایک بہتر امکان
ہم ہیں برباد عشق میں جن کے
ہم سے ہی....
صابرہ امین — نومبر 27، 2021 8:30 صبح
واہ واہ کیا بات ہے
جیتی رہیے بہت ساری دعائیں❤️❤️
شکریہ سیما آپا۔ سلامت رہیں ۔ ۔:love:
صابرہ امین — نومبر 27، 2021 9:45 صبح
استادِ محترم،
آپ کی حوصلہ افزائی اور توصیف کا شکریہ۔ آپ کا کہا یقینا بہت معنی رکھتا ہے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین
صابرہ امین — نومبر 27، 2021 10:03 صبح
اچھی غزل کہی ہے صابرہ امین ماشاء اللہ، تکنیکی سقم تو کوئی نظر نہیں آیا، البتہ مفہوم کے اعتبار سے کچھ اشعار کم از کم میری سمجھ میں نہیں آ سکے۔
ہے جنوں، یاس، التجا ہے عشق
دردِ پیہم ہے، لا دوا ہے عشق
... مطلع دو لخت بھی لگ رہا ہے، اور پہلا مصرع بلکہ اس کا قافیہ زبردستی بنایا ہوا لگتا ہے۔ کس سے التجا؟
اس کے علاوہ 'یاس' بے ربط درمیان میں آ رہا ہے، کہ جنوں اور التجا تو 'ہے' سے منسلک ہیں لیکن یاس بغیر کسی عطف کے ہے۔ قافیہ بدل دو۔ جیسے
ہے جزا یا کوئی سزا ہے عشق
یا
کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا ہے عشق
یا اس قسم کا کوئی اور مصرع، ویسے یہ دونوں مصرعے بھی مطلع بننے کے قابل ہیں!

تبدیلیاں ملاحظہ کیجیے۔
ہے جزا یا کوئی سزا ہے عشق
کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا ہے عشق
یا
سنتے آئے ہیں ایک بلا ہے عشق
کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا ہے عشق
کیا بتائیں تمہیں کہ کیا ہے عشق
جرمِ الفت کی ایک سزا ہے عشق
چارہ جوئی کہاں سے ہو ممکن
دردِ پیہم ہے، لا دوا ہے عشق
بھری دنیا میں بس تمی تو نہیں
یا
بھری دنیا میں ایک تم ہی نہیں
کیوں تمہیں رب سے مانگتا ہے عشق
... پہلا متبادل بہتر ہے لیکن 'تمی' کوئی لفظ نہیں۔ 'تمہیں' درست املا ہے، ی پر کھڑی زیر کے ساتھ
معذرت کہ املا کی غلطی سمیت کاپی پیسٹ کر دیا۔ یہ لفظ تمی نہیں تمہی تھا ۔
ملاحظہ کیجیے۔
بھری دنیا میں بس تمہی تو نہیں
کیوں تمہیں رب سے مانگتا ہے عشق
ہم ہیں برباد عشق میں ان کے
ہم سے ہی پوچھتے کیا ہے عشق
.. دوسرے مصرعے میں 'ہیں' شاید چھوٹ گیا ہے لکھنے میں ۔لیکن بہتر ہو کہ فاعل بھی شامل ہو
ہم سے وہ پوچھتے...
یا ایک بہتر امکان
ہم ہیں برباد عشق میں جن کے
ہم سے ہی....

جی بہتر۔اب دیکھیے۔
ہم ہیں برباد عشق میں جن کے
ہم سے ہی پوچھتے کیا ہے عشق
صابرہ امین — نومبر 27، 2021 10:07 صبح
-
اشرف علی — نومبر 27، 2021 7:14 شام
محترم اساتذہ الف عین ، ظہیراحمدظہیر محمّد احسن سمیع :راحل:
محمد خلیل الرحمٰن ، یاسر شاہ ، سید عاطف علی
السلام علیکم،
آپ سب کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے ۔ آپ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
ہے جنوں، یاس، التجا ہے عشق
دردِ پیہم ہے، لا دوا ہے عشق
سب اسیرِ وفا یہ جانتے ہیں
عمر بھر قید کی سزا ہے عشق
ذرہ ذرہ ہے عشق کا داعی
ہے خدا یا خدا نما ہے عشق
کب صلہ مانگتا ہے عشقِ جنوں
بےوفاؤں سے بھی وفا ہے عشق
دنیا ہاری ہے عشق کے آگے
یہ حقیقت ہے لافنا ہے عشق
بہتا آنسو ہے یا سسکتی آہ
ایک روٹھی ہوئی ادا ہے عشق
جان دیتے ہیں عشق میں عاشق
جَبْر سے بھی کبھی جھکا ہے عشق
دل اجڑتا ہے بس محبت میں
ایسا لگتا ہے بد دعا ہے عشق
وقتِ رخصت کہا یہ عاشق نے
ہے اگر کچھ تو ابتلا ہے عشق
عشق نے سب مزے چکھائے ہمیں
کون کہتا ہے بےمزا ہے عشق
بھری دنیا میں بس تمی تو نہیں
یا
بھری دنیا میں ایک تم ہی نہیں
کیوں تمہیں رب سے مانگتا ہے عشق
ہم ہیں برباد عشق میں ان کے
ہم سے ہی پوچھتے کیا ہے عشق
و علیکم السلام و رحمتہ اللّٰہ و برکاتہ
عشق نے سب مزے چکھائے ہمیں
کون کہتا ہے بے مزا ہے عشق
واااااہ خوووووب
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 28، 2021 2:55 صبح
ملاحظہ کیجیے۔
بھری دنیا میں بس تمہی تو نہیں
کیوں تمہیں رب سے مانگتا ہے عشق
'تمہیں' ہی درست املا ہے، جیسا کہ استادِ محترم لکھ چکے ہیں.
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 28، 2021 2:57 صبح
تبدیلیاں ملاحظہ کیجیے۔
ہے جزا یا کوئی سزا ہے عشق
کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا ہے عشق
یا
سنتے آئے ہیں ایک بلا ہے عشق
کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا ہے عشق
کیا بتائیں تمہیں کہ کیا ہے عشق
جرمِ الفت کی ایک سزا ہے عشق
چارہ جوئی کہاں سے ہو ممکن
دردِ پیہم ہے، لا دوا ہے عشق
معذرت کہ املا کی غلطی سمیت کاپی پیسٹ کر دیا۔ یہ لفظ تمی نہیں تمہی تھا ۔
ملاحظہ کیجیے۔
بھری دنیا میں بس تمہی تو نہیں
کیوں تمہیں رب سے مانگتا ہے عشق
جی بہتر۔اب دیکھیے۔
ہم ہیں برباد عشق میں جن کے
ہم سے ہی پوچھتے کیا ہے عشق
خوبصورت خوبصورت!
الف عین — نومبر 28، 2021 8:58 صبح
جزا سزا والا مطلع ہی بہتر لگ رہا ہے
باقی تو درست ہو ہی گئی ہے غزل
صابرہ امین — نومبر 28، 2021 2:57 شام
سپاس گزار ہوں سر۔۔
صابرہ امین — نومبر 28، 2021 2:58 شام
'تمہیں' ہی درست املا ہے، جیسا کہ استادِ محترم لکھ چکے ہیں.
اوہ، ٹھیک سے سمجھ نہیں آیا تھا۔ وضاحت کا شکریہ :)
صابرہ امین — نومبر 28، 2021 3:01 شام
و علیکم السلام و رحمتہ اللّٰہ و برکاتہ
عشق نے سب مزے چکھائے ہمیں
کون کہتا ہے بے مزا ہے عشق
واااااہ خوووووب
جی شکریہ۔ آپ کی پسندیدگی تو سمجھ میں آتی ہے جناب ۔ :D
صابرہ امین — نومبر 28، 2021 3:10 شام
استادِ محترم الف عین آپ سے ایک نظر ثانی کی درخواست ہے۔
ہے جزا یا کوئی سزا ہے عشق
کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا ہے عشق
چارہ جوئی کہاں سے ہو ممکن
دردِ پیہم ہے، لا دوا ہے عشق
سب اسیرِ وفا یہ جانتے ہیں
عمر بھر قید کی سزا ہے عشق
ذرہ ذرہ ہے عشق کا داعی
ہے خدا یا خدا نما ہے عشق
کب صلہ مانگتا ہے عشقِ جنوں
بےوفاؤں سے بھی وفا ہے عشق
دنیا ہاری ہے عشق کے آگے
یہ حقیقت ہے لافنا ہے عشق
بہتا آنسو ہے یا سسکتی آہ
ایک روٹھی ہوئی ادا ہے عشق
جان دیتے ہیں عشق میں عاشق
جَبْر سے بھی کبھی جھکا ہے عشق
دل اجڑتا ہے بس محبت میں
ایسا لگتا ہے بد دعا ہے عشق
وقتِ رخصت کہا یہ عاشق نے
ہے اگر کچھ تو ابتلا ہے عشق
عشق نے سب مزے چکھائے ہمیں
کون کہتا ہے بےمزا ہے عشق
ایک تم ہی نہیں ہو دنیا میں
کیوں تمہیں رب سے مانگتا ہے عشق
ہم ہیں برباد عشق میں ان کے
ہم سے ہی پوچھتے کیا ہے عشق
زوجہ اظہر — نومبر 28، 2021 4:47 شام
صابرہ امین عمدہ غزل جیتی رہیے
عشق نے سب مزے چکھائے ہمیں
کون کہتا ہے بےمزا ہے عشق
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
صابرہ امین — نومبر 28، 2021 5:11 شام
صابرہ امین عمدہ غزل جیتی رہیے
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
بہت شکریہ زوجہ اظہر سس۔
آپ نے خوب کہا ۔سلامت رہیں ۔:love:
الف عین — نومبر 29، 2021 3:37 صبح
الحمد للہ اچھی غزل مکمل ہو گئی
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D8%B1%D8%AF%D9%90-%D9%BE%DB%8C%DB%81%D9%85-%DB%81%DB%92%D8%8C-%D9%84%D8%A7-%D8%AF%D9%88%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.117763/