ابن رضا — ستمبر 22، 2014 1:32 شام
زندگی روز نیا مجھ سے تماشا مانگے
اِک تہی دامن و بے حال سےکیا کیا مانگے
دوست کرتے ہیں اِسے موجِ سمندر کے سپرد
کشتیِ دل ہے کہ ہر آن کنارہ مانگے
مدتیں بیت گئیں ہیں مجھے آزاد ہوئے
حیف یہ خُوئے اَسیری ہے کہ آقا مانگے
مجھ سا نادار نہیں جاتا ہے اس خوف سے گھر
طفل بھوکا نہ کہیں پھر سے نوالہ مانگے
عدل اتنا نہیں ارزاں ہے کہ بے دام ملے
جب ہی منصف کا ارادہ ہے کہ تحفہ مانگے
ایک مدت سے ہے ویران صنم خانہِ دل
دستِ آزر وہی پتھر، وہی تیشہ مانگے
سید عاطف علی — ستمبر 22، 2014 1:44 شام
واہ واہ واہ۔بہت خوب صورت۔ رضا بھائی ۔لطف آگیا پڑھ کر۔بہت عمدہ ۔
خُوِ ۔ کو خوئے لکھیں۔اگر چہ باندھیں خُوِ۔
بھوکا بچہ زیادہ بہترلگے گا ۔
محمداحمد — ستمبر 22، 2014 2:11 شام
سبحان اللہ۔
کیا ہی اچھی غزل ہے۔ واہ
بہت سی داد قبول کیجے ابن رضا بھائی ۔
اللہ کرے مشق سخن زورِ قلم تیز۔
عظیم — ستمبر 22، 2014 2:12 شام
سبحان اللہ۔
کیا ہی اچھی غزل ہے۔ واہ
بہت سی داد قبول کیجے ابن رضا بھائی ۔
اللہ کرے مشق سخن زورِ قلم تیز۔
زور قلم تیز بهی ہوا کرتا ہے احمد بهائی ؟

محمداحمد — ستمبر 22، 2014 2:33 شام
زور قلم تیز بهی ہوا کرتا ہے احمد بهائی ؟
"زور" کے مراحل مکمل ہو جائیں تو "تیزی" شروع ہو جاتی ہے۔

ایوب ناطق — ستمبر 22، 2014 2:49 شام
خوب۔۔۔۔ داد قبول کیجیے۔۔
مطلع میں تہی داماں سے بہتر صورت تہی دامن ہو سکتی ہے کہ یہاں دامن کی تنگی کا اظہار مطلوب ہے کشادگی کا نہیں۔۔۔
خوئے اسیری آقا کی طالب ہے یا خوئے غلامی؟ خوئے اسیری کا تعلق قفس یا زندان کے ساتھ بہتر ہے۔۔۔
سید ذیشان — ستمبر 22، 2014 2:57 شام
بہت عمدہ
الف عین — ستمبر 22، 2014 3:05 شام
’تہی داماں و‘ سے تقطیع میں بھی مسئلہ ہو جاتا ہے، اسقاط کی بجائے ’تہی دامن و‘ یقیناً بہتر ہے۔
پڑاہے خالی صنم خانہِ دل جب سے رضا
دستِ آذر وہی پتھر، وہی تیشہ مانگے
دوسرا مصرع بے پناہ ہے، لیکن پہلا رواں نہیں۔ ’پڑا ہے‘ کی وجہ سے۔ اس مصرع کو بدل دو۔
غزل تو بہت خوب ہے۔ واہ!!
ابن رضا — ستمبر 22، 2014 4:24 شام
واہ واہ واہ۔بہت خوب صورت۔ رضا بھائی ۔لطف آگیا پڑھ کر۔بہت عمدہ ۔
خُوِ ۔ کو خوئے لکھیں۔اگر چہ باندھیں خُوِ۔
بھوکا بچہ زیادہ بہترلگے گا ۔
تشکر بسیار عاطف بھائی سلامت باشید
ابن رضا — ستمبر 22، 2014 4:28 شام
سبحان اللہ۔
کیا ہی اچھی غزل ہے۔ واہ
بہت سی داد قبول کیجے ابن رضا بھائی ۔
اللہ کرے مشق سخن زورِ قلم تیز۔
خوب۔۔۔۔ داد قبول کیجیے۔۔
مطلع میں تہی داماں سے بہتر صورت تہی دامن ہو سکتی ہے کہ یہاں دامن کی تنگی کا اظہار مطلوب ہے کشادگی کا نہیں۔۔۔
خوئے اسیری آقا کی طالب ہے یا خوئے غلامی؟ خوئے اسیری کا تعلق قفس یا زندان کے ساتھ بہتر ہے۔۔۔
پسندآوری کا شکریہ خوش رہیے.
ابن رضا — ستمبر 22، 2014 4:29 شام
’تہی داماں و‘ سے تقطیع میں بھی مسئلہ ہو جاتا ہے، اسقاط کی بجائے ’تہی دامن و‘ یقیناً بہتر ہے۔
پڑاہے خالی صنم خانہِ دل جب سے رضا
دستِ آذر وہی پتھر، وہی تیشہ مانگے
دوسرا مصرع بے پناہ ہے، لیکن پہلا رواں نہیں۔ ’پڑا ہے‘ کی وجہ سے۔ اس مصرع کو بدل دو۔
غزل تو بہت خوب ہے۔ واہ!!
سپاس گزار ہوں استاد محترم. سلامت رہیے
خالد محمود چوہدری — ستمبر 22، 2014 5:03 شام
بہت خوبصورت، کیاہی عمدہ ہے، اللہ خوش رکھے، جیتے رہیئے
ابن رضا — ستمبر 22، 2014 5:45 شام
بہت خوبصورت، کیاہی عمدہ ہے، اللہ خوش رکھے، جیتے رہیئے
پسندآوری کے لیے ممنون ہوں. سلامت رہیے
ابن رضا — ستمبر 22، 2014 9:39 شام
۔
پڑاہے خالی صنم خانہِ دل جب سے رضا
دستِ آذر وہی پتھر، وہی تیشہ مانگے
دوسرا مصرع بے پناہ ہے، لیکن پہلا رواں نہیں۔ ’پڑا ہے‘ کی وجہ سے۔ اس مصرع کو بدل دو۔
غزل تو بہت خوب ہے۔ واہ!!
پھر تمنائے صنم جاگ اٹھی ہے دل میں
دستِ آذر وہی پتھر وہی تیشہ چاہے
عظیم — ستمبر 22، 2014 9:56 شام
"زور" کے مراحل مکمل ہو جائیں تو "تیزی" شروع ہو جاتی ہے۔
زور کے مراحل پورے ہو جائیں تو زور نہیں بچتا -
الف عین — ستمبر 23، 2014 3:00 صبح
دل کا بت خانہ کئی روز سے خالی ہے رضا
کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ابن رضا — ستمبر 23، 2014 10:03 صبح
دل کا بت خانہ کئی روز سے خالی ہے رضا
کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ایک مدت سے ہے ویران صنم خانہِ دل
دستِ آذر وہی پتھر، وہی تیشہ مانگے
محمد اسامہ سَرسَری — ستمبر 23، 2014 3:56 شام
بہت ہی عمدہ غزل ہے۔ ماشاءاللہ!
عمر سیف — ستمبر 23، 2014 4:28 شام
مجھ سا نادار نہیں جاتا ہے اس خوف سے گھر
بھوکا بچہ نہ کہیں پھر سے نوالہ مانگے
کیا کہنے ۔۔۔ بہت خوب
ابن رضا — ستمبر 23، 2014 4:46 شام
بہت ہی عمدہ غزل ہے۔ ماشاءاللہ!
پسند آوری کا شکریہ. سلامت رہیے