دل ِناز تھوڑا کشادہ تو کیجے
محبت ذرا اور زیادہ تو کیجے
دوسرے مصرعے کی تقطیع پر غور کیجئے گا۔۔۔ زیادہ ۔۔۔ کی "ی " نہیں گرنی چاہئے۔۔۔ ۔ایک مثال دے رہا ہوں، اصلاح کے طور پر یہی مصرع لکھ دیا جو میں لکھ رہا ہوں تو غلط بھی ہوسکتا ہے: وفا کو ذرا سا زیادہ تو کیجے ۔۔۔ (یہاں "ی" نہیں گرتی) ہم آئے ہیں عاجز فریبِ سخن سے
کسی دن کوئی بات سادہ تو کیجے
فریبِ سخن قابل ِ غور ہے۔ سادہ کا متضاد پیچیدہ ہوتا ہے، نہ کہ فریب۔۔۔۔
یہ مانا ہے دشوار ترکِ تمنا
مگر بندہ پرور ارادہ تو کیجے
۔۔۔ ۔ترکِ تمنا کی جگہ ترکِ عشق یا ترکِ محبت ہوتو واضح ہوجائے گا۔۔۔ یہ مانا ہے دشوار۔۔۔ ویسے بھی قدرے غیر فصیح لگتا ہے، یعنی الفاظ آگے پیچھے کرکے اسے اور بہتر بنالیجئے تو ٹھیک رہے گا۔
میسر ہے ساغر، جنوں بھی قلم بھی
مراعات سے استفادہ تو کیجے
کاشف اسرار احمد سے متفق ہوں۔۔۔ لیکن ایک اضافہ بھی کرتا چلوں کہ چلئے مان لیتے ہیں ساغر، جنوں اور قلم سب کی سب مراعات ہیں، تو ان سب مراعات کا آپس میں تعلق کیا ہے؟ ساغر ، جنوں اور قلم تینوں الگ الگ دنیاؤں کے امیدوار دکھائی دیتے ہیں۔
ہوا لے نہ جائے یہ نامہ کہیں اور
سو ہمراہ کوئی پیادہ تو کیجے
۔۔۔۔ پیادہ سپاہی کو کہتے ہیں، سو مضمون ہی پیچیدہ ہوگیا۔۔۔
ضرورت نہیں اب خلوص و وفا کی
وہی جعلسازی لبادہ تو کیجے
۔۔۔ شعر کی خوبصورتی اور معنوں پر اپنے طور پر غور کرنا اتنا آسان نہیں جیسا کہ نثر میں ہوا کرتا ہے، پہلے اور دوسرے مصرعے کو آپس میں ملا کر اس کی نثر بنا کر دیکھ لیجئے، پیغام یہ ہوا کہ خلوص و وفا کی ضرورت ہی نہیں ہے اور جعلسازی کو لبادہ بنا لیا جائے تو بہت اچھی بات ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ خلوص و وفا کی جتنی ضرورت آج ہے، اتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔۔۔
خدایا حدِ جاں دھواں ہی دھواں ہے
کبھی کن فکاں کا اعادہ تو کیجے
ایک بات تو یہ کہ حد کے "د" پر میں نے شد پڑھی ہے، وہ غلط ہوسکتا ہے، حدِ جاں شاید درست ہو، لیکن کن فکاں کا اعادہ تو پوری کائنات آپ کو گواہی دے گی، مسلسل ہو رہا ہے۔ اقبال نے اسی مضمون پر دیکھئے، کیا لکھا ہے:
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون ۔۔۔
اپنے اس سوا ل کے جواب میں جناب@شاہد شہنواز بھائی کا مراسلہ دیکھیں۔
یعنی ساری کی ساری غزل کٹہرے میں ...
بہرحال آپ دونوں کی توجہ کے لیےبہت مشکور ہوں .
مطلع میں زیادہ کی "ی" کو نہیں گرایا گیا بلکہ "اور" کو "فا" کے وزن پر لیا ہے
"سادہ " کا عین متضاد یہاں مقصود بھی نہیں ہے "فریبِ سخن" اسی طرح ہے جیسے سادگی سے تصنع، پرکاری، بناوٹ یا فریب کاری وغیرہ وغیرہ .
"ترکِ تمنا "کہنے میں کیا حرج ہے میرے نزدیک تو یہ ترکیب زیادہ وسعت کی حامل ہے .تمنا تو کوئی بھی ہو سکتی ہے جبکہ ترکِ عشق یا ترکِ محبت کا استعمال شعر کے مفہوم کو محدود کر دے گا
ساغر ، جنوں اور قلم کے کمبی نیشن سے تو شاہکار تخلیق ہو سکتے ہیں مگر افسوس ہمارے شاعر حضرات استفادہ کرنے کو تیار ہی نہیں

ویسے تو پیادہ، قاصد کے متبادل کے طور پر لیا گیاہے جو کہ غلط بھی ہو سکتا ہے .
اگر لکھنے والے کو خلوص و وفا کی ضرورت ہی نہیں تو زبردستی تو نہیں کی جا سکتی نا

کن فکاں والے شعر میں پہلے مصرع پر بھی ذرا غور فرمائیے ، خدا سےصرف اپنی ہستی کی ترتیب ِنو کی خواہش کی گئی ہے . کن فیکون کی کائناتی گتھیاں نہیں سلجھائی گئیں
.
باقی بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ موجود ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے آپ سب سے رہنمائی ملتی ہے کہ ایک قاری کس نہج پر سوچ رہا ہے .بہت شکریہ