دل پہ کیا کیا عتاب لایا ہے

ایم اے راجا — دسمبر 15، 2011 11:21 صبح
آجکل استاد محترم پتہ نہیں کہاں گم ہیں
الف عین — دسمبر 21، 2011 1:48 شام
کہاں گم تھا؟ مجھے خود بھی علم نہیں!!!
بہر حال
دل پہ کیا کیا عتاب لایا ہے
عشق گویا عذاب لایا ہے
//درست
ہر سو بکھری ہیں کرچیاں دل کی
ہجر وہ انقلاب لایا ہے
//انقلاب؟ اس سے کیا مراد ہے؟ کرچیوں سے کیا تعلق؟ اس کو بدل دو۔
بیچ کر آدمی سکونِ قلب
بدلے میں صرف خواب لایا ہے
//درست
جو بھی لوٹا ہے شہرِ جاناں سے
ساتھ اپنے سراب لایا ہے
//اس کو بھی بدل دو تو بہتر ہے۔ شہر جاناں میں کیا سراب بکتے ہیں؟
کون دیتا ہے ساتھ صدیوں تک
آنکھ میں کیوں تو آب لایا ہے​
//آب لایا‘ سے یہاں مراد ’آنسو لانا‘ ہے، لیکن یہ محاورہ نہیں۔ اس کو بھی بدل دو۔ موجودہ حالت میں روانی اس طرح ممکن ہے کہ یوں کہا جائے۔
کیوں تو آنکھوں میں آب لایا ہے۔
اس سے یہ بات بھی درست ہو جاتی ہے کہ محبوب یک چشم نہیں ہے!!!
بحرِ ظلمت میں روشنی کر دی
ہاتھ میں آفتاب لایا ہے
//بحرِ ظلمت کیوں؟ دشتِ ظلمت بہتر ہو گا۔
دشت ظلمت میں روشنی کے لئے
اس سے بہتر کوئی اور صورت بھی ہو سکتی ہے، جیسے
اندھی راتوں میں روشنی کے لئے
کھول کر آنکھ دیکھ تو راجا
سبز موسم گلاب لایا ہے
// درست
ایم اے راجا — دسمبر 21، 2011 7:25 شام
شکریہ استاد محترم، اس و دوبارہ دیکھتا ہوں
ایم اے راجا — جنوری 1، 2012 4:13 شام
کہاں گم تھا؟ مجھے خود بھی علم نہیں!!!
بہر حال
دل پہ کیا کیا عتاب لایا ہے
عشق گویا عذاب لایا ہے
//درست
ہر سو بکھری ہیں کرچیاں دل کی
ہجر وہ انقلاب لایا ہے
//انقلاب؟ اس سے کیا مراد ہے؟ کرچیوں سے کیا تعلق؟ اس کو بدل دو۔
بیچ کر آدمی سکونِ قلب
بدلے میں صرف خواب لایا ہے
//درست
جو بھی لوٹا ہے شہرِ جاناں سے
ساتھ اپنے سراب لایا ہے
//اس کو بھی بدل دو تو بہتر ہے۔ شہر جاناں میں کیا سراب بکتے ہیں؟
کون دیتا ہے ساتھ صدیوں تک
آنکھ میں کیوں تو آب لایا ہے​
//آب لایا‘ سے یہاں مراد ’آنسو لانا‘ ہے، لیکن یہ محاورہ نہیں۔ اس کو بھی بدل دو۔ موجودہ حالت میں روانی اس طرح ممکن ہے کہ یوں کہا جائے۔
کیوں تو آنکھوں میں آب لایا ہے۔
اس سے یہ بات بھی درست ہو جاتی ہے کہ محبوب یک چشم نہیں ہے!!!
بحرِ ظلمت میں روشنی کر دی
ہاتھ میں آفتاب لایا ہے
//بحرِ ظلمت کیوں؟ دشتِ ظلمت بہتر ہو گا۔
دشت ظلمت میں روشنی کے لئے
اس سے بہتر کوئی اور صورت بھی ہو سکتی ہے، جیسے
اندھی راتوں میں روشنی کے لئے
کھول کر آنکھ دیکھ تو راجا
سبز موسم گلاب لایا ہے
// درست

یہ شعر اگر یوں کر دیا جائے تو؟

دل کی دنیا بدل گئی یکسر
ہجر وہ انقلاب لایا ہے
اور یہ شعر آ پ کی اصلاح کے مطابق یوں
کون دیتا ہے ساتھ صدیوں تک
کیوں تو آنکھوں میں آب لایا ہے
اوردوسرا شعر یوں
چھٹ گئی تیرگی مرے گھر کی
گویا وہ آفتاب لایا ہے
ایم اے راجا — جنوری 5، 2012 5:58 شام
سر یہاں تشریف لائیے گا، یہ غزل بھی آپ کی منتظر ہے
الف عین — جنوری 6، 2012 4:45 صبح
دوسرا اور تیسرا شعر تو قابل قبول ہے، لیکن پہلے میں میرا اعتراض اب بھی باقی ہے۔ معنوی اعتبار سے ’انقلاب‘ کیوں؟
ایم اے راجا — جنوری 12، 2012 5:28 صبح
سر اگر کسی خطہ یا جگہ پر انقلاب آئے تو کیا وہاں کے حالات بدل نہیں جاتے؟ ہجر کے انقلاب لانے سے پہلے دل ایک ہنستا بستا شہر تھا، اور ہجر کے انقلاب کے بعد اس کی دنیا ایک دم بدل گئی، تمام طور طریقے وغیرہ وغیرہ، سر انقلاب کو معنوی طور پر یوں، یہاں استعمال کرنا ٹھیک نہیں، مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا، برائے کرم اس پر روشنی ڈالیئے گا۔ شکریہ۔
الف عین — جنوری 12، 2012 3:16 شام
بھئ ایسے الفاظ استعماک کرنے چاہئیں جن کا مطلب ہر ایک یکساں سمجھے۔ ’انقلاب‘ کا درست مطلب تو واقعی تبدیلی ہے، لیکن اس کو بیشتر مثبت تبدیلی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب کہ ہجر کے ذریعے تبدیلی جو بھی ہوگی، وہ منفی ہی کہی جائے گی۔اگر تم بضد ہو تو چلنے دو، ایسا بھی نہیں کہ قبول ہی نہ کیا جا سکے یہ شعر۔
ایم اے راجا — جنوری 20، 2012 5:47 شام
شکریہ سر، اب مجھے باریک بینی سمجھ آ گئی انقلاب
ایم اے راجا — جنوری 20، 2012 5:48 شام
شکریہ سر، اب مجھے باریک بینی سمجھ آ گئی انقلاب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84-%D9%BE%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%B9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92.48818/page-2