آجکل استاد محترم پتہ نہیں کہاں گم ہیں
بہر حال
دل پہ کیا کیا عتاب لایا ہے
عشق گویا عذاب لایا ہے
//درستہر سو بکھری ہیں کرچیاں دل کی
ہجر وہ انقلاب لایا ہے
//انقلاب؟ اس سے کیا مراد ہے؟ کرچیوں سے کیا تعلق؟ اس کو بدل دو۔بیچ کر آدمی سکونِ قلب
بدلے میں صرف خواب لایا ہے
//درستجو بھی لوٹا ہے شہرِ جاناں سے
ساتھ اپنے سراب لایا ہے
//اس کو بھی بدل دو تو بہتر ہے۔ شہر جاناں میں کیا سراب بکتے ہیں؟کون دیتا ہے ساتھ صدیوں تک
آنکھ میں کیوں تو آب لایا ہے
//آب لایا‘ سے یہاں مراد ’آنسو لانا‘ ہے، لیکن یہ محاورہ نہیں۔ اس کو بھی بدل دو۔ موجودہ حالت میں روانی اس طرح ممکن ہے کہ یوں کہا جائے۔کیوں تو آنکھوں میں آب لایا ہے۔
اس سے یہ بات بھی درست ہو جاتی ہے کہ محبوب یک چشم نہیں ہے!!!
بحرِ ظلمت میں روشنی کر دی
ہاتھ میں آفتاب لایا ہے
//بحرِ ظلمت کیوں؟ دشتِ ظلمت بہتر ہو گا۔دشت ظلمت میں روشنی کے لئے
اس سے بہتر کوئی اور صورت بھی ہو سکتی ہے، جیسے
اندھی راتوں میں روشنی کے لئے
کھول کر آنکھ دیکھ تو راجا
سبز موسم گلاب لایا ہے
// درست