دیا بجھانے کی ضد میں ہیں وہ

امان زرگر — جنوری 21، 2017 4:00 شام
دیا بجھانے کی ضد ہے ان کو.
اندھیرا لانے کی ضد ہے ان کو.
اجاڑ کر میرے دل کی بستی.
نئے ٹھکانے کی ضد ہے ان کو.
نگاہ و دل جن کے منتظر تھے.
نظر چرانے کی ضد ہے ان کو.
نیا ہے منظر نئے زمانے.
کہاں پرانے کی ضد ہے ان کو.
بدل کے چرخ کہن کو نو سے.
ستم اٹھانے کی ضد ہے ان کو.
بھلا سا دنیائے آب و گل میں.
نگر بسانے کی ضد ہے ان کو.​
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 21، 2017 4:27 شام
اجاڑ کر ہستیء دل ما.

اجاڑ کر میرے دِل کی ہستی​
کیسا رہے گا؟؟؟؟
امان زرگر — جنوری 21، 2017 5:06 شام

اجاڑ کر میرے دِل کی ہستی​
کیسا رہے گا؟؟؟؟
ممنون ہوں قدرے مسئلہ تھا اس مصرع میں، آپ کا احسان مند ہوں. تعمیل کر دی آپ کے حکم کی.
امان زرگر — جنوری 21، 2017 5:10 شام
حکم کی تعمیل کر دی سر راحیل فاروق صاحب
امان زرگر — جنوری 21، 2017 5:23 شام
سر الف عین صاحب نظر کرم کے لئے ملتمس ہوں
امان زرگر — جنوری 21، 2017 5:32 شام
بدل کے چرخ کہن کو نو سے.
ستم بڑھانے کی ضد میں ہیں وہ.
‏(‏ستم اٹھانے کی ضد میں ہیں وہ)
ذرا اس کو بھی دیکھ لیں تو راحیل فاروق ‏@محمد خلیل الرحمن الف عین
امان زرگر — جنوری 22، 2017 2:35 صبح
کیا غزل میں اشعار کی ترتیب بھی کوئی اہمیت رکھتی ہے؟ یا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسا شعر غزل میں کس جگہ پر ہے
الف عین — جنوری 22، 2017 4:09 صبح
کیا غزل میں اشعار کی ترتیب بھی کوئی اہمیت رکھتی ہے؟ یا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسا شعر غزل میں کس جگہ پر ہے
اس وقت ہی کچ اہمیت ہو سکتی ہے جب ایک ہی قافیہ دو اشعار میں مسلسل آئے۔ یا دو اشعار میں تسلسل سے ایک ہی خیال کی گونج ہو ۔ اس صورت میں فاصلہ رکھنا مناسب ہے۔
اس غزل کی زمین ہی مجھے پسند نہیں آئی۔ محاورہ اور روانی دونوں بہتر ہو سکتی ہے اگر اس زمین کو، یا ردیف کو ’ضد ہے ان کو‘ کر دیا جائے۔
اب اشعار کو پھر دیکھیں
اجاڑ کر میرے دل کی ہستی.
نئے ٹھکانے کی ضد میں ہیں وہ
ہستی کیوں؟ یہاں ’بستی‘ زیادہ مناسب لگتا ہے۔
بھلا سا دنیائے آب و گل میں.
نگر بسانے کی ضد میں ہیں وہ.
یہں دوسرے مصرع میں ہندی کا نگر ہے جو پہلے مصرع کی دنیائے آب و گل کی ترکیب سے مناسبت نہیں رکھتا۔ اس کو بدل دو۔
امان زرگر — جنوری 22، 2017 10:35 صبح
ردیف کے حوالے سے تعمیل کر دی. مگر نگر کے متبادل کے حوالے سے مدد کا طالب ہوں
اس وقت ہی کچ اہمیت ہو سکتی ہے جب ایک ہی قافیہ دو اشعار میں مسلسل آئے۔ یا دو اشعار میں تسلسل سے ایک ہی خیال کی گونج ہو ۔ اس صورت میں فاصلہ رکھنا مناسب ہے۔
اس غزل کی زمین ہی مجھے پسند نہیں آئی۔ محاورہ اور روانی دونوں بہتر ہو سکتی ہے اگر اس زمین کو، یا ردیف کو ’ضد ہے ان کو‘ کر دیا جائے۔
اب اشعار کو پھر دیکھیں
اجاڑ کر میرے دل کی ہستی.
نئے ٹھکانے کی ضد میں ہیں وہ
ہستی کیوں؟ یہاں ’بستی‘ زیادہ مناسب لگتا ہے۔
بھلا سا دنیائے آب و گل میں.
نگر بسانے کی ضد میں ہیں وہ.
یہں دوسرے مصرع میں ہندی کا نگر ہے جو پہلے مصرع کی دنیائے آب و گل کی ترکیب سے مناسبت نہیں رکھتا۔ اس کو بدل دو۔
الف عین — جنوری 22، 2017 11:07 صبح
کچھ سوچو میں بھی سوچتا ہوں
امان زرگر — جنوری 22، 2017 11:21 صبح
راحیل فاروق صاحب نے تو ادھر کا راستہ ہی چھوڑ دیا. گستاخی پہ دست بستہ معافی
امان زرگر — جنوری 22، 2017 12:19 شام
سر الف عین صاحب ، سر آپ کی اردو زبان کے لئے خدمات کے بارے میں نیٹ پہ پڑھا. یقنا آپ کی کوششیں قابل قدر ہیں. اللہ آپ کی عمر اور کام میں برکت دے
محمد ریحان قریشی — جنوری 22، 2017 4:59 شام
ردیف کے حوالے سے تعمیل کر دی. مگر نگر کے متبادل کے حوالے سے مدد کا طالب ہوں
عربی لفظ بلد استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بطورِ سند قآنی کا مندرجہ ذیل شعر ملاحظہ فرمائیں
؎
بہ ہر بلد بہ ہر زماں بہ ہر زمیں بہ ہر مکاں
کنند مدحِ او بہ جاں بہ طرزِ حقگزار ہا
ہر بستی ، زماں ، زمین اور مکاں میں وہ مخلصوں کی طرز پر اس کی مدح کرتے ہیں۔
امان زرگر — جنوری 22، 2017 5:56 شام
شکر گزار ہوں لیکن فارسی کی ترکیب سے اگر ہندی لفظ مناسبت نہیں رکھتا تو عربی لفظ کی مناسبت کیونکر؟ محمد ریحان قریشی
امان زرگر — جنوری 22، 2017 6:08 شام
برائے مہربانی یہ بھی کوئی بتا دے کہ بلد یا نگر کا اردو زبان میں متبادل کیا ہے؟ جبکہ 'شہر یا شھر' بھی فارسی زبان کا لفظ ہے.
محمد ریحان قریشی — جنوری 22، 2017 6:25 شام
شکر گزار ہوں لیکن فارسی کی ترکیب سے اگر ہندی لفظ مناسبت نہیں رکھتا تو عربی لفظ کی مناسبت کیونکر؟ محمد ریحان قریشی
عربی اور فارسی ملتی جلتی زبانیں ہیں شاید اس لیے۔
؎
ألا یا أیها السّاقی! أدر کأساً وناوِلها!
که عشق آسان نمود اول، ولی افتاد مشکل‌ها
(حافظ کے دیوان کا پہلا مصرع عربی میں ہے اور دوسرا فارسی میں)
امان زرگر — جنوری 22، 2017 6:42 شام
عربی اور فارسی ملتی جلتی زبانیں ہیں شاید اس لیے۔
؎
ألا یا أیها السّاقی! أدر کأساً وناوِلها!
که عشق آسان نمود اول، ولی افتاد مشکل‌ها
(حافظ کے دیوان کا پہلا مصرع عربی میں ہے اور دوسرا فارسی میں)
بجا مگر اردو غزل میں فارسی ہندی تراکیب کی باہمی مناسبت پہ قدغن کا فتوی مگر پھر بھی ترتیب نہ پا سکے گا شاید!!!
محمد ریحان قریشی — جنوری 22، 2017 6:55 شام
بجا مگر اردو غزل میں فارسی ہندی تراکیب کی باہمی مناسبت پہ قدغن کا فتوی مگر پھر بھی ترتیب نہ پا سکے گا شاید!!!
ع
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
امان زرگر — جنوری 23، 2017 2:00 صبح
ع
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
ارے آپ تو خفا ہو گئے معذرت کہ یہ محفل سیکھنے کی ہے
الف عین — جنوری 23، 2017 5:02 صبح
تارسی اور عربی کا ملاپ ضرور ہو سکتا ہے، لیکن ہندی کا نہیں، اس لحاظ سے بلد نگر کی بہ نسبت زیادہ قابل قبول ہے۔ لیکن کچھا ور لفظ ہو تو بہتر ہے۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%A8%D8%AC%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%B6%D8%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%88%DB%81.94333/