راہنمائی درکار ہے

مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 13، 2013 6:15 شام
برادر مزمل ۔ فاعلتن بھی کوئی حصہ ہوتا ہے کیا ؟
شاید کہیں یاد پڑتا ہے۔ نہ جانے کہاں ۔۔۔ کوئی وضاحت اگر ہو تو خوب ہو ۔مثلا"
گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ
وائے وہ رہرو کہ ہے ، منتظرِ راحلہ
فاعلتن فاعلن ۔ فاعلتن فاعلن

جی یہ بھی رکن ہے۔ البتہ عروض میں اسے فاعلتن نہیں بلکہ مُفتَعِلُن لکھا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ رمل سے نہیں بلکہ رجز سے آیا ہے۔
غالب کی ایک بہت ہی مشہور غزل:
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
روئیں گے ہم ہزار بار۔۔۔۔الخ
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 14، 2013 9:24 شام
جی یہ بھی رکن ہے۔ البتہ عروض میں اسے فاعلتن نہیں بلکہ مُفتَعِلُن لکھا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ رمل سے نہیں بلکہ رجز سے آیا ہے۔
غالب کی ایک بہت ہی مشہور غزل:
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
روئیں گے ہم ہزار بار۔۔۔ ۔الخ
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
یہ تو چھ حرفی کہلائے گا یا سات حرفی رکن میں کاٹ پیٹ ہوئی ہے؟
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 14، 2013 9:25 شام
مزمل شیخ بسمل بھائی! براہِ مہربانی مثنوی اور قطعہ کی تعریف آسان انداز میں بتائیے، مجھے شوقِ شاعری میں شامل کرنی ہے۔ جزاکم اللہ خیرا۔
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2013 9:26 شام
یہ تو چھ حرفی کہلائے گا یا سات حرفی رکن میں کاٹ پیٹ ہوئی ہے؟

جی یہ مزاحف ہے۔ رجز مستفعلن سات حرفی سے ف گرایا تو مستعِلُن بوزن مفتعلن بن گیا۔
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 14، 2013 9:28 شام
مزمل شیخ بسمل بھائی! براہِ مہربانی مثنوی اور قطعہ کی تعریف آسان انداز میں بتائیے، مجھے شوقِ شاعری میں شامل کرنی ہے۔ جزاکم اللہ خیرا۔

مختصر اور آسان عرض کروں تو:
مثنوی ایسی نظم یا ایسے اشعار ہیں جس کے دو مصرعے ہم قافیہ ہوں۔ ہر شعر کا اپنا قافیہ ہو اور ہر شعر کا قافیہ دوسرے سے جدا ہو۔
قطعہ سے مراد وہ دو، یا چند اشعار جو ایک مکمل مطلب رکھتے ہوں۔ یعنی بغیر مکمل قطعہ پڑھے ایک شعر کا مطلب سمجھ نہ آسکے، ایسے اشعار قطعہ کہلاتے ہیں۔
قطعہ کا مفہوم آجکل تھوڑا بدل گیا ہے، گو کہ پہلے کچھ اور تھا۔ پہلے قطعہ کی شرط یہ تھی کہ اس میں مطلع نہیں ہوگا، قطعہ غزل کے درمیان یا اس کا حصہ نہیں ہوگا۔ وغیرہ۔ لیکن اب قطعہ غزل کے درمیان بھی ہوتا ہے، اس میں مطلع بھی آ جاتا ہے۔ اور آج قطعہ کو صرف چار مصرعوں تک محدود کردیا گیا ہے جبکہ پہلے ایسی کوئی شرط نہیں تھی۔ سیکڑوں اشعار بھی قطعہ ہوتے تھے۔ مختصر یہ کہ ایک سے زائد ایسے اشعار جو مکمل پابند نظم تو نہ ہوں مگر ایک دوسرے سے ایسا تعلق رکھتے ہوں کے ایک شعر سے مطلب واضح نہ ہوتا ہو، بلکہ آدھی بات ایک شعر میں، اور آدھی دوسرے شعر میں کہی گئی ہو۔ ایسے اشعار قطعہ کہلاتے ہیں۔
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 31، 2013 10:45 صبح
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
پورا شعر اور شاعر کا نام درکار ہے؟
مزمل شیخ بسمل
مہدی نقوی حجاز
سید عاطف علی
سید عاطف علی — اکتوبر 31، 2013 10:51 صبح
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
پورا شعر اور شاعر کا نام درکار ہے؟
مزمل شیخ بسمل
مہدی نقوی حجاز
سید عاطف علی
وہ آئے بزم میں ،اتنا تو میر نے دیکھا۔۔۔
میر کا پورا نا م بتاؤں؟۔ویسے اس کا کوئی حوالہ فراہم نہیں کر سکتا۔ محض یاد داشت کی بیناد پر لکھ دیا۔آداب۔
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 31، 2013 10:54 صبح
وہ آئے بزم میں ،اتنا تو میر نے دیکھا۔۔۔
میر کا پورا نا م بتاؤں؟۔ویسے اس کا کوئی حوالہ فراہم نہیں کر سکتا۔ محض یاد داشت کی بیناد پر لکھ دیا۔آداب۔
جزاکم اللہ خیرا۔
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 31، 2013 1:21 شام
وہ آئے بزم میں اتنا تو برقؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
برقؔ لکھنوی
مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 31، 2013 3:51 شام
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
پورا شعر اور شاعر کا نام درکار ہے؟
مزمل شیخ بسمل
مہدی نقوی حجاز
سید عاطف علی
مدرک کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا! :)
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 31، 2013 4:24 شام
وہ آئے بزم میں ،اتنا تو میر نے دیکھا۔۔۔
میر کا پورا نا م بتاؤں؟۔ویسے اس کا کوئی حوالہ فراہم نہیں کر سکتا۔ محض یاد داشت کی بیناد پر لکھ دیا۔آداب۔
وہ آئے بزم میں اتنا تو برقؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
برقؔ لکھنوی
مدرک کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا! :)
ائمۂ ثلاثہ کے اقوالِ ثلاثہ۔:)
مہدی نقوی حجاز — اکتوبر 31، 2013 4:27 شام
ائمۂ ثلاثہ کے اقوالِ ثلاثہ۔:)
ویسے اگر دو ائمہ کا اختلاف محض تخلص پر ہی ہے تو پھر یہ اختلاف مٹانے کے لیے تیسرا حقیر اس شعر کو یوں کر دیتا ہے:
وہ آئے بزم میں اتنا حجازؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
:) :)
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 31، 2013 7:24 شام
ویسے اگر دو ائمہ کا اختلاف محض تخلص پر ہی ہے تو پھر یہ اختلاف مٹانے کے لیے تیسرا حقیر اس شعر کو یوں کر دیتا ہے:
وہ آئے بزم میں اتنا حجازؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
:) :)
اب پتا نہیں برقِ میر حجاز پر گری ہے یا برق میرِ حجاز بنا تھا۔:)
الف عین — نومبر 1، 2013 10:08 صبح
چوتھے امام کا ووٹ دوسرے امام کے حق میں۔ شعر برق کا ہے
الف عین — نومبر 1، 2013 10:08 صبح
چوتھے امام کا ووٹ دوسرے امام کے حق میں۔ شعر برق کا ہے
محمد اسامہ سَرسَری — نومبر 1، 2013 10:10 صبح
چوتھے امام کا ووٹ دوسرے امام کے حق میں۔ شعر برق کا ہے
جزاکم اللہ خیرا۔
استاد جی! برق کے اشعار فورم پر نہیں مل رہے مجھے یا شامل نہیں کیے گئے اب تک؟
الف عین — نومبر 2، 2013 6:02 صبح
جزاکم اللہ خیرا۔
استاد جی! برق کے اشعار فورم پر نہیں مل رہے مجھے یا شامل نہیں کیے گئے اب تک؟
اگر تم کو مل جائیں تو ضرور شامل کرو۔
محمد اسامہ سَرسَری — نومبر 2، 2013 3:09 شام
اگر تم کو مل جائیں تو ضرور شامل کرو۔
ان شاء اللہ تعالیٰ۔
محمد اسامہ سَرسَری — نومبر 24، 2013 3:08 شام
قطعہ اور رباعی میں کیا فرق ہے؟
تفصیلی جواب مطلوب ہے۔
سید عاطف علی — نومبر 24، 2013 3:34 شام
قطعہ تو عموماً غزل (یا قصیدے ) کا حصہ (قطعہ) ہوتا ہے جس میں غزل کی پوری شروط نہ پائی جائیں۔ لیکن جزوی پائی جایئں۔مثلاً مطلع مقطع نہ ہونا وغیرہ ۔
جبکہ رباعی کی شروط میں ہے کے پہلا دورسرا اور چوتھا مصرع میں قافیہ اور ردیف بھی پابند ہو۔۔اکثر ماہرین کے نزدیک اوزان بھی متعین ہیں جن کی تعداد میں کل چوبیس ہیں جو ایک ہی رباعی میں جمع کیے جاسکتے ہیں۔
ان ہی ماہرین کی نظر میں ان چوبیس بحور کے علاوہ کہی گئی رباعی در حقیقت رباعی ہی نہیں۔اسن بحور او راوزان کی کی بحث قدرے پیچیدہ ہے ۔اور سب لاحول ولا قوۃ الا باللہ کےقریب قریب ہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92.61093/page-3