میرے خیال میں کئی عربی الاصل الفاظ ایسے ہیں جن میں پے در پے تین حرکات وارد ہوتی ہیں، اردو میں ان کو دونوں طرح سے استعمال کیا جاتا ہے یعنی تین حرکات کے ساتھ بھی اور درمیانی حرکت کو ساکن کر کے بھی جیسے رَمَضَان ہے اسی طرح کے دیگر الفاظ میں حَرَکَت اور بَرَکَت وغیرہ ہیں۔
ریختہ سے کلاسیکی اُستاد آبرو شاہ مبارک کا ایک شعر ملا ہے، قطع نظر اس کے کہ 'رووَتا' اور 'سیں' اب اردو میں متروک ہیں، اس میں رمضان میم کے سکون سے بندھا ہے۔
عید کے دن رووَتا ہے ہجر سیں رمضان کے
بے نصیب اس شیخ کی دیکھو عجب فہمید ہے
اسی طرح وہاں سے 'رمضان' میم سکون کےساتھ اور حرکت اور برکت کے دوسرے حرف کے سکون کے ساتھ مزید مثالیں مل جائیں گی۔
