رہنے لگے ہیں میز پہ صفحات منتشر

سید ذیشان — فروری 11، 2013 4:39 شام
مجھ کو جلا کے: "اب تو کہانی خَتَم ہوئی!"​
دل کے ہَوا سے پھر ہوئے ذرات منتشر​

اس شعر کو دوبارہ دیکھتے ہوئے لگا کہ شائد ختم کا تلفط غلط ہے اس لئے اس کے الفاظ کی ترتیب کو تبدیل کر دیا ہے:​

مجھ کو جلا کے: "ختم کہانی تو اب ہوئی!"​
دل کے، ہَوا سے، پھر ہوئے ذرات منتشر​

محمد بلال اعظم — فروری 11، 2013 4:41 شام
واہ
اچھی غزل ہے ذیش بھائی۔
داد قبول کریں۔
سید ذیشان — فروری 12، 2013 11:42 صبح
واہ
اچھی غزل ہے ذیش بھائی۔
داد قبول کریں۔

شکریہ ادیب میاں :)
الشفاء — فروری 12، 2013 12:22 شام
تھا یہ خیال، داد میں لکھوں گا ایک شعر
پوری غزل پڑھی تو خیالات منتشر۔۔۔
واہ واہ۔ بہت خوب کہا ہے جناب۔۔۔
سید ذیشان — فروری 12، 2013 12:31 شام
تھا یہ خیال، داد میں لکھوں گا ایک شعر
پوری غزل پڑھی تو خیالات منتشر۔۔۔
واہ واہ۔ بہت خوب کہا ہے جناب۔۔۔

بہت شکریہ جناب۔ یہ شعری داد دینے کی روایت کافی پسند آئی :)
محسن وقار علی — فروری 12، 2013 3:29 شام
:khoobsurat:
نامعلوم اول — فروری 12، 2013 3:46 شام
ہاہاہا ہاں مقصد یہی تھا۔ لگتا ہے مجھے فارسی سے دور ہی رہنا چاہیے :)
فارسی سے دور رہنا تو کوئی حل نہ ہوا۔ استاد بننے کے لیے سیکھنا تو پڑے گا! زیادہ نہیں بس حافظ اور سعدی کا کچھ مطالعہ کر لیجئے۔ بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے۔ ان دونوں شعراء کے اردو ترجمےاور تشریحات بآسانی دستیاب ہیں۔ ایسا کرنے سےفارسی الفاظ اور محاورات کا ایسا بے بدل ذخیرہ ہاتھ آئے گا کہ اپنی بات بیان کرنے میں کافی سہولت ہو گی۔مزید یہ کہ شعر کا وزن پورا کرنے کے لیے بھرتی کے الفاظ کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔ موتی سے الفاظ اور تراکیب غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے سامنے موجود رہیں گے!
محمود احمد غزنوی — فروری 12، 2013 3:53 شام
سن کر مشاعرے میں غزل zeashبھائی کی
شعراء کے ساتھ ساتھ شاعرات ،منتشر۔۔
:p۔۔۔اچھی غزل ہے :)
سید ذیشان — فروری 12، 2013 3:57 شام
سن کر مشاعرے میں غزل zeashبھائی کی
شعراء کے ساتھ ساتھ شاعرات ،منتشر۔۔
:p۔۔۔ اچھی غزل ہے :)

واہ کیا شعر ہے نمکین قسم کا;)
سید ذیشان — فروری 12، 2013 4:02 شام
فارسی سے دور رہنا تو کوئی حل نہ ہوا۔ استاد بننے کے لیے سیکھنا تو پڑے گا! زیادہ نہیں بس حافظ اور سعدی کا کچھ مطالعہ کر لیجئے۔ بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے۔ ان دونوں شعراء کے اردو ترجمےاور تشریحات بآسانی دستیاب ہیں۔ ایسا کرنے سےفارسی الفاظ اور محاورات کا ایسا بے بدل ذخیرہ ہاتھ آئے گا کہ اپنی بات بیان کرنے میں کافی سہولت ہو گی۔مزید یہ کہ شعر کا وزن پورا کرنے کے لیے بھرتی کے الفاظ کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔ موتی سے الفاظ اور تراکیب غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے سامنے موجود رہیں گے!

جی ہاں، ایک دو دفعہ کوشش بھی کی تھی لیکن پھر غم روزگار آڑے آ گیا۔ بہت عرصہ پہلے ایک دن دیوانِ حافظ کا ترجمہ و تشریح خرید لایا۔ لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے کچھ زیادہ آگے نہ جا سکا۔ اب اگر موقع ملا تو کوشش ہو گی کہ فارسی سیکھی جائے۔ مجھے تو کافی پسند ہے اور جب ایرانی بول رہے ہوتے ہیں تو کافی مزہ دیتی ہے۔ :)
الف عین — مارچ 1، 2013 5:43 صبح
رہنے لگے ہیں میز پہ صفحات منتشر
ہیں بعدِ عشق اپنے خیالات منتشر
//’رہنے لگے‘کچھ اچھا فعل نہیں ہے یہاں۔ پائے گئے ہیں‘ بہتر ہے۔ دوسرا مصرع درست
ممکن اگر ہو ایسا، بیاں حالِ دل کروں
نہ ہونگے پھر یہ اپنے جوابات منتشر
//سمجھ میں نہیں آیا۔ یعنی اب بیان نہیں کیا تو خیالات منتشر ہو جائیں گے؟ تکنیکی طور پر ’نہ‘ کا تلفظ ہہ غلط ہے، یوں ہو سکتا ہے
کب ہوں گے پھر یہ اپنے جوابات منتشر
یا
ہو جائیں ورنہ / ہوں گے وگرنہ اپنے جوابات۔۔۔
مجھ کو جلا کے: "اب تو کہانی خَتَم ہوئی!"
دل کے ہَوا سے پھر ہوئے ذرات منتشر
//ختم کا تلفظ غلط ہے۔ ’دل کے ذرات‘ میں ’دل کے‘ اور ’ذرات‘ کے درمیان لمبا فاصلہ آ گیا ہے۔ یوں بہتر ہو سکتا ہے:
میں جل چکا تو ختم کہانی ہوئی، مگر
آندھی چلی تو دل کے ہیں ذرات منتشر
یک سمت چل رہا تھا جب ہم آشنا نہ تھے
حرکت کی پھر ہوئی ہے مساوات منتشر
//یک سمت کیوں؟ ’اک سمت‘ ہی رواں فٹ ہوتا ہے۔ باقی درست
دیکھا دیارِ عشق تو حیران رہ گیا
حدِ نگاہ تک ہیں خرابات منتشر
//درست
سمجھا دیارِ عشق کو رضواں، عجب کیا!
دیکھے جو واں پہ ہر سو خرابات منتشر
//دیارِ عشق یہاں بھی دہرایا گیا ہے، اسے بدل دو۔ ’عجب کیا‘ سمجھ میں نہیں آیا۔ اگر مطلب وہی ہے جو پچھلے شعر کا ہے، تو وہی رہنے دو، اس کی ضرورت نہیں۔
خالق جو نہ ہو ایک تو وحدت نہ ان میں ہو
ہوں دنیا اپنی، ارض و سماوات منتشر
//یہاں بھی ’نا‘ دو حرفی آ رہا ہے، دوسرے مصرع میں دنیا اور ارض کو الگ الگ کیوں لیا گیا ہے؟ یوں کیا جا سکتا ہے:
خالق ہو صرف ایک، تو وحدت سبھی میں ہو
ہو جائیں ورنہ ارض و سماوات۔۔
مرکوز تب ہی اپنے خیالات کی ہو رو
نہ ہو جو سب کی غایتِ غایات منتشر
//یہاں بھی ’نہ‘ کا تلفظ اور روانی کی کمی ہے۔
مرکوز ہو گی اپنے خیالوں کی رو تبھی
ہو جب نہ سب کی ۔۔۔۔۔۔۔
سید ذیشان — مارچ 1، 2013 4:32 شام
بہت شکریہ استادِ محترم۔ میں وقت ملنے پر اسے درست کرتا ہوں۔
لالہ رخ — مارچ 1، 2013 4:44 شام
واہ بہت خوب
ایم اے راجا — مارچ 9، 2013 7:08 صبح
بہت خوب ذیش صاحب۔
سید ذیشان — مارچ 9، 2013 7:11 صبح

بہت شکریہ آپ کی پسندیدگی کا بہن حوا کی بیٹی اور بھائی ایم اے راجا۔ :)
مغزل — مارچ 9، 2013 7:20 صبح
ذیشان بھائی ۔۔ رسید حاضر ہے اوسان کی بحالی کے بعد آتا ہوں انشا اللہ مقدور بھر باتاں شاتاں کریں گے :)
سید ذیشان — مارچ 9، 2013 7:29 صبح
ذیشان بھائی ۔۔ رسید حاضر ہے اوسان کی بحالی کے بعد آتا ہوں انشا اللہ مقدور بھر باتاں شاتاں کریں گے :)

اچھا نہیں لگتا کہ محفل کا ماحول مکدر ہو۔ بحرحال میری تو یہی گزارش ہوگی کہ ہتھ ہولا رکھیں۔ :)
سید ذیشان — مارچ 9، 2013 8:15 صبح
رہنے لگے ہیں میز پہ صفحات منتشر
ہیں بعدِ عشق اپنے خیالات منتشر
//’رہنے لگے‘کچھ اچھا فعل نہیں ہے یہاں۔ پائے گئے ہیں‘ بہتر ہے۔ دوسرا مصرع درست

اگر اس کو اسطرح کر دوں کیسا رہے گا؟
رہتے ہیں میری میز پہ صفحات منتشر
ہیں بعد عشق اپنے خیالات منتشر
یعنی عشق کے بعد خیالات میں انتشار ہے جس کی وجہ سے یہ انتشار میری زندگی میں بھی در آیا ہے۔ "رہتے ہیں" سے یہ مقصود ہے کہ پہلے ایسے نہیں ہوتا تھا۔
ممکن اگر ہو ایسا، بیاں حالِ دل کروں
نہ ہونگے پھر یہ اپنے جوابات منتشر
//سمجھ میں نہیں آیا۔ یعنی اب بیان نہیں کیا تو خیالات منتشر ہو جائیں گے؟ تکنیکی طور پر ’نہ‘ کا تلفظ ہہ غلط ہے، یوں ہو سکتا ہے
کب ہوں گے پھر یہ اپنے جوابات منتشر
یا
ہو جائیں ورنہ / ہوں گے وگرنہ اپنے جوابات۔۔۔

پہلا مصراع کچھ مبہم ہے اس کو یوں کر دیا ہے:
گر حالِ دل بیان کے قابل مِرا ہوا
اور دوسرے مصرعے میں آپ کی اصلاح بہت پسند آئی-
گر حالِ دل بیان کے قابل مِرا ہوا
کب ہونگے پھر یہ اپنے جوابات منتشر
کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ اگر میں اپنا حالِ دل بیان کر سکتا تو میرے جوابات ایسے منتشر نا ہوتے۔ ایک سیدھا سا جواب دے دیتا۔
مجھ کو جلا کے: "اب تو کہانی خَتَم ہوئی!"
دل کے ہَوا سے پھر ہوئے ذرات منتشر
//ختم کا تلفظ غلط ہے۔ ’دل کے ذرات‘ میں ’دل کے‘ اور ’ذرات‘ کے درمیان لمبا فاصلہ آ گیا ہے۔ یوں بہتر ہو سکتا ہے:
میں جل چکا تو ختم کہانی ہوئی، مگر
آندھی چلی تو دل کے ہیں ذرات منتشر

یہ محبوب کا خیال تھا کہ کہانی ختم ہو گئی ہے- لیکن اصل میں نہیں ہوئی۔ اس لئے دوسرے مصرعے میں "اور پھر" لگانا ضروری ہے۔ اگر اسطرح کر دوں تو ٹھیک ہے؟
مجھ کو جلا کے:"دیکھ، کہانی کا اختتام!"
اور پھر ہوا سے دل کے ہیں ذرات منتشر
یک سمت چل رہا تھا جب ہم آشنا نہ تھے
حرکت کی پھر ہوئی ہے مساوات منتشر
//یک سمت کیوں؟ ’اک سمت‘ ہی رواں فٹ ہوتا ہے۔ باقی درست

جی ایسا ہی کر دیا۔
اک سمت چل رہا تھا جب ہم آشنا نہ تھے
حرکت کی پھر ہوئی ہے مساوات منتشر
سمجھا دیارِ عشق کو رضواں، عجب کیا!
دیکھے جو واں پہ ہر سو خرابات منتشر
//دیارِ عشق یہاں بھی دہرایا گیا ہے، اسے بدل دو۔ ’عجب کیا‘ سمجھ میں نہیں آیا۔ اگر مطلب وہی ہے جو پچھلے شعر کا ہے، تو وہی رہنے دو، اس کی ضرورت نہیں۔

مضمون تھوڑا سا مختلف ہے۔ واضح کرنے کے لئے تبدیل کر دیا ہے۔
حیرت کہ دشت عشق کو رضواں گماں کیا
دیکھے جو واں پہ ہر سو خرابات منتشر
خالق جو نہ ہو ایک تو وحدت نہ ان میں ہو
ہوں دنیا اپنی، ارض و سماوات منتشر
//یہاں بھی ’نا‘ دو حرفی آ رہا ہے، دوسرے مصرع میں دنیا اور ارض کو الگ الگ کیوں لیا گیا ہے؟ یوں کیا جا سکتا ہے:
خالق ہو صرف ایک، تو وحدت سبھی میں ہو
ہو جائیں ورنہ ارض و سماوات۔۔

آپ کی اصلاح پسند آئی۔ اس کو اسی طرح کر دیا ہے:
خالق ہو صرف ایک، تو وحدت سبھی میں ہو
ہوجائیں ورنہ ارض و سماوات منتشر
مرکوز تب ہی اپنے خیالات کی ہو رو
نہ ہو جو سب کی غایتِ غایات منتشر
//یہاں بھی ’نہ‘ کا تلفظ اور روانی کی کمی ہے۔
مرکوز ہو گی اپنے خیالوں کی رو تبھی
ہو جب نہ سب کی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔

اس میں آپکی اصلاح پسند آئی ہے۔
مرکوز ہوگی اپنے خیالوں کی رو تبھی
ہو جب نہ سب کی غایتِ غایات منتشر
مغزل — مارچ 9، 2013 9:23 صبح
اچھا نہیں لگتا کہ محفل کا ماحول مکدر ہو۔ بحرحال میری تو یہی گزارش ہوگی کہ ہتھ ہولا رکھیں۔ :)
ارے بھیا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟ میری رائے سے فضا مکدر ہوتی ہے تو ہم کچھ نہیں کہتے بھائی اگر ایسی بات ہے تو بندہ خاموشی کو ہتھ ہولا سمجھتا ہے لیجے ہم خاموش :)
سید ذیشان — مارچ 9، 2013 9:31 صبح
ارے بھیا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟ میری رائے سے فضا مکدر ہوتی ہے تو ہم کچھ نہیں کہتے بھائی اگر ایسی بات ہے تو بندہ خاموشی کو ہتھ ہولا سمجھتا ہے لیجے ہم خاموش :)

بھائی میں اس دوسرے دھاگے کی بات کر رہا تھا۔ یہاں پر تو کھلی آزادی ہے :D

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92-%D9%84%DA%AF%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%DB%8C%D8%B2-%D9%BE%DB%81-%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A7%D8%AA-%D9%85%D9%86%D8%AA%D8%B4%D8%B1.59705/page-2