مزمل شیخ بسمل — اگست 5، 2012 8:52 شام
مُفا اور فُعل ایک ہی وزن ہے۔ اگر فُعل مراد ہے آپ کی تو ورنہ " ہوئے " بحر کی ضرورت کے مطابق مفا کے وزن پر بھی لا سکتے ہیں اور فاع کے وزن پر بھی
جی اصل وزن تو تقطیع میں ہی پتا چلتا ہے۔ میں نے مذکورہ غزل کی نوعیت کو دیکھ کر کہا بتایا تھا۔
بات آپ کی درست ہے۔
محمود ارشد وٹو — اگست 5، 2012 9:04 شام
ہوئے بروزن ”مفا“ یا ”فعل“ ہوتا ہے۔
شکریہ
الف عین — اگست 6، 2012 10:18 صبح
خوش آمدید محمود ارشد وٹو، مجھے پہچانا نہ ہو تو عرض کر دوں کہ میں اعجاز عبید ہوں۔ آپ سے بھی مکمل تعارف کی درخواست ہے۔ یہاں نہیں، تعارف کی فورم میں۔
محمود ارشد وٹو — اگست 14، 2012 10:32 صبح
خوش آمدید محمود ارشد وٹو، مجھے پہچانا نہ ہو تو عرض کر دوں کہ میں اعجاز عبید ہوں۔ آپ سے بھی مکمل تعارف کی درخواست ہے۔ یہاں نہیں، تعارف کی فورم میں۔
جی جی محترم آپ سے تعارف ہے۔خوش رہیں۔