زمین لگتی نہیں آسماں نہیں لگتا۔۔ و دیگر بغرض تنقید
محمد یعقوب آسی — دسمبر 25، 2012 6:52 صبح
اپنے لئے تو آسانی ہو گئی جناب مزمل شیخ بسمل اور جناب الف عین صاحب!
خضر (خ ضر ۔۔ خض ر) دونوں طرح درست تسلیم ہے۔
شاہد شاہنواز — دسمبر 25، 2012 7:12 صبح
وہ اشعار تو اشعار ہی نہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا تھا، سو میرے لیے یہ بحث مستقبل کے لیے تو فائدہ مند ہے، فی الحال تو میں مرحوم ہونے والے اشعار کے غم میں نڈھال ہوں۔۔۔
آپ کی اس علمی بحث سے اپنا ہی ایک شعر یاد آگیا۔۔۔
بحث اس پہ چل نکلی، کس نے اس کو مارا ہے
جس کی جاں بچانی تھی، اس کی جان جانے تک
محمد یعقوب آسی — دسمبر 25، 2012 9:06 صبح
بحث اس پہ چل نکلی، کس نے اس کو مارا ہے
جس کی جاں بچانی تھی، اس کی جان جانے تک
شعر مرحوم نہیں ہوا کرتا جناب شاہد شاہنواز صاحب۔ کہیں الفاظ کی در و بست آپ کو یا آپ کے قاری کو مطمئن نہیں کر پاتی تو یہ مت سمجھئے کہ آپ کا تخیل، تاثر، ادراک، سب کچھ ہوا ہو گیا۔ خیال اور مضمون شاعر کے لاشعور میں پکتا رہتا ہے اور ایک وقت پر پھر الفاظ کے جامے میں آتا ہے تو کہیں زیادہ سج دھج کے ساتھ آتا ہے۔
محمد یعقوب آسی — دسمبر 25، 2012 9:13 صبح
میرا طریقہ تو یہ ہے کہ کہیں ایک بات جو میں شعر میں کہنا چاہ رہا ہوں، کہہ نہیں پاتا تو اس کو ’’نیم فراموش‘‘ کر دیتا ہوں۔ اور ایسا کئی بار ہوا کہ وہی بات جب شعر کی صورت میں آئی تو خود مجھے بھی بھلی لگی۔ ایسی ہی ایک صورتِ حال کا شعر پیش کر رہا ہوں۔