زمیں کو آسماں لکھتا سماں کو کہکشاں لکھتا

الف عین — جولائی 10، 2008 6:00 شام
شعر نمبر 2 ، 3 اور 4 اب بھی بے معنی لگ رہے ہیں۔ دوسرے شعر کا مطلب سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اس سورت میں اسے یوں کہو:
افق کے اِس کنارے سے، افق کے اُس کنارے تک
جو غم بکھرے ہیں ان پر مشتمل اک داستاں لکھتا
تو کچھھ بات بن سکے۔ باقی اشعار میں تو اب بھی میں کچھ مشورہ نہیں دے سکتا۔
عبدالرؤف ساحر — اکتوبر 25، 2014 12:08 صبح
آداب - اچھی غزل ہے - اگر ردیف میں لکھتا کے بجائے لکھوں کردیا جائے تو کیسا رہے گا؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7-%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%DB%81%DA%A9%D8%B4%D8%A7%DA%BA-%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7.13377/page-2