زندگی چھوڑ دے ، یوں تماشا نہ کر(برائے اصلاح۔ ماہرین متوجہ ہوں)

ساقی۔ — مارچ 23، 2014 6:37 صبح
زندگی چھوڑ دے ، یوں تماشا نہ کر
غم ہیں پہلے بہت، اور منشا نہ کر
دے خوشی کی خبر ، تو مجھے بھی کبھی
میں پریشان ہوں اور پریشاں نہ کر
راز کو راز رکھ، دے دغا نہ مجھے
ہیں بہت قیمتی ان کو افشا نہ کر
میں ستم کے ہوں قابل اگر ہم نشیں
دے سزا تو مجھے، مجھ کو بخشا نہ کر
تو جہاں بھی رہے میں ترے ساتھ ہوں
مجھ کو لے کے تو چل ایسے حاشا نہ کر
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 23، 2014 6:40 صبح
اور بھی کام ہیں ماہریں کو بہت
اک لڑی کھول کر ”دَلتَ راشا“ نہ کر
(از راہ مذاق:) )
ساقی۔ — مارچ 23، 2014 6:44 صبح
ٹیگ۔
ساقی۔ — مارچ 23، 2014 6:58 صبح
اور بھی کام ہیں ماہریں کو بہت
اک لڑی کھول کر ”دَلتَ راشا“ نہ کر
(از راہ مذاق:) )
ماہریں بھی تو ما ہر بنے سیکھ کر
ہم کو ماہر بنانا ضروری بہت
ابن رضا — مارچ 23، 2014 7:30 صبح
بہت خوب کوشش ہے ۔اب آپ بتائیں کے قوافی میں حرف ِ روی کیا ہے؟
ساقی۔ — مارچ 23، 2014 7:46 صبح
بہت خوب کوشش ہے ۔اب آپ بتائیں کے قوافی میں حرف ِ روی کیا ہے؟

جیسا کہ اصول کے مطابق حرف روی اس اصل حرف کو کہتے ہیں جس کے ہٹانے پر لفظ کا مطلب ختم ہو جائے۔یا اس کے معنی تبدیل ہو جائیں ۔
تو یہاں حرف روی میرے طفلانہ علم کے مطابق ا(الف) ہے
ابن رضا — مارچ 23، 2014 7:50 صبح
جیسا کہ اصول کے مطابق حرف روی اس اصل حرف کو کہتے ہیں جس کے ہٹانے پر لفظ کا مطلب ختم ہو جائے۔یا اس کے معنی تبدیل ہو جائیں ۔
تو یہاں حرف روی میرے طفلانہ علم کے مطابق ا(الف) ہے
جی لفظ میں موجود آخری اصلی حرف کو روی کہتے ہیں
تو پریشان میں آخری اصلی حرف نون ہے تو پھر اس کو الف کے ساتھ متحد کیسے کیا جا سکتا ہے۔ پریشاں کا نون غنہ تقطیع میں گرادیا جاتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ گرانے کے بعد آنے والا آخری حرف روی بن جائے گا۔
ساقی۔ — مارچ 23، 2014 7:55 صبح
اس کا یہ مطلب ہوا کہ یہاں ایک سے زیادہ حرف روی موجود ہیں ۔؟
ابن رضا — مارچ 23، 2014 8:41 صبح
اس کا یہ مطلب ہوا کہ یہاں ایک سے زیادہ حرف روی موجود ہیں ۔؟
جی نہیں پریشاں کا حرف روی ن ہی ہے بس نون غنہ کی صورت میں تقطیع سے گرا دینے کے باوجود حرف روی نون ہی رہے گا ۔حرف روی ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ مطلب پریشاں اور تماشا قوافی نہیں ہو سکتے
ابن رضا — مارچ 23، 2014 8:52 صبح
مزید یہ کہ قوافی کو اگر مزید دیکھا جائے تو تماشا اور منشا میں صوتی تغیر معلوم ہوتا ہے؟
ساقی۔ — مارچ 23، 2014 8:56 صبح
جی نہیں پریشاں کا حرف روی ن ہی ہے بس نون غنہ کی صورت میں تقطیع سے گرا دینے کے باوجود حرف روی نون ہی رہے گا ۔حرف روی ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ مطلب پریشاں اور تماشا قوافی نہیں ہو سکتے
بہت شکریہ ۔
اب مصرع بھی آپ ہی نے فٹ کرنا ہے ۔
عبد الرحمن — مارچ 23، 2014 9:49 صبح
ساقی بابا آپ تو مجھے روزانہ حیرت کے سمندر میں لے جاتے ہیں۔
ماشاء اللہ! اللھم زد فزد!
ساقی۔ — مارچ 23، 2014 10:05 صبح
ساقی بابا آپ تو مجھے روزانہ حیرت کے سمندر میں لے جاتے ہیں۔
ماشاء اللہ! اللھم زد فزد!

لائف جیکٹ پہن کے سمندر میں اتریئے گا ۔ شکریہ
عبد الرحمن — مارچ 23، 2014 10:49 صبح
لائف جیکٹ پہن کے سمندر میں اتریئے گا ۔ شکریہ
جان کا دشمن!
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 24، 2014 5:31 صبح
بہت اچھی کوشش ہے۔۔۔۔
پریشاں کے بارے میں ابن رضا صاحب نے درست فرمایا ہے ، مگر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ :) مگر تماشا اور منشا ہم قافیہ ہیں ، البتہ ”منشا کرنا“ کوئی محاورہ نہیں ہے۔
میری طرف سے کچھ تصحیح:
زندگی! مجھ سے تو یوں تماشا نہ کر
غم کے اصنام دل میں تراشا نہ کر
دے خوشی کی خبر تو مجھے بھی کبھی
یوں پریشاں مجھے بے تحاشا نہ کر
راز کو راز رکھ، دے نہ مجھ کو دغا
ہیں بہت قیمتی ان کو افشا نہ کر
میں ستم کے ہوں قابل اگر ہم نشیں!
دے دیا کر سزا ، مجھ کو بخشا نہ کر
کب سے میں جام خالی لیے ہوں کھڑا
ساقیا! کچھ تو دے ، یوں تماشا نہ کر

مزید تصحیح و اصلاح کے اساتذہ کا انتظار ہے۔
ساقی۔ — مارچ 24، 2014 5:31 صبح
تمام احباب کی راہنمائی پر ان کا شکر گزار ہوں
ساقی۔ — مارچ 24، 2014 5:41 صبح
بہت اچھی کوشش ہے۔۔۔ ۔
پریشاں کے بارے میں ابن رضا صاحب نے درست فرمایا ہے ، مگر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ :) مگر تماشا اور منشا ہم قافیہ ہیں ، البتہ ”منشا کرنا“ کوئی محاورہ نہیں ہے۔
میری طرف سے کچھ تصحیح:
زندگی! مجھ سے تو یوں تماشا نہ کر
غم کے اصنام دل میں تراشا نہ کر
دے خوشی کی خبر تو مجھے بھی کبھی
یوں پریشاں مجھے بے تحاشا نہ کر
راز کو راز رکھ، دے نہ مجھ کو دغا
ہیں بہت قیمتی ان کو افشا نہ کر
میں ستم کے ہوں قابل اگر ہم نشیں!
دے دیا کر سزا ، مجھ کو بخشا نہ کر
کب سے میں جام خالی لیے ہوں کھڑا
ساقیا! کچھ تو دے ، یوں تماشا نہ کر

مزید تصحیح و اصلاح کے اساتذہ کا انتظار ہے۔

منشا مطلب ارادہ
منشا نہ کر ،ارداہ نہ کر۔
چار سال سے آئی لو اردو کا اوتار لگایا ہوا ہے اتنا تو حق بنتا ہے اردو سے چھیڑ چھاڑ کا ۔:p
ساقیا! کچھ تو دے:martiniglass:
اصلاح و توجہ کے لیے شکر گزار ہوں ۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 24، 2014 5:55 صبح
ارادہ کرنا مستعمل محاورہ ہے ، جبکہ ”منشاکرنا“ نہ کسی لغت میں ہے ، نہ کبھی نظر سے گزرا ، نہ کبھی کسی سے سنا۔
بہرحال آپ اردو سے لو کرتے ہیں۔
انیس الرحمن — مارچ 24، 2014 6:06 صبح
منشا مطلب ارادہ
منشا نہ کر ،ارداہ نہ کر۔
چار سال سے آئی لو اردو کا اوتار لگایا ہوا ہے اتنا تو حق بنتا ہے اردو سے چھیڑ چھاڑ کا ۔:p
ساقیا! کچھ تو دے:martiniglass:
اصلاح و توجہ کے لیے شکر گزار ہوں ۔
اردو سے محبت کرنی تھی نا۔۔۔ لو کرنے کا کس نے کہا تھا۔ اب بھگتیں نتیجہ۔۔۔:laugh:
ابن رضا — مارچ 24، 2014 6:24 صبح
ارادہ کرنا مستعمل محاورہ ہے ، جبکہ ”منشاکرنا“ نہ کسی لغت میں ہے ، نہ کبھی نظر سے گزرا ، نہ کبھی کسی سے سنا۔
بہرحال آپ اردو سے لو کرتے ہیں۔
آخری جمله اسامه بھائی نے شاید ادهورا چھوڑ دیا هے تو میں مکمل کر دیتاهوں
بہرحال آپ اردو سے لو کرتے ہیں تو اسکی ٹانگیں مت توڑیں:p
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91-%D8%AF%DB%92-%D8%8C-%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%94-%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%8C%D9%86-%D9%85%D8%AA%D9%88%D8%AC%DB%81-%DB%81%D9%88%DA%BA.72962/