اصلاح کے لیے بے حد شکرگزار ہوں محترم۔ بہت کم وقت میں کافی کچھ سیکھنے کہ ملا
رات کا اندھیرا ہو
دور ہی سویرا ہو
اک حسین وادی میں
چاند کا بسیرا ہو
جھیل کے کنارے پر
آ شیانہ میرا ہو
تتلیوں کا جھرمٹ ہو
بادلوں کا گھیرا ہو
اور میرے کندھے پر
سر وہ ہو جو تیرا ہو
تیرے اجلے چہرے کو
گیسوں نے گھیرا ہو
صرف میری آنکھیں ہوں
اور تیرا چہرہ ہو
جلترنگ ہو کنگن کی
حیا کا رنگ جو گہرا ہو
بات ہو محبت کی
خامشی کا پہرا ہو
ہوں گلاب سے عارض
آبرو سنہرا ہو
رات کا اندھیرا ہو
دور ابھی سویرا ہو.....