یہاں شاید راجا بھائی چہار کی جمع اس طرح استعمال کرنا چاہ رہے ہیں جیسے "چاروں طرف" کہا جاتا ہے۔ ویسے تو یہ بات واضح کر ہی دی گئی ہے کہ لفظچہار ہندی جمع کے طور پر استعمال نہیں ہوتا۔
بہت عرصے سے یہ غزل انتطار میں تھی اور میں اسے بھول ہی گیا تھا آج گھومتے گھومتے یہاں آ نکلا دیکھا اور مطلع یوں ذہن میں آیا ہے۔
سرابوں کو زادِ سفر کر لیا ہے
غموں کو بھی زیرِ اثر کر لیا ہے
اور مقطع یو ہوا ہے،
رہء عشق کی اس مسافت میں راجا
بہت خود کو زیر و زر کر لیا ہے