سید عاطف علی — اکتوبر 30، 2013 10:49 صبح
ابن رضا بھائی آپ نے کرب کو جگر کے وزن پر باندھا ہے اسے درد کے وزن پر موزوں کیجئے مثلاً ۔۔یہ کرب انگیز سا رستہ ۔وغیرہ ۔۔۔اور کیوں کہ مسلسل اور مربوط نظم ہے لہذا اگر تو ۔تیرا کا لہجہ اختیار کیا جائے تو کوشش کریں کہ آ خرتک یہی رکھیں۔اگر تم تمہارا وغیرہ ہو تو بھی ۔
ابن رضا — اکتوبر 30، 2013 11:10 صبح
ابن رضا بھائی آپ نے کرب کو جگر کے وزن پر باندھا ہے اسے درد کے وزن پر موزوں کیجئے مثلاً ۔۔یہ کرب انگیز سا رستہ ۔وغیرہ ۔۔۔ اور کیوں کہ مسلسل اور مربوط نظم ہے لہذا اگر تو ۔تیرا کا لہجہ اختیار کیا جائے تو کوشش کریں کہ آ خرتک یہی رکھیں۔اگر تم تمہارا وغیرہ ہو تو بھی ۔
نوازش محترم برادر میں وصالِ الف کو بھول رہا تھا ورنہ درد انگیز کا انتخاب ہی چاہ رہا تھا ۔ تدوین کر دی اور تجھ کو بھی تم سے بدل دیا ہے۔ سپاس گزار ہوں
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 30، 2013 11:11 صبح
مناسب ہو گئی ہے تاہم اس میں ’’ابھی بھی‘‘ بہتری کی گنجائش ہے۔
اس کو ہفتے دو ہفتے بعد خود ایک بار تنقیدی نگاہ سے دیکھئے گا، اور جو بہتری سمجھئے، کر دیکھئے گا۔ خود تنقیدی کا عمل جاری رہنا چاہئے۔
ابن رضا — اکتوبر 30، 2013 11:12 صبح
مناسب ہو گئی ہے تاہم اس میں ’’ابھی بھی‘‘ بہتری کی گنجائش ہے۔
اس کو ہفتے دو ہفتے بعد خود ایک بار تنقیدی نگاہ سے دیکھئے گا، اور جو بہتری سمجھئے، کر دیکھئے گا۔ خود تنقیدی کا عمل جاری رہنا چاہئے۔
جی استاد محترم اچھی تراش فرمائی ہے کہ نکھار آ گیا ہے۔ جزاک اللہ خیر
ابن رضا — اکتوبر 30، 2013 1:05 شام
استادِمحترم جنابِ
الف عین صاحب آپ بھی توجہ فرمائیں ذرا؟؟
الف عین — اکتوبر 31، 2013 5:33 صبح
میرا خیال۔۔۔۔
مبادا بے دھیانی میں
۔۔۔دھیان میں 'ی' معلنہ نہیں۔ محض دھان تقطیع میں آتا ہے، یہاں "خیالی" کیا جا سکتا پے
کِیا ہو منتخب تم نے
یہ درد انگیز سا رستہ
۔۔درد انگیز رستہ؟ بات سمجھ میں نہیں آئی۔
ابھی بھی وقت ہے باقی
۔۔۔ ابھی بھی وقت باقی ہے، زیادہ رواں نہیں؟
ابن رضا — اکتوبر 31، 2013 5:35 صبح
میرا خیال۔۔۔ ۔
مبادا بے دھیانی میں
۔۔۔ دھیان میں 'ی' معلنہ نہیں۔ محض دھان تقطیع میں آتا ہے، یہاں "خیالی" کیا جا سکتا پے
کِیا ہو منتخب تم نے
یہ درد انگیز سا رستہ
۔۔درد انگیز رستہ؟ بات سمجھ میں نہیں آئی۔
ابھی بھی وقت ہے باقی
۔۔۔ ابھی بھی وقت باقی ہے، زیادہ رواں نہیں؟
جی بہتر استادِ محترم
یہ درد انگیز سا رستہ
کو اگر
یہ پُر خار و خطر رستہ
کر دیا جائے تو؟
الف عین — اکتوبر 31، 2013 5:39 صبح
'گھاؤ' کی فصیح شکل محض فاع ہے، گھا او، بر وزن فعلن نہیں۔
محبت کی مسافت میں
عجب سے موڑ آتے ہیں
۔۔کچھ ایسے موڑ۔۔ کردیں تو؟؟؟
اور
نہ ہی ہم ساتھ چھوڑیں گے
نہ ہی ہم ہاتھ چھوڑیں گے
میں 'ہی' بھی اچھا نہیں لگتا، اگر
نہ پھر یہ ساتھ÷ہاتھ چھوٹے گا
کر دیں تو!!!