درست فرماتے ہیں جناب۔ شاعری سیکھنے کے لیے عروض کا جاننا ضروری نہیں، البتہ بہتر ضرور ہے۔ بغیر عروض سیکھے کیسے شاعری کریں ،اور طبیعت کی موزونیت کو کیسے بروئے کار لائیں، ملاحظہ فرمائیے
درست فرماتے ہیں جناب۔ شاعری سیکھنے کے لیے عروض کا جاننا ضروری نہیں، البتہ بہتر ضرور ہے۔ بغیر عروض سیکھے کیسے شاعری کریں ،اور طبیعت کی موزونیت کو کیسے بروئے کار لائیں، ملاحظہ فرمائیے
آپ نے بہت خوب طریقہ لکھا ہے
مجھے کسی کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ میں اپنی بات کرتا ہوں ۔۔ مجھے نثری نظم سے اختلاف ہے۔ سو میں نے بیان کر دیا جن لوگوں کی طبیعت موزوں نہ ہو اور وہ منظوم کلام نہ کہہ سکتے ہوں تو کچھ بھی لکھ کر اسے نثری نظم کا نام دینے سے وہ نثر ۔۔ نظم کے درجہ پر فائز نہیں ہو جاتی اس سے بہت پہلے مسجع اور مقفیٰ نثر موجود تھی جس میں موجودہ نثری نظموں سے کہیں زیادہ ردھم روانی اور قوافی کا اہتمام موجود ہوتا لیکن اس کے باوجود بڑے بڑے انشا پردازوں نے اپنی ایسی تحریروں کو نثری شاعری کا نام نہیں دیا بلکہ اسے نثر ہی لکھا اور پڑھا گیا زیادہ سے زیادہ اسے نثر مقفیٰ کا نام دے دیا گیا
قادری صاحب آپ کی بات سے میں متفق ہوں۔ اور میں آپ کے قول کی قدر کرتا ہوں۔ آپ پر تنقید کرنا میرا مقصد نہیں تھا۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ کچھ ایسے شاعر بھی ہیں جو کہ بڑے شاعر ہیں لیکن وہ نثری نظم کو شاعری سمجھتے ہیں۔ ظاہری سی بات ہے کہ ان کی نثری نظم میں اور ہم جیسے شاعری سے ناواقف لوگوں کی نثری نظم میں پڑا فرق ہے۔ میں صرف اصول پر بات کر رہا تھا۔
خشک سیروں تن شاعر کا لہو ہوتا ہے
واہ کیا بات ہے ۔ کمال ہے۔ بہت خوب
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%86%D9%88-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA.53227/page-2