سوالیہ؟؟؟؟؟؟؟؟ از شزہ مغل

آوازِ دوست — اکتوبر 23، 2015 6:09 شام
آمین۔
دعا کی سمجھ آئی اور بس اتنا سمجھ آیا کہ پھولوں کی زندگی چھوٹی سی ہوتی ہے اور سب اوپر سے گزر گیا۔
بھیا اتنے مشکل الفاظ کہاں سے ڈھونڈ کر لاتے ہیں آپ؟؟؟
وہیں سے جہاں کی بات کی ہے۔ مشکلیں آسان ہونے کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں بس کبھی ہم جلدی میں ہوتے ہیں تو کبھی وہ دیر کر دیتی ہیں :)
آوازِ دوست — اکتوبر 23، 2015 6:13 شام
بھیا اتنی مشکل باتیں؟؟؟؟
ڈکشنری کھولنی پڑی آپ کی بات سمجھنے کے لیے۔:)
آپ ڈکشنری کھولتی رہیں ایک دِن ڈکشنری خود سامنے آنے لگ جائے گی :)
شزہ مغل — اکتوبر 23، 2015 6:15 شام
وہیں سے جہاں کی بات کی ہے۔ مشکلیں آسان ہونے کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں بس کبھی ہم جلدی میں ہوتے ہیں تو کبھی وہ دیر کر دیتی ہیں :)
:confused1:
شزہ مغل — نومبر 15، 2015 7:17 شام
چند روز قبل مجھے ایک بلی کا بچہ ملا۔ وہ بھوکا بھی تھا اور اسے سردی بھی لگ رہی تھی۔ میرے اندازے کے مطابق وہ ایک یا ڈیڑھ ماہ کا تھا۔ میں اسے اپنے ساتھ لے آئی۔ دھوپ میں بٹھایا اور دودھ سامنے رکھا۔ اس نے دودھ پیا اور اسی جگہ بیٹھا رہا۔ کچھ دیر بعد میں نے مھسوس کیا کہ اس کے سانس کی آواز آ رہی ہے۔ جیسے کسی بچے کو سردی کی وجہ سے سینے میں ریشہ ہو تو اس کے سانس کی آواز آتی ہے۔ میں نے اسے اپنے پاس رکھا۔ اس کا نام کِٹی رکھا۔ میں اس کے ساتھ بہت خوش تھی۔ وہ بھی مجھ سے مانوس ہو چکی تھی۔
تیسرے دن سردی بڑھ گئی تو میں نے مناسب نہ سمجھا اسے گھر لے کر جانا۔ میں نے اسے حفاظت سے ڈبے میں ڈالا اور اپنے ایک کولیگ سے کہا کہ اگر وہ صرف اتنا کر سکے کہ جس کمرے میں وہ رات کو ہوتے ہیں اسی میں اس ڈبے کو بھی رکھ لیں اور کچھ وقت بعد دودھ پلانے کے لیے باہر نکالے۔ اور پھر صبح میں آ جاؤں گی تو دیکھ بھال کر لوں گی۔ ان حضرت نے اس وقت تو مجھے مطمئن کر کے بھیج دیا مگر نہ تو اسے دودھ دیا نہ ہی گرم کمرے میں رکھا۔
میری کِٹی اسی دن بیمار ہو گئی۔ میں نے اس کا بہت خیال رکھا مگر اس کی حالت بگڑتی گئی۔ مجھے جب معلوم ہوا کہ اسے نمونیہ ہو گیا ہے تو بہت دکھ ہوا۔ اس سے بھی زیادہ دکھ ہوا سب لوگوں کے روئیے کا۔ مجھ سے کہا جانے لگا کہ یہ بلی اچھی نسل کی نہیں ہے اسے چھوڑ آؤ جہاں سے لائی ہو۔ میں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ اسے اس وقت میری ضرورت ہے یہ ٹھیک ہو جائے گی اور تھوڑی بڑی ہو جائے گی تو کہیں چھوڑ دوں گی۔ مگر میرا مذاق اڑایا گیا۔
میں نے سوچا تھا کہ اس کی ویکسینیشن کروا کر پاس رکھوں گی مگر اس کی طبیعت بگڑتی چلی گئی۔ پانچویں دن کِٹی اتنی بیمار ہو گئی کہ اس سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ میں نے ایک ڈاکٹر کے مشورے سے اسے دوا دی سیریلیک دیا دودھ دیا۔ وہ خود سے کچھ کھا پی نہیں سکتی تھی اس لیے سرنچ میں ڈال کر اس کے منہ میں تھوڑا تھوڑا کھانا اور دوا دیتی رہی۔ رات کو اس کی طبیعت اتنی خراب ہو گئی کہ وہ بول بھی نہیں سکتی تھی۔ اور میرے آنسو نہیں رک رہے تھے کیونکہ میں پوری کوشش کے باوجود اس کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔ میں نے اسے چھوٹا کمبل گرم کر کے اسے اس میں لپیٹا ہوا تھا۔ کِٹی کچھ دیر بعد ہلکی سی آواز نکالتی تھی۔ اور میں تڑپ جاتی تھی۔ میں ساری رات اسے اپنی گود میں اپنے بستر میں لے کر بیٹھی رہی اور اس کی دیکھ بھال کرتی رہی۔ رات گزر گئی۔ صبح ہونے والی تھی۔ کِٹی بولی۔ میں خوش ہو گئی کہ کِٹی اب بہتر ہو رہی تھی۔ دفتر جانے کا وقت ہونے لگا تو میں نے اپنے اور اس کے دفتر جانے کی تیاری کرنی شروع کی۔ جب میں نے اس کا دوسرا کمبل تیار کیا اور اسے پہلے کمبل سے نکالا تو وہ مجھے چھوڑ کر جا چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اس کی جدائی کا دکھ ہے مگر زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ سوائے میرے باس اور ایک کولیگ کے اور کسی نے بھی میری حوصلہ افزائی نہ کی۔ الٹا میرا مذاق اڑاتے رہے۔ جب کِٹی بیمار تھی تو سب اس کے مرنے کی باتیں کرنے لگے۔ مجھے اس وقت اپنے انسان ہونے پر ہی شرمندگی ہو رہی تھی کہ ہم انسانوں میں کسی ذی روح کے لیے احساس نہیں ہے۔
سوالیہ
اگر کِٹی کی جگہ کوئی رشیئن یا کسی اور نسل کی بلی ہوتی تو کیا اس وقت بھی میرے جذبات کا مذاق اڑایا جاتا؟؟؟ اگر نہیں تو ہم ذات، نسل، زبان کے تفرقات سے کب نکلیں گے؟؟؟
اگر مذاق اڑانے کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک جانور کے لیے فکرمند ہوں تو ہم کیسے اشرف المخلوقات ہونے پر فخر کر سکتے ہیں جب انسانیت ہی ہم میں نہیں؟؟؟
شزہ مغل — نومبر 15، 2015 7:24 شام
ٹیگ نامہ
ادب دوست ، اکمل زیدی ، نور سعدیہ شیخ ، ماہی احمد ، مغل اعظم ، نیرنگ خیال ۔۔۔۔۔
نیرنگ خیال — نومبر 16، 2015 4:12 صبح
سوالیہ
اگر کِٹی کی جگہ کوئی رشیئن یا کسی اور نسل کی بلی ہوتی تو کیا اس وقت بھی میرے جذبات کا مذاق اڑایا جاتا؟؟؟ اگر نہیں تو ہم ذات، نسل، زبان کے تفرقات سے کب نکلیں گے؟؟؟
اگر مذاق اڑانے کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک جانور کے لیے فکرمند ہوں تو ہم کیسے اشرف المخلوقات ہونے پر فخر کر سکتے ہیں جب انسانیت ہی ہم میں نہیں؟؟؟
اس وقت میں پورے آٹھ صفحے پڑھنے کے چکر میں نہیں لیکن بلی کے معاملے میں کب سے نسل پرستی آگئی؟
محمد یعقوب آسی — نومبر 16، 2015 9:48 صبح
مجھے اب پتا چلا کہ افلاطون نے سوالیہ نشان کیوں بنائے وہ بھی جواب کے سامنے :) :) :)
کچھ تفصیل اس اجمال کی بھی ہو جائے!
محمد یعقوب آسی — نومبر 16، 2015 9:53 صبح
ایک بات اپنی سمجھ سے بالاتر ہے۔
:atwitsend:
بات انسانوں، انسانی معاشرت اور رویوں کی ہو تو یار لوگ تقابل میں حیوانی رویوں کو مثال، بلکہ حوالے سے بھی بڑھ کر سند کا درجہ کیوں دینے لگتے ہیں؟
:confused3::worried:
ادب دوست — نومبر 16، 2015 10:04 صبح
استادِ محترم میں وثوق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر مجھے لگتا ہے یہ طریقہ اہلِ مغرب سے ہمارے ہاں در آیا ہے۔
محمد یعقوب آسی — نومبر 16، 2015 10:43 صبح
استادِ محترم میں وثوق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر مجھے لگتا ہے یہ طریقہ اہلِ مغرب سے ہمارے ہاں در آیا ہے۔
اس کو یوں بھی دیکھ سکتے ہیں:
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ۔ ثم رددنٰہ اسفل سافلین۔ (سورۃ التین)
اب جسے جہاں کھڑا ہونے کی توفیق مل جائے۔ و ما توفیقی الا باللہ
ادب دوست — نومبر 16، 2015 11:05 صبح
چند روز قبل مجھے ایک بلی کا بچہ ملا۔ وہ بھوکا بھی تھا اور اسے سردی بھی لگ رہی تھی۔ میرے اندازے کے مطابق وہ ایک یا ڈیڑھ ماہ کا تھا۔ میں اسے اپنے ساتھ لے آئی۔ دھوپ میں بٹھایا اور دودھ سامنے رکھا۔ اس نے دودھ پیا اور اسی جگہ بیٹھا رہا۔ کچھ دیر بعد میں نے مھسوس کیا کہ اس کے سانس کی آواز آ رہی ہے۔ جیسے کسی بچے کو سردی کی وجہ سے سینے میں ریشہ ہو تو اس کے سانس کی آواز آتی ہے۔ میں نے اسے اپنے پاس رکھا۔ اس کا نام کِٹی رکھا۔ میں اس کے ساتھ بہت خوش تھی۔ وہ بھی مجھ سے مانوس ہو چکی تھی۔
تیسرے دن سردی بڑھ گئی تو میں نے مناسب نہ سمجھا اسے گھر لے کر جانا۔ میں نے اسے حفاظت سے ڈبے میں ڈالا اور اپنے ایک کولیگ سے کہا کہ اگر وہ صرف اتنا کر سکے کہ جس کمرے میں وہ رات کو ہوتے ہیں اسی میں اس ڈبے کو بھی رکھ لیں اور کچھ وقت بعد دودھ پلانے کے لیے باہر نکالے۔ اور پھر صبح میں آ جاؤں گی تو دیکھ بھال کر لوں گی۔ ان حضرت نے اس وقت تو مجھے مطمئن کر کے بھیج دیا مگر نہ تو اسے دودھ دیا نہ ہی گرم کمرے میں رکھا۔
میری کِٹی اسی دن بیمار ہو گئی۔ میں نے اس کا بہت خیال رکھا مگر اس کی حالت بگڑتی گئی۔ مجھے جب معلوم ہوا کہ اسے نمونیہ ہو گیا ہے تو بہت دکھ ہوا۔ اس سے بھی زیادہ دکھ ہوا سب لوگوں کے روئیے کا۔ مجھ سے کہا جانے لگا کہ یہ بلی اچھی نسل کی نہیں ہے اسے چھوڑ آؤ جہاں سے لائی ہو۔ میں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ اسے اس وقت میری ضرورت ہے یہ ٹھیک ہو جائے گی اور تھوڑی بڑی ہو جائے گی تو کہیں چھوڑ دوں گی۔ مگر میرا مذاق اڑایا گیا۔
میں نے سوچا تھا کہ اس کی ویکسینیشن کروا کر پاس رکھوں گی مگر اس کی طبیعت بگڑتی چلی گئی۔ پانچویں دن کِٹی اتنی بیمار ہو گئی کہ اس سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ میں نے ایک ڈاکٹر کے مشورے سے اسے دوا دی سیریلیک دیا دودھ دیا۔ وہ خود سے کچھ کھا پی نہیں سکتی تھی اس لیے سرنچ میں ڈال کر اس کے منہ میں تھوڑا تھوڑا کھانا اور دوا دیتی رہی۔ رات کو اس کی طبیعت اتنی خراب ہو گئی کہ وہ بول بھی نہیں سکتی تھی۔ اور میرے آنسو نہیں رک رہے تھے کیونکہ میں پوری کوشش کے باوجود اس کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔ میں نے اسے چھوٹا کمبل گرم کر کے اسے اس میں لپیٹا ہوا تھا۔ کِٹی کچھ دیر بعد ہلکی سی آواز نکالتی تھی۔ اور میں تڑپ جاتی تھی۔ میں ساری رات اسے اپنی گود میں اپنے بستر میں لے کر بیٹھی رہی اور اس کی دیکھ بھال کرتی رہی۔ رات گزر گئی۔ صبح ہونے والی تھی۔ کِٹی بولی۔ میں خوش ہو گئی کہ کِٹی اب بہتر ہو رہی تھی۔ دفتر جانے کا وقت ہونے لگا تو میں نے اپنے اور اس کے دفتر جانے کی تیاری کرنی شروع کی۔ جب میں نے اس کا دوسرا کمبل تیار کیا اور اسے پہلے کمبل سے نکالا تو وہ مجھے چھوڑ کر جا چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اس کی جدائی کا دکھ ہے مگر زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ سوائے میرے باس اور ایک کولیگ کے اور کسی نے بھی میری حوصلہ افزائی نہ کی۔ الٹا میرا مذاق اڑاتے رہے۔ جب کِٹی بیمار تھی تو سب اس کے مرنے کی باتیں کرنے لگے۔ مجھے اس وقت اپنے انسان ہونے پر ہی شرمندگی ہو رہی تھی کہ ہم انسانوں میں کسی ذی روح کے لیے احساس نہیں ہے۔
سوالیہ
اگر کِٹی کی جگہ کوئی رشیئن یا کسی اور نسل کی بلی ہوتی تو کیا اس وقت بھی میرے جذبات کا مذاق اڑایا جاتا؟؟؟ اگر نہیں تو ہم ذات، نسل، زبان کے تفرقات سے کب نکلیں گے؟؟؟
اگر مذاق اڑانے کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک جانور کے لیے فکرمند ہوں تو ہم کیسے اشرف المخلوقات ہونے پر فخر کر سکتے ہیں جب انسانیت ہی ہم میں نہیں؟؟؟

آپ کا طرزِ عمل سو فیصد خیر تھا۔ میری رائے میں سوال یہ نہیں کہ بلی کی نسل سے فرق پڑتا یا نہیں، بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ آپ کا واسطہ کن افراد سے پڑا۔
انسان ایک انتہائی پیچیدہ مخلوق ہے بلکہ اس کے لئے ہمارے دوست شعیب بھائی کہتے ہیں "پیچی-کیٹیڈ" paichicated یعنی اردو کا پیچیدہ او انگریزی کا complicated ملا کر ایک لفظ۔
ہو سکتا ہے آپ کا اس معاملے میں تجربہ اچھا نہ رہا ہو مگر میرا مشورہ یہ ہے کہ ایک گروہِ کثیر کو سمجھنے کے لئے چند افراد کے تجربے سے بہتر ہے کہ اپنی قوتِ متخیلہ سے کام لیا جائے اور فطرتِ انسانی پر غور کیا جائے تو شاید معاملہ مختلف ہو۔
اب یہیں دیکھ لیں کتنے لوگ ہونگے جو اس بات کو پسند کرینگے کہ آپ کا عمل اچھا تھا اور کتنے لوگ آپ کے کوورکرز کے طرزِ عمل کی حمائت کرینگے
ادب دوست — نومبر 16، 2015 11:13 صبح
اس کو یوں بھی دیکھ سکتے ہیں:
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ۔ ثم رددنٰہ اسفل سافلین۔ (سورۃ التین)
اب جسے جہاں کھڑا ہونے کی توفیق مل جائے۔ و ما توفیقی الا باللہ

ماشاءاللہ.
اچھائی کے بھی درجات ہیں اور سفل کے بھی درجات ہیں۔
انسان کی کوشش بہتری کی ہونی چاہیئے۔ اگر الله نے بھلائی کے ردجات سے نوازا ہے تو اسی میں آگے سے آگے۔۔
اور معاملہ اگر مجھ جیسا ہو تب بھی بھلائی کی جستجو
محمد یعقوب آسی — نومبر 16، 2015 12:24 شام
انسان ایک انتہائی پیچیدہ مخلوق ہے بلکہ اس کے لئے ہمارے دوست شعیب بھائی کہتے ہیں "پیچی-کیٹیڈ" paichicated یعنی اردو کا پیچیدہ او انگریزی کا complicated ملا کر ایک لفظ۔

دل چسپ! اچھی اختراع ہے۔
اتنا ہے کہ "کیٹڈ" کو صرف کامپلی کیٹڈ تک نہ رکھئے۔ اس میں "سوفسٹی کیٹڈ" اور جتنی بھی "مناسبی کیشنز" ہوں، سب کو شامل سمجھئے۔
شزہ مغل — نومبر 16، 2015 6:10 شام
اس وقت میں پورے آٹھ صفحے پڑھنے کے چکر میں نہیں لیکن بلی کے معاملے میں کب سے نسل پرستی آگئی؟
جب سے انسان جہالت کے اندھیروں کو ماڈرن ازم کا نام دے کر اپنی چھوٹی سوچ کو چھپانے کی کوششیں کر رہا ہے۔
شزہ مغل — نومبر 16، 2015 6:12 شام
ایک بات اپنی سمجھ سے بالاتر ہے۔
:atwitsend:
بات انسانوں، انسانی معاشرت اور رویوں کی ہو تو یار لوگ تقابل میں حیوانی رویوں کو مثال، بلکہ حوالے سے بھی بڑھ کر سند کا درجہ کیوں دینے لگتے ہیں؟
:confused3::worried:
کیونکہ انسان معاشرتی حیوان بھی کہلاتا ہے۔
شزہ مغل — نومبر 16، 2015 6:15 شام
استادِ محترم میں وثوق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر مجھے لگتا ہے یہ طریقہ اہلِ مغرب سے ہمارے ہاں در آیا ہے۔
قصور تو ہمارا ہی ہوا ناں۔۔۔
ہم کیوں اپنی عقل سے کام نہیں لیتے اور آنکھیں موندے مغرب کی جانب چل پڑتے ہیں؟؟؟
شزہ مغل — نومبر 16، 2015 6:17 شام
اس کو یوں بھی دیکھ سکتے ہیں:
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ۔ ثم رددنٰہ اسفل سافلین۔ (سورۃ التین)
اب جسے جہاں کھڑا ہونے کی توفیق مل جائے۔ و ما توفیقی الا باللہ
محترم بھیا اس آیت کا ترجمہ بھی بتا دیجیئے۔ مجھ سے کم علموں کے لئے۔
شزہ مغل — نومبر 16، 2015 6:27 شام
آپ کا طرزِ عمل سو فیصد خیر تھا۔ میری رائے میں سوال یہ نہیں کہ بلی کی نسل سے فرق پڑتا یا نہیں، بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ آپ کا واسطہ کن افراد سے پڑا۔
انسان ایک انتہائی پیچیدہ مخلوق ہے بلکہ اس کے لئے ہمارے دوست شعیب بھائی کہتے ہیں "پیچی-کیٹیڈ" paichicated یعنی اردو کا پیچیدہ او انگریزی کا complicated ملا کر ایک لفظ۔
ہو سکتا ہے آپ کا اس معاملے میں تجربہ اچھا نہ رہا ہو مگر میرا مشورہ یہ ہے کہ ایک گروہِ کثیر کو سمجھنے کے لئے چند افراد کے تجربے سے بہتر ہے کہ اپنی قوتِ متخیلہ سے کام لیا جائے اور فطرتِ انسانی پر غور کیا جائے تو شاید معاملہ مختلف ہو۔
اب یہیں دیکھ لیں کتنے لوگ ہونگے جو اس بات کو پسند کرینگے کہ آپ کا عمل اچھا تھا اور کتنے لوگ آپ کے کوورکرز کے طرزِ عمل کی حمائت کرینگے
بھیا یہاں کون کیا کرتا ہے اس سے بھی اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ گروہ کثیر کی سوچ کیا ہے۔ آپ نے خود ہی فرما دیا کہ انسان پیچیدہ مخلوق ہے۔
میں یہ جانتی ہوں کہ زیادہ تر لوگ میرے اپنی کِٹی کے لیے بےچین ہونے کو بچپنا یا بے وقوفی سمجھیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگ سچ بول دیتے ہیں مگر کچھ لوگ دل میں کچھ زبان سے کچھ اور بولیں گے۔
ادب دوست — نومبر 16، 2015 7:00 شام
دل چسپ! اچھی اختراع ہے۔
اتنا ہے کہ "کیٹڈ" کو صرف کامپلی کیٹڈ تک نہ رکھئے۔ اس میں "سوفسٹی کیٹڈ" اور جتنی بھی "مناسبی کیشنز" ہوں، سب کو شامل سمجھئے۔

استادِ محترم sophisticated کے ساتھ ملانے کے لئے اردو کا کوئی لفظ بھی تو تجویزیں:)
محمد یعقوب آسی — نومبر 16، 2015 7:08 شام
استادِ محترم sophisticated کے ساتھ ملانے کے لئے اردو کا کوئی لفظ بھی تو تجویزیں:)

سانجھا کم جناب! اَدھو اَدھ! ۔۔۔ ویسے لچھی کیٹڈ ۔۔۔ ویکھنا کوئی "کیڈٹ" نہ پڑھ لوے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81%D8%9F%D8%9F%D8%9F%D8%9F%D8%9F%D8%9F%D8%9F%D8%9F-%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D8%B2%DB%81-%D9%85%D8%BA%D9%84.84044/page-8