اُسے صبحِ اَزَل اِنکار کی جرأت ہوئی کیونکر
مجھے معلوم کیا وہ راز داں تیرا ہے یا میرا
اس کی ’’املائے اصوات‘‘:
اُ سے صُب حے اَ زل اِن کا ر کی جُر ءَت ہُ ئی کُو کر
مُ جے مع لُو م کا وہ را ز دا تے را ہ یا مے را
م فا عی لُن م فا عی لُن م فا عی لُن م فا عی لُن
یہاں (یعنی اس شعر میں)
’’صبحِ ازل‘‘ میں حاے مکسور کی صوتیت ’’حے‘‘ ہو گئی، یعنی زیر لمبی ہو کر یاے کے برابر ہو گئی۔
’’ہوئی‘‘ کی صوتیت ’’ہُئی‘‘ بنی۔
’’مجھے‘‘ میں جھ حرفِ مرکب ہے اور اس کی صوتیت اصولی طور پر ج سے مختلف ہے۔ گرمکھی میں یہ ایک حرف ہے ’’جھجھا‘‘، شاہ مکھی میں یہ بظاہر دو حرف لیکن عملاً ایک حرف ہے۔ املائے اصوات میں ہم نے اپنی آسانی کے لئے اس کو ’’م جے‘‘ سے ظاہر کیا ہے۔
’’کیوں‘‘ اور ’’کیا‘‘ استفہامیہ یا انشائیہ۔ ان کی گرمکھی املاء میں کاف اور الف کے بیچ کی یاے کو حرف کی بجائے حرکت لکھتے ہیں۔ شاہ مکھی میں یاے حرف کی صورت میں لکھا جاتا ہے مگر حیثیت اس کی وہی حرکت والی رہتی ہے۔ نون غنہ کا عروضی وزن نہیں ہوتا، کہ غنہ آواز کو ناک سے نکالنے کے عمل کا نام ہے۔ سو، اِن کی صوتیت بالترتیب ’’کُو‘‘ اور ’’کا‘‘ کے برابر ٹھہری، اور ویسا ہم نے املائے اصوات میں لکھ لیا۔ ’’راز داں‘‘ کے نون غنہ کو بھی اسی پر قیاس کریں۔
’’تیرا‘‘ اور ’’میرا‘‘ میں یاے اور الف پورے پورے بول رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے