طالب کی پیاس اور طلب ہے کہ ۔۔۔ کیا کہوں۔۔ توجہ فرمائے

محمد اظہر نذیر — جنوری 22، 2010 4:11 شام
حقیقت کوفسانہ کر گیا ہے
مجھے وہ یوں دوانہ کر گیا ہے
مِرے ہی کام کا وہ حصہ بن کر
سخن میں اب ٹھکانہ کر گیا ہے
یہ دل تو تھا مرا ویرانہ لیکن
اِسے وہ آشیانہ کر گیا ہے
کسی کے راستے میں ہی نہیں تھا
وہی در آستانہ کر گیا ہے
تکبُّر سے بھرا تھا ذہن اظہر
اُسے وہ عاجزانہ کر گیا ہے
اُستاد جی،
شاید اب دوسرا شعر کچھ بہتر ہو گیا ہو؟ملاحظہ کیجیے تو
اظہر
محمد وارث — جنوری 22، 2010 5:01 شام
دوسرا شعر کافی بہتر ہو گیا ہے، اگر اب آپ اپنی غزل سے مطمئن ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ غور و فکر کرتے رہیئے گا۔ :)
محمد اظہر نذیر — جنوری 22، 2010 6:07 شام
محترم اُستاد،
میں قطعً اس قابل نہیں کے یہ فیصلہ لے سکوں - میرا اطمنان اساتزہ کے اطمنان سے مشروط ہے
شکرگزار
اظہر
مغزل — جنوری 23، 2010 3:34 شام
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ ، کے مصداق کوشش جاری رکھیے آپ کا مطمعن نہ ہونا بھی اطمینان کی طرف سفر کا آئینہ دار ہے ، اللہ برکتیں عطا فرمائے ،آمین
محمد اظہر نذیر — جنوری 23، 2010 5:59 شام
جناب مغل صاحب
آمین ثم آمین
شکریہ
اظہر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B3-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B7%D9%84%D8%A8-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81-%DB%94%DB%94%DB%94-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%81%D9%88%DA%BA%DB%94%DB%94-%D8%AA%D9%88%D8%AC%DB%81-%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%92.27951/page-2