ذاتی پسند ناپسند بالکل مختلف بات ہے۔
یہ جملہ میں نے اوپر ایک مقام پہ لکھا۔ اس کو وسیع تر تناظر میں دیکھئے اور ترجیح یا انتخاب کے معانی میں لیجئے تو بات یوں بنتی ہے کہ:
۔۔ الفاظ یا تراکیب جنہیں اپنی تحریر میں لانا مجھے یا آپ کو ’’اچھا لگتا ہے‘‘۔ عشقِ مجازی اور محبت کے لئے میرے ایک محترم ادبی بزرگ لفظ ’’تعلقِ خاطر‘‘ بولا کرتے ہیں۔
۔۔ جملے میں الفاظ، محاورات، ضرب الامثال وغیرہ کا استعمال میں اپنے ’’انداز‘‘ میں کرتا ہوں آپ اپنے انداز میں کرتے ہیں۔
۔۔ مصرعے میں لفظیات کا چناؤ اور ان کی نشست، یہاں بھی میرا اور آپ کا ’’طریقہ‘‘ مختلف ہو سکتا ہے۔
۔۔ فارسیت، عربیت اور مقامیت کے علاوہ علاقائی لہجوں اور الفاظ کو کام میں لانے یا نہ لانے کا ’’چناؤ‘‘ بھی انفرادی ترجیحات میں شامل ہے۔
۔۔ جملے کو گفتگو، اور مصرعے کو نثر کے قریب تر رکھنے کی ’’کوشش‘‘، کوئی کرتا ہے کوئی نہیں کرتا۔
۔۔ کوئی لمبے لمبے جملے یا طویل بحور کو پسند کرتا ہے، کوئی چھوٹے جملے لکھتا ہے یا نسبتاً مختصر بحور میں ’’لکھنا پسند کرتا‘‘ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ یہ طویل فہرست بنتی ہے، اس میں مزاج بھی شامل کر لیجئے۔ زبان کی صحت، فکری رویہ، موضوع یا سرنامہ، نفسِ مضمون وغیرہ کی اہمیت بہر حال مسلمہ ہے۔
میرا اندازہ ہے کہ یہ عوامل یا ترجیحات ہیں جن کا مشاہدہ اور تقابل کر کے تنقیدی ذہن والا ایک قاری کہتا ہے کہ: محمد یعقوب آسی،
محمد وارث،
الف عین،
کاشف عمران،
حسان خان میں فلاں فلاں فلاں فرق ہے، یا یہ لوگ ان مقامات پر الگ پہچانے جاتے ہیں یا نہیں پہچانے جاتے۔
یہی شے ’’اسلوب‘‘ ہے شاید؟ ۔۔ اہل الرائے کیا فرماتے ہیں؟۔