اشک آنکہوں سے جاری ہے مثال دریا
دل عامل ہے غمگین نہ شاداں بخدا
حال ملت حزین واقعہ سنگیں و عظیم
حاکم وقت نہ بیدار نہ ھوشیار بخدا
کردو بیدار یہ اُمت جو ہے غرغہ خواب
قوم خوابیدے ہے بیکار نہ فعال بخدا
کب تلک کر کے غلامی بنیں بندہ خاک
سعت عالم میں رہیں اُمت ناکام و خراب
اُت کرو مشعل دیوار بلند اے اُمت
رستے تاریک ضرور سخت ہے منزل بسیار
لیک جانا ہے سبہی ھاتھ میں لے کر مشعل
عامل شیرازی
دل عامل ہے غمگین نہ شاداں بخدا
حال ملت حزین واقعہ سنگیں و عظیم
حاکم وقت نہ بیدار نہ ھوشیار بخدا
کردو بیدار یہ اُمت جو ہے غرغہ خواب
قوم خوابیدے ہے بیکار نہ فعال بخدا
کب تلک کر کے غلامی بنیں بندہ خاک
سعت عالم میں رہیں اُمت ناکام و خراب
اُت کرو مشعل دیوار بلند اے اُمت
رستے تاریک ضرور سخت ہے منزل بسیار
لیک جانا ہے سبہی ھاتھ میں لے کر مشعل
عامل شیرازی