بھائی، آپ علی العموم ہماری نکتہ سرائیوں کے سزاوار نہیں رہے۔ اچھی غزلیں کہہ رہے ہیں۔ خود بھی مطالعہ اور ذوق رکھتے ہیں۔ اس لیے ہم رسیدیں دینے پر ہی اکتفا کیا کرتے ہیں۔ مگر آج رہا نہیں گیا۔
مصرعِ اولیٰ میں اے کی یائے لین ساقط ہو رہی ہے۔ بنیادی سا اصول ہے۔ یائے لین کا اسقاط ، سوائے ہے، ہیں اور میں کے، خواہ کسی لفظ میں ہو، جائز نہیں۔
معذرت کے ساتھ، مگر ہر رائے بلا تامل قبول فرماتے رہے تو فائدے کی بجائے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ میں نے ذیل میں کچھ نکات اٹھائے ہیں۔ ان پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیے۔
ہماری رائے میں شعر مکمل ہے۔ ہر حوالے سے۔ بالکل بدلنے کی ضرورت نہیں۔ شوق اردو شاعری کا ایک معروف کلمہ ہے۔ اسے کسی تفسیر و تعبیر کی حاجت نہیں۔ جو مفہوم برآمد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ میرا شوق اس درجے کو ترقی کر گیا ہے کہ میں اس کے حوالے سے جانا جانے لگا ہوں۔ پھر چونکہ میرا نام معروف ہوا ہے تو لازم آیا کہ میرا پیغام بھی اس کے ساتھ ساتھ ہر جگہ پہنچا ہے۔ شوق اور پیغام کے الفاظ اس قدر برمحل استعمال ہوئے ہیں کہ مفہوم ایک گونہ وسعت اور گہرائی پیدا ہو گئی ہے۔ شوقِ دیدار سے لے کر شوقِ قتل تک اور پیغامِ محبت سے لے کر پیغامِ اجل تک ہر جگہ یہ کلام صادق آسکتا ہے۔ یہی مشرقی شعریات کا مقصود و منتہا ہے۔
اردو شاعری کو تھوڑا پڑھ کر دیکھیے۔ نوعیت معلوم ہو جائے گی۔ ورنہ کل کلاں آپ معروف تلمیحات پر بھی فرمائیں گی کہ اشارہ مبہم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اساتذہ کے کلام پر نام لیے بغیر آپ سے رائے لی جائے تو آپ کی اصلاحیں پڑھنے کے لائق ہوں گی۔ موجودہ شعر کے تناظر میں خدائے سخن کا یہ فرمان عبرت اندوزی کے لیے نقل کر رہا ہوں۔ سوچتی رہیے کہ اس میں شوق کا اشارہ کہاں گیا:
کیا کم تھا شعلہ شوق کا شعلے سے طور کے
پتھر بھی واں کے جل گئے جا کر جہاں گرا
پتھر بھی واں کے جل گئے جا کر جہاں گرا
بھائی، یہ ٹوٹتے اختر کیا بلا ہے؟ کون بولتا ہے اس طرح؟ اہلِ زبان؟ پنجابی؟ مارواڑی؟ علما؟ عوام؟ بازاری؟ کوئی بھی نہیں۔
مصرعِ اولیٰ میں اے کی یائے لین ساقط ہو رہی ہے۔ بنیادی سا اصول ہے۔ یائے لین کا اسقاط ، سوائے ہے، ہیں اور میں کے، خواہ کسی لفظ میں ہو، جائز نہیں۔
شعر فہمئِ عالمِ بالا معلوم شد!