’’اقلاب‘‘ کے بارے میں کچھ راہنمائی فرمائیے گا۔
اقلاب عربی تجوید کے قواعد میں سے ایک بہت معروف قاعدہ ہے۔ عربی قراءت میں ن ساکن (اور تنوین یعنی ڈبل زبرڈبل زیر اور ڈبل پیش ) کو پڑھنے کے چار احکام ہیں۔ جو مختلف حالات میں لاگو کیے جاتے ہیں۔اور ان کو١۔۔۔ اظہار ۔۔۔ ادغام ۔۔۔اخفاء ۔ ۔۔اور ۔۔اِقلاب۔۔۔ کہا جاتا ہے۔
اب یہ دیکھنے کے لیے کہ ان چار قواعد میں سے کونسا قاعدہ کہاں لاگو ہو گا ہم دیکھتے ہیں کہ ن ساکن ﴿یا تنوین﴾ کے فوراً بعد کون سا حرف آرہا ہے ۔عربی کے تمام حروف اس بنیاد پہ تقسیم بھی کءے گئے ہیں۔جو مختصرا" مندرجہ ذیل ہیں۔
اظہار ۔۔۔ یہ اس وقت کیا جاتا ہے جب ن ساکن یا تنوین کے فورا" بعد ایسا حرف آئے جس کا صوتی مخرج حلقوم (یعنی حلق) ہو ۔یہ چھ حروف ہیں ۔
ء ھ ع غ ح خ ۔ یہاں صرف ن واضح آواز سے پڑھا جاتا ہے اور (لمبا نہیں کیا جاتا) ۔
ادغام ۔۔۔ یہ اس وقت کیا جاتا ہے جب ن ساکن یا تنوین کے فورا" بعد ایسا حرف آئے جو آنے والے حروف میں سے ہو۔ یہ بھی چھ حروف ہیں ۔۔۔۔
ی ر م ل و ن ۔۔۔۔انہیں عموما" یرملون سے یاد کیا جاتا ہے۔ جیسے من یقول کو پڑھیں گے
مئیں ں یقول ۔۔۔یہاں
مئیں کی آواز اردو کے
گئیں کی طرح ہو گی ( مثلا" عورتیں
کئیں )لیکن نسبتا " لمبی ۔۔۔۔۔۔۔۔غنے والے ادغام میں خود بخود تشدیدبھی آجاتی ہےاور حروف مدغم ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔(یہاں کچھ استثنا ئی حالات بھی ہیں مثلا" دنیا وغیرہ )
۔۔۔ اس کی دو اقسام ہیں ادغام غنہ کے ساتھ یا غنہ کے بغیر ۔۔۔۔۔ل ر۔۔۔ میں ادغام بغیرغنہ کیا جاتا ہے ۔ (یہاں ن ساکن اور تنوین دراصل غائب ہوجاتے ہیں جیسے
من رب کو پڑھیں گے
مِرّب )۔ باقی حروف ۔ ی ن م و۔۔۔۔ میں ادغام غنہ کے ساتھ ہوتا ہے اور نسبتا" لمبے کر کے پڑھے جاتے ہیں۔
اقلاب ۔۔۔ یہ صرف ب کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ اقلاب کے لفظی معنی بدلنا یا پلٹنا کے ہیں۔چناں چہ قاعدہ یہ ہے کہ ا یسی صورت میں ن ساکن یا تنوین کو میم سے بدل دیا جاتا ہے (صرف پڑھنے میں) اور نسبتا" لمبا بھی کیا جاتا ہے۔ جیسے
من بعد کو پڑھا جائے گا ۔
مم بعد ۔ اور دوسرے میم کو لمبا کیا جائے گا۔ انبیاء کو پڑھا جائے کا امبیاء اور میم لمبا ہو گا ۔
اخفا ء ۔۔۔ باقی تمام حروف اخفا ء کے حروف ہیں۔اخفا ء کے معنی چھپانے کے ہیں یہاں نون کو دراصل نون غنہ کی آواز میں پڑھا جاتا ہے اور نسبتا" لمبا بھی کیا جاتا ہے ۔