عشق جب کر لیا تو آہ نہ کر ۔۔۔۔۔ غزل برائے اصلاح

مزمل حسین — اپریل 18، 2016 4:21 شام
اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
کشفِ راز اب تُو کر نہ بے خبری میں
عشق جب کر لیا تو آہ نہ کر!
چھیڑ کر ذکرِ تلخئ دوراں
طَرَبِ وصل کو تباہ نہ کر!
کشتگاں کو جفا کا دوش نہ دے
گر نہیں کرتا تُو نباہ، نہ کر
پارسائی کے اس فسانے میں
عالِم الغیب کو گواہ نہ کر!
گیسوؤں کی چمک پہ اے دل مت جا!
تیرگی کو چراغِ راہ نہ کر
کسی بے ظرف سے تُو مُزَّمِّل
اختلاطِ دل و نگاہ نہ کر!
راحیل فاروق — اپریل 18، 2016 4:37 شام
پارسائی کے اس فسانے میں
عالِم الغیب کو گواہ نہ کر!
کیا کہنے!
کشفِ راز اب تُو کر نہ بے خبری میں
گیسوؤں کی چمک پہ مت جا اے دل!
سابقہ تجربے کی بنیاد پر کہتے ہوئے ڈر تو لگ رہا ہے مگر ذرا محولہ بالا مصرعوں کی تقطیع کیجیے۔ :shut-mouth:
مزمل حسین — اپریل 18، 2016 5:09 شام
سابقہ تجربے کی بنیاد پر کہتے ہوئے ڈر تو لگ رہا ہے مگر ذرا محولہ بالا مصرعوں کی تقطیع کیجیے۔ :shut-mouth:

آپ کی توجہ کے لئے شکر گذار ہوں۔
میری تقطیع تو کچھ یوں ہے:
کش ف را زب ت کر ن بے خ ب ری م
اب یہ صحیح ہے یا غلط یہ آپ جانیں اور دوسرے اساتذہ۔
مصرعِ ثانی میری اپنی نظر میں بھی غلط ہے۔ اسے یوں کر دیا جائے:
گیسوؤں کی چمک پہ اے دل مت جا
گی س ؤ کی چ مک پ اے دل مت ج
تو کیا صحیح ہے۔ ۔؟
الف عین — اپریل 18، 2016 5:28 شام
نہیں عزیزم، بحر سے خارج ہی ہیں دونوں مصرعے۔ ’میں‘ کو محض ’م‘ نہیں کیا جا سکتا۔ تمہاری تقطیع میں ’بے خبریم‘ ہی ہو رہی ہے۔مصرع کے آخر میں ’میں‘ کی ی اور غنہ دونوں حذف نہیں کئے جا سکتے۔ اسی طرح گیسوؤں والا مصرع بھی ہے، اس میں بھی ’جا‘ کا الف کا اسقاط غلط ہے۔
اس کے علاوہ مجھے صرف مقطع میں تردد ہے۔ بے ظرف اور اختلاط کا ربط سمجھ میں نہیں آتا۔
مزمل حسین — اپریل 18، 2016 5:42 شام
نہیں عزیزم، بحر سے خارج ہی ہیں دونوں مصرعے۔ ’میں‘ کو محض ’م‘ نہیں کیا جا سکتا۔ تمہاری تقطیع میں ’بے خبریم‘ ہی ہو رہی ہے۔مصرع کے آخر میں ’میں‘ کی ی اور غنہ دونوں حذف نہیں کئے جا سکتے۔ اسی طرح گیسوؤں والا مصرع بھی ہے، اس میں بھی ’جا‘ کا الف کا اسقاط غلط ہے۔
بہت بہتر استادِ محترم!
درستی کی کوشش کروں گا۔
اس کے علاوہ مجھے صرف مقطع میں تردد ہے۔ بے ظرف اور اختلاط کا ربط سمجھ میں نہیں آتا۔
آپ کا مطلب ہے کہ بے ظرف سے اختلاط سرے سے ممکن ہی نہیں؟
الف عین — اپریل 18، 2016 5:49 شام
میرا مطلب ہے کہ ایسا کوئی قرینہ نہیں کہ سمجھا جا سکے کہ بے ظرف سے ہی کیوں منع کیا جا رہا ہے۔
ابن رضا — اپریل 18، 2016 6:09 شام
کسی بے ظرف سے تُو مُزَّمِّل
اختلاطِ دل و نگاہ نہ کر!
بے ظرف کو کم ظرف کر دیجیے
ابن رضا — اپریل 18، 2016 6:15 شام
کشفِ راز اب تُو کر نہ بے خبری میں
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/شاعری-میں-عمل-تسبیغ.60648/
ابن رضا — اپریل 18، 2016 6:30 شام
میری تقطیع تو کچھ یوں ہے:
کش ف را زب ت کر ن بے خ ب ری م
تقطیع ایسے کیا کریں
فاعلاتن۔۔۔۔۔مفاعلن۔۔۔فعلن
کشفِ رازب۔۔۔تُ کر نہ بے۔۔۔۔خبری م
مزمل حسین — اپریل 19، 2016 2:40 صبح
شکریہ ابن رضا صاحب، معلوماتی ربط شیئر کرنے کے لئے۔
تو گویا عملِ تسبیغ کی شرط ہے کہ آخری ہجہ اصلاً یک حرفی ہو اور دو حرفی کا ایک حرف گرا دینا جائز نہیں۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 19، 2016 6:20 صبح
پارسائی کے اس فسانے میں
عالِم الغیب کو گواہ نہ کر!
واہ ، کیا کہنے مزمل بھائی۔
مزمل حسین — اپریل 19، 2016 9:54 صبح
واہ ، کیا کہنے مزمل بھائی۔
بہت تشکر محمد تابش صدیقی بھائی!
سید لبید غزنوی — اپریل 19، 2016 10:12 صبح
واہہہہہہہہہ عمدہ کلام ہے اور اساتذہ کے تبصرے بھی زبردست ہیں ۔۔۔
طَرَبِ وصل کو تباہ نہ کر!

گر نہیں کرتا تُو نباہ، نہ کر

پارسائی کے اس فسانے میں
عالِم الغیب کو گواہ نہ کر!
بہت عمدہ اشعار ہیں بڑی گہرائی والے۔۔۔
در حقیقت اساتذہ کے تبصرے ہی ہم جیسے کم علموں کے علم میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔۔اللہ تمام اساتذہ خاص کر سر الف عین اور محمد یعقوب آسی صاحب کی زندگی میں برکت دے آمین۔۔۔
مزمل حسین — اپریل 19، 2016 1:11 شام
واہہہہہہہہہ عمدہ کلام ہے اور اساتذہ کے تبصرے بھی زبردست ہیں ۔۔۔
بہت عمدہ اشعار ہیں بڑی گہرائی والے۔۔۔
در حقیقت اساتذہ کے تبصرے ہی ہم جیسے کم علموں کے علم میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔۔اللہ تمام اساتذہ خاص کر سر الف عین اور محمد یعقوب آسی صاحب کی زندگی میں برکت دے آمین۔۔۔
آمین!
حوصلہ افزائی کے لئے بہت شکریہ سید لبید غزنوی صاحب۔
اشعار کیا ہیں بس اردو سیکھنے کی ایک کاوش ہے۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 19، 2016 1:42 شام
میری تقطیع تو کچھ یوں ہے:
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اب یہ صحیح ہے یا غلط یہ آپ جانیں اور دوسرے اساتذہ۔
اس جملے کا محل کیا تھا؛ میں نہیں سمجھ پایا۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 19، 2016 1:46 شام
کشفِ راز اب تُو کر نہ بے خبری میں
یا تو اوزان کا مسئلہ ہے یا پھر آپ نے حروفِ علت کو بے دریغ گرایا ہے۔ آخری دونوں شعروں کے پہلے مصرعوں میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
بات یہ ہے حضرت! کہ شعر کا منصب محض وزن پر پورا اترنا نہیں ہے۔ وہ بھی اگر بزورِ قاری ہو تو شعر تو نہ ہوا! شعر کے دیگر عناصر بھی ہیں، سب کو دھیان میں رکھنا پڑتا ہے۔ دیکھئے نا، شاعری ہم پر تھوپی نہیں جاتی، ہم اس کو اختیار کرتے ہیں۔ اختیاری کام میں تو بہت نفاست ہونی چاہئے۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 19، 2016 1:49 شام
چھیڑ کر ذکرِ تلخئ دوراں
طَرَبِ وصل کو تباہ نہ کر!
کشتگاں کو جفا کا دوش نہ دے
گر نہیں کرتا تُو نباہ، نہ کر
پارسائی کے اس فسانے میں
عالِم الغیب کو گواہ نہ کر!
ان میں پہلا شعر قابلِ قبول ہے۔ دوسرے کے مفاہیم دور از کار ہیں۔ تیسرے میں شیخ و رند کا روایتی جھگڑا ہے مگر بہت ڈھیلا؛ بھائی جھگڑنا ہے شدت سے جھگڑئیے!
محمد یعقوب آسی — اپریل 19، 2016 1:51 شام
جناب الف عین کا انداز بزرگانہ ہوتا ہے، ان کی ہدایات پر توجہ دیجئے گا۔
میں اختیار کردہ کام میں "گزارہ" کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ مجھ سے جب شعر نہیں ہوتا تو اپنی بات نثر میں کہہ دیا کرتا ہوں۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 19، 2016 1:57 شام
جناب سید لبید غزنوی !
آپ نے مجھے ٹیگ کر دیا، میں نے بھی جو کہنا تھا کہہ دیا۔ صاحبِ کلام پتہ نہیں مجھے میری رائے نہ لینا چاہتے ہوں؟ :desire:
بہر کیف! اب تو جو ہو چکا، سو ہو چکا۔ :p
مزمل حسین — اپریل 19، 2016 3:13 شام
اس جملے کا محل کیا تھا؛ میں نہیں سمجھ پایا۔

سر یہ میری بے علمی کا اظہار اور اساتذہ سے ترسیلِ علم کی درخواست تھی۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D8%AC%D8%A8-%DA%A9%D8%B1-%D9%84%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%D8%A2%DB%81-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%B1-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.89423/