عشق ِحقیقی کا سفر

نور وجدان — جنوری 21، 2016 12:32 شام

جو ہو اِس بات میں یا پھر ُاس بات میں!
'تم' نظر آتے ہُو اب تو ہر ذات میں!
شمع کی ُضو سے پروانے جو اُڑتے ہیں!
بھَر کے بہروپ دیوانے وُہ پھرتے ہیں !
حرص و لالچ کی لکڑی ُتو ہے بن چکی !
دنیا جالا جو مکڑی کا ہے بُن چکی !
اس جہاں مول دل کا ہی تو لگتا ہے !
حسن و صورت سے سب کام جو چلتا ہے!
دنیا میں کون محرم غمِ دل کا ہے!
میں کہوں کس سے جو حال بسمل کا ہے!
چرخ کو ہے ضرورت مسیحائی کی!
تیر و خنجر نے کچھ یوں پذیرائی کی!
دشت ہجراں میں 'اے ابر باراں' برس !
دید کو میری آنکھیں گئی ہیں ترس!
ذکر یاراں سے چھلکا جو پیمانہ ہے!
عاشقی میں بنا وہ ہی میخانہ ہے!
شام غم کی درودِ وُضو میں َبسر
رات جامِ ُسبو میں گئی ہے ُگزر
صبح ُگل کی جو ُخوشبو گئی ہے ِبکھر
رنگ و بو سے جہاں بھی گیا ہے نکھر
محفلِ نور ساقی کے دم سے چلے!
بادہ و مے سے سب زنگ دل کے ُدھلے!
محمدظہیر — جنوری 21، 2016 1:57 شام
ماشاءاللہ عمدہ کلام کے لیے داد پیش ہے اگرچہ میں سخن شناس نہیں ہوں:p
محفلِ نور ساقی کے دم سے چلے!
بادہ و مے سے سب زنگ دل کے ُدھلے!
شاید تخلص نور رکھا ہے؟
نور وجدان — جنوری 21، 2016 2:02 شام
ماشاءاللہ عمدہ کلام کے لیے داد پیش ہے اگرچہ میں سخن شناس نہیں ہوں
شاید تخلص نور رکھا ہے؟

نور بطور تخلص استعمال نہیں کیا ہے ۔ ورنہ اس پر تخلص کی علامت ہوتی ۔۔ اچھی محفل مراد ہے ۔ بہت شکریہ کہ آپ کی طرف سے میں نے پہلی دفعہ داد پائی ہے اور اس کو میں ہمیشہ یاد رکھوں گی ۔۔:) :)
محمد تابش صدیقی — جنوری 21، 2016 2:02 شام
اصلاح تو اساتذہ ہی کریں گے۔
میرے تھوڑے بہت علم کے مطابق ایک غزل میں تمام اشعار کا دوسرا مصرع ہم ردیف و ہم قافیہ ہونا چاہیے۔
نور وجدان — جنوری 21، 2016 2:04 شام
اصلاح تو اساتذہ ہی کریں گے۔
میرے تھوڑے بہت علم کے مطابق ایک غزل میں تمام اشعار کا دوسرا مصرع ہم ردیف و ہم قافیہ ہونا چاہیے۔

اس کو غزل مت سمجھیں ۔۔نظم ہے ۔۔اس کے مضمون یکجا ہیں گوکہ کہ دو مصرعہ ایک الگ خیال پیش کر رہے ہیں ۔۔میں نے اس کو نظم رکھا ہے۔۔ردیف غزل میں ضروری تو نہیں ہے
محمدظہیر — جنوری 21، 2016 2:05 شام
تابش صدیقی بھائی آپ نے تو ناپسندیدہ قرار دے دیا؟ میں ہمیشہ ان کی پوسٹ پر کچھ اعتراض یا طنز کرتا رہا ہوں
اصلاح تو اساتذہ ہی کریں گے۔
میرے تھوڑے بہت علم کے مطابق ایک غزل میں تمام اشعار کا دوسرا مصرع ہم ردیف و ہم قافیہ ہونا چاہیے۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 21، 2016 2:08 شام
تابش صدیقی بھائی آپ نے تو ناپسندیدہ قرار دے دیا؟ میں ہمیشہ ان کی پوسٹ پر کچھ اعتراض یا طنز کرتا رہا ہوں
وہ سمارٹ فون کے ٹچ کی مہربانی تھی، اور فوراً ختم کر دی۔ نا پسندیدہ ریٹنگ کا میں نے آج تک سوچا ہی نہیں۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 21، 2016 2:09 شام
اس کو غزل مت سمجھیں ۔۔نظم ہے ۔۔اس کے مضمون یکجا ہیں گوکہ کہ دو مصرعہ ایک الگ خیال پیش کر رہے ہیں ۔۔میں نے اس کو نظم رکھا ہے۔۔ردیف غزل میں ضروری تو نہیں ہے
جی ردیف ضروری نہیں۔ عمومی طور پر ہوتی ہے۔
باقی مجھے مضمون الگ الگ محسوس ہوا، اس لیے غزل سمجھا۔ قصور سمجھ کا ہی ہے۔ :)
محمدظہیر — جنوری 21، 2016 2:14 شام
وہ سمارٹ فون کے ٹچ کی مہربانی تھی، اور فوراً ختم کر دی۔ نا پسندیدہ ریٹنگ کا میں نے آج تک سوچا ہی نہیں۔
ایسا تو میرے ساتھ بھی ہوجاتا ہے کبھی کبھار ، وضاحت کا شکریہ : )
ابن رضا — جنوری 21، 2016 3:51 شام
اصلاح تو اساتذہ ہی کریں گے۔
میرے تھوڑے بہت علم کے مطابق ایک غزل میں تمام اشعار کا دوسرا مصرع ہم ردیف و ہم قافیہ ہونا چاہیے۔
یہ غزل نہیں مثنوی نظم ہے جس کا ہر شعر اپنا الگ ہم قافیہ و ردیف ہوتا ہے
محمد تابش صدیقی — جنوری 21، 2016 3:55 شام
یہ غزل نہیں مثنوی نظم ہے جس کا ہر شعر اپنا الگ ہم قافیہ و ردیف ہوتا ہے
جی بالکل، مجھے اس نظم کا عنوان نہیں ملا اور اشعار بھی کسی ایک موضوع پر بات کرتے ہوئے محسوس نہ ہوئے تو یہ تبصرہ کیا۔ :)
نور وجدان — جنوری 21، 2016 3:57 شام
جی بالکل، مجھے اس نظم کا عنوان نہیں ملا اور اشعار بھی کسی ایک موضوع پر بات کرتے ہوئے محسوس نہ ہوئے تو یہ تبصرہ کیا۔ :)

موضوعات تمام ایک ہی شجر سے نکلے ہیں ۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 21، 2016 4:00 شام
موضوعات تمام ایک ہی شجر سے نکلے ہیں ۔
نظم کا عنوان ایسا رکھیں جو عنوان کو واضح کر سکے۔ :)
نور وجدان — جنوری 21، 2016 4:01 شام
نظم کا عنوان ایسا رکھیں جو عنوان کو واضح کر سکے۔ :)
میں بدلتی ہوں اس کو ابھی
نور وجدان — جنوری 21، 2016 4:08 شام
نظم کا عنوان ایسا رکھیں جو عنوان کو واضح کر سکے۔ :)
بدلا ہے عنوان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تو یہی بہتر لگا ہے کہ میں نے یہی سوچ کے لکھی تھی ۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 21، 2016 4:25 شام
بدلا ہے عنوان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تو یہی بہتر لگا ہے کہ میں نے یہی سوچ کے لکھی تھی ۔
اب صحیح ہے۔ بلکہ خوب ہے۔ :)
نور وجدان — جنوری 21، 2016 4:27 شام
اب صحیح ہے۔ بلکہ خوب ہے۔ :)

موضاعات استعاراتی بھی تھے شاید عنوان میں ایسا رکھنا نہیں چاہ رہی تھی ۔۔شکریہ اس بات پر کہ بہتر ابلاغ ہو پایا ہے :)
سارہ خان — جنوری 21، 2016 5:13 شام
بہت خوب :)
فاتح — جنوری 21، 2016 5:20 شام
اچھی کوشش ہے۔ وزن کے اعتبار سے ذیل کے مصرعے دوبارہ توجہ چاہتے ہیں
حرص و لالچ کی لکڑی ُتو بن چکی ہے!
دنیا جالا جو مکڑی کا بُن چکی ہے!
عشق سوزی سے میخانہ بن چکا ہے!
رنگ و بُو سے جہاں ہے گیا ِنکھر
نور وجدان — جنوری 22، 2016 4:26 صبح
شکریہ جناب
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D9%90%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D9%81%D8%B1.87381/