ملاحظہ کیجیے
طاقِ نسیاں میں چھپا رکھتے ہیں سب داغِ جگر
دردِ پنہاں کو تو بس یونہی سہا جاتا ہے
طاقِ نسیاں میں ہیں موجود سبھی داغِ جگر
دردِ پنہاں کو تو بس یونہی سہا جاتا ہے
اگرچہ آپ کی وضاحت کافی ہے مگر یہ کچھ اشعار ذہن میں آہی گئے ۔ جو آپ کو بہتر معلوم ہو استادِ محترم ۔