غیر مردف کی اصطلاح میرے لیے نئی ہے استادِ محترم ۔ ذرا سمجھا دیجیے۔
دوسری بات یہ کہ غیر مقفی میں نے اس لیے کہا کہ مطلع میں اور دیگر ابیات میں حرفِ روی کا اتحاد مجھے نظر نہیں آیا جیسے دشمن اور دوست دونوں میں حرفِ روی ن اور ت ہیں ۔ اس بابت آپ کیا فرماتے ہیں۔ آپنی رائے سے مستفید فرمائیے۔
قافیے کے نقائص اور خواص میرے لئے ہمیشہ گورکھ دھندا رہے ہیں۔ اسی لئے شیخ صاحب کو زحمت دی ہے۔ میرا خیال ہے کہ قافیے کے بغیر بیت مکمل نہیں ہوتا، چاہے قافیہ ناقص ہی ہو۔ ردیف اضافی چیز ہے، اگر اختیار کر لی تو اسے نبھانا لازم ہو گیا۔ اختیار نہ کی تو بیت، شعر، غزل "غیر مردف" ہے، کوئی قباحت نہیں۔ عظیم کی یہ غزل غیرمردف بھی تو نہیں۔
مثال: کلامِ اقبال کا غیر مردف نمونہ
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
۔۔۔
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جنید و بایزید تیرا جمالِ بے نقاب