عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

ابن رضا — اکتوبر 3، 2014 1:27 شام
غزل غیر مقفی ہے اور مطلع کافی حد تک ناچیر کے اس شعر سے مماثل ہے
عجب سی کشمکش میں ہوں، عجب سی الجھنوں میں ہوں
میں اپنے دوستوں میں ہوں کہ اپنے دشمنوں میں ہوں؟
عظیم — اکتوبر 3، 2014 1:30 شام

کوئی دیوانہ مر چلا آخر
نام دُنیا میں کر چلا آخر
وقت جو بدنصیب پر آیا
جاتے جاتے گزر چلا آخر
تیر اُس نیمکش نگاہوں کا
میرے دل میں اتر چلا آخر
تُم سدھارو گیا کیا اِسے لوگو
یہ بگڑتا سدھر چلا آخر
بیٹھ ہنستے رہو جہاں والو
موت اپنی ہی مر چلا آخر
بھر نہ پائی ہماری جھولی کیا
غم کا پیمانہ بھر چلا آخر
آنے والا نہیں سکوں صاحب
آتے آتے مکر چلا آخر
عظیم — اکتوبر 3، 2014 1:36 شام

اک تماشا لگانے والا ہُوں
خود کو زندہ جلانے والا ہُوں
تُم سناؤ گے کیا رقیبو اب
شعر ایسے سنانے والا ہُوں
آزماتے رہو یقیں میرا
میں تمہیں آزمانے والا ہُوں
میری بے تابیوں کو سمجھو کیا
یار کو یاد آنے والا ہُوں
اے جہانِ خراب میں تُجھ سے
اور بھی دُور جانے والا ہُوں
شیخ صاحب جو کر رہے ہیں واعظ
اِن کو جھوٹا بتانے والا ہُوں
کیا مرا نقد جانتے ہو آپ
اپنی قیمت لگانے والا ہُوں
چاہتیں اُن کی اور مُجھ سے بات
اِک حقیقت چُھپانے والا ہُوں
تُم جسے سجدہ کر رہے ہو شیخ
میں اُسے بُت بتانے والا ہُوں
خُود ہی اپنی تلاش میں ہُوں میں
خود کو ہی ڈھونڈ لانے والا ہُوں
عظیم — اکتوبر 3، 2014 1:37 شام
بابا کام پر نہیں جانا ہوتا تو آج ان کو دکھا دیتا کہ پاگل پن کسے کہتے ہیں اور جنون کس بلا کا نام ہے ۔
دعا کیجئے گا میری خاطر ۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 1:49 شام
غزل غیر مقفی ہے اور مطلع کافی حد تک ناچیر کے اس شعر سے مماثل ہے
عجب سی کشمکش میں ہوں، عجب سی الجھنوں میں ہوں
میں اپنے دوستوں میں ہوں کہ اپنے دشمنوں میں ہوں؟

غیر مردف سے تو ہم مانوس ہیں، غیر مقفی (وہ بھی غزل) شاید میں بات پا نہیں سکا۔
مزمل شیخ بسمل سے پوچھتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ عظیم کی زیرِ نظر غزل کے قافیے کا صورتِ حال کیا ہے۔
سوچتا تھا کہ دشمنوں میں ہُوں
اب کھلا راز دوستوں میں ہُوں
وائے آوارگی مری یارب
محفلوں میں بھی خلوتوں میں ہُوں
پھر رہا وارثوں کو ڈھونڈا اور
حیف اپنے ہی وارثوں میں ہُوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابن رضا — اکتوبر 3، 2014 1:53 شام
غیر مردف سے تو ہم مانوس ہیں، غیر مقفی (وہ بھی غزل) شاید میں بات پا نہیں سکا۔
مزمل شیخ بسمل سے پوچھتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ عظیم کی زیرِ نظر غزل کے قافیے کا صورتِ حال کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر مردف کی اصطلاح میرے لیے نئی ہے استادِ محترم ۔ ذرا سمجھا دیجیے۔
دوسری بات یہ کہ غیر مقفی میں نے اس لیے کہا کہ مطلع کے قوافی میں اور دیگر ابیات میں حرفِ روی کا اتحاد مجھے نظر نہیں آیا جیسے دشمن اور دوست دونوں میں(آخری اصلی حرف) حرفِ روی ن اور ت ہیں ۔ اس بابت آپ کیا فرماتے ہیں۔ آپنی رائے سے مستفید فرمائیے۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 1:53 شام
وائے آوارگی مری یارب
محفلوں میں بھی خلوتوں میں ہُوں
"وائے" نے شعر کو تاسف کے معانی دے دئے۔ اگر کوئی ایسا لفظ مل سکے کہ اس سے لطف اور تاسف دونوں معانی کا برابر امکان بن جائے تو کتنا مزا ہو!
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 2:04 شام
غیر مردف کی اصطلاح میرے لیے نئی ہے استادِ محترم ۔ ذرا سمجھا دیجیے۔
دوسری بات یہ کہ غیر مقفی میں نے اس لیے کہا کہ مطلع میں اور دیگر ابیات میں حرفِ روی کا اتحاد مجھے نظر نہیں آیا جیسے دشمن اور دوست دونوں میں حرفِ روی ن اور ت ہیں ۔ اس بابت آپ کیا فرماتے ہیں۔ آپنی رائے سے مستفید فرمائیے۔
قافیے کے نقائص اور خواص میرے لئے ہمیشہ گورکھ دھندا رہے ہیں۔ اسی لئے شیخ صاحب کو زحمت دی ہے۔ میرا خیال ہے کہ قافیے کے بغیر بیت مکمل نہیں ہوتا، چاہے قافیہ ناقص ہی ہو۔ ردیف اضافی چیز ہے، اگر اختیار کر لی تو اسے نبھانا لازم ہو گیا۔ اختیار نہ کی تو بیت، شعر، غزل "غیر مردف" ہے، کوئی قباحت نہیں۔ عظیم کی یہ غزل غیرمردف بھی تو نہیں۔
مثال: کلامِ اقبال کا غیر مردف نمونہ
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
۔۔۔
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جنید و بایزید تیرا جمالِ بے نقاب
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 2:08 شام
پھر رہا وارثوں کو ڈھونڈا اور
حیف اپنے ہی وارثوں میں ہُوں
یہاں لفظیات کا مسئلہ ہے صاحب، بات صاف نہیں ہو رہی۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 2:10 شام
میرا رونا اگر جو چاہو دیکھ
ان گھٹاؤں میں بارشوں میں ہُوں
اگر ۔۔۔ اور ۔۔۔ جو ۔۔۔ ان میں سے ایک کافی ہوتا۔
چاہو ۔۔ دیکھو ۔۔۔۔۔ یا پھر ۔۔۔۔ چاہے ۔۔ دیکھ
بہر حال۔
عظیم — اکتوبر 3، 2014 2:43 شام
اللہ بهلا کرے بزرگو - آپ تو پہلے ہی میری کسی بات سے ناراض تهے یا ہیں - اللہ بہتر جاننے والا ہے - جس نے اتنا سکها دیا وہ آگے بهی رہنمائی فرمائے گا -
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 3:36 شام
رنج راحت فزا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ اس کا دوسرا مصرع!
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 3:38 شام
کیا رہا میرا ہونا اُس قابل
قلب کی ایسی حالتوں میں ہُوں
اُس کے قابل؟ ۔۔۔ یہ مضمون شاید چھوٹی بحر میں سما نہیں سکتا تھا۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 3:41 شام
تیر اُس نیمکش نگاہوں کا
میرے دل میں اتر چلا آخر
یہاں نگہ کا نیم کش ہونا بیان ہو رہا ہے، تیر کا ہونا چاہئے۔
اُس ۔۔ مراد "اُس کی؟" ۔۔ اضافت کو ہر جگہ حک نہیں کیا جا سکتا، اس سے الجھن ہوتی ہے۔
نیم کش تیر اُن نگاہوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو دیکھئے گا۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 3، 2014 3:41 شام
رنج راحت فزا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ اس کا دوسرا مصرع!

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا​
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 3:43 شام
آنے والا نہیں سکوں صاحب
آتے آتے مکر چلا آخر
یہاں سکون ایک کیفیت ہے جو میسر نہیں اور مکر جانا محبوب کے لئےمگر لفظیات کہہ رہی ہیں کہ سکون مکر گیا؟ قاری کو اتنا نہ دوڑائیے، وہ چھوڑ کے بھاگ جائے گا۔
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 3:45 شام
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا​
شکریہ جناب ۔۔ یہاں کنایہ کچھ اور تھا ;) کسی اور کے لئے۔ پتہ نہیں پہنچا کہ نہیں!!!
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 3، 2014 3:51 شام
خوش رہئے جناب عظیم ۔۔ یوں ہی کچھی پھرتے پھراتے پھر سہی۔
عظیم — اکتوبر 3، 2014 5:28 شام
خوش رہئے جناب عظیم ۔۔ یوں ہی کچھی پھرتے پھراتے پھر سہی۔

بابا سے ایک بار ذاتی مکالمے میں کہا تها -
بابا - آپ کا بیٹا چیتا ہے چیتا - - - -
مزمل شیخ بسمل — اکتوبر 3، 2014 8:35 شام
غیر مردف سے تو ہم مانوس ہیں، غیر مقفی (وہ بھی غزل) شاید میں بات پا نہیں سکا۔
مزمل شیخ بسمل سے پوچھتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ عظیم کی زیرِ نظر غزل کے قافیے کا صورتِ حال کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غیر مقفی تو نہیں ہوتی کوئی غزل۔ ہاں اس غزل میں قوافی درست نہیں ہیں۔ کیونکہ دوست اور دشمن آپس میں ہم قافیہ الفاظ نہیں تو انہیں قافیہ کرنا ممکن نہیں۔ جمع میں "وں" زائد ہے جو کہ در اصل ردیف کا حصہ ہے ۔ اس مد میں اسے غیر مقفی کہا ہے ابن رضا صاحب نے۔ یعنی اس غزل میں کوئی قافیہ ہی نہیں موجود رہا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-105