اس کو نکھاریئے
عظیم شہزاد صاحب! آپ میں بہت صلاحیت ہے اور فکری پختگی بھی جھلک رہی ہے۔ اوزان کے معاملے میں بھی آپ کامیاب دکھائی دے رہے ہیں، تاہم دیگر فنی حوالوں سے مزید توجہ دینی ہو گی۔ چند ایک سامنے سامنے کی باتیں دیکھ لیجئے:
یہاں ’’مرے‘‘ کو ’’مجھے‘‘ میں بدل کر دیکھئے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے لیکن لفظیات کی سطح وہ نہیں جو ہونی چاہئے۔
’”داستانِ الم‘‘ کی صوتیت شاید بہتر رہے گی۔
’’وہ‘‘ بہت دور چلا گیا، اس کو تعقیدِ لفظی کہتے ہیں۔
جناب
الف عین بہتر راہنمائی کر سکتے ہیں۔ مزید بات چیت پھر سہی۔
اللہ آپ پر اپنی رحمتوں کے سائے ہمیشہ قائم رکھے
آمین
جب سے آیا ہوں قید خانے میں
محو رہتا ہوں دن بتانے میں
اُس ستم گر سے کوئی پوچھے تو
راز کیا ہے مجھے ستانے میں
ظلم حد سے گزر بھی جانے دے
کچھ مزاہ ہو لہو بہانے میں
تنکا تنکا بکھیرنے والے
عمر لگتی ہے گھر بسانے میں
دفن دنیا نے کر دیا لیکن
وقت باقی تھا موت آنے میں
بے مروت ہو بے وفا تم ہو
تم سا دیکھا نہ اِس زمانے میں
لب پہ میرے جو سرد نالے ہیں
گونج اُٹھیں گے ہر ترانے میں
کون ہجراں میں جاں سے جاتا ہے
وصل درکار جاں سے جانے میں
کیا رقیبوں کی چال پنہاں تھی ؟
میرے دلبر نہ تیرے آنے میں
ڈھونڈتا ہوں میں داستانِ الم
اب خوشی کے ہر اک فسانے میں
شان محلوں کی وہ بھُلا دیں گے
آکے میرے غریب خانے میں
بعد میرے عظیم آئیں گے
وہ مرے اُجڑے آستانے میں