عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — اکتوبر 10، 2014 9:46 صبح

چاک اپنے گریبان کو کر کر نہیں دیکها
اپنے سا کسی اور نے مَر کر نہیں دیکها
دُنیا نے رکها دیکھ کسی اور کا غلبہ
دُنیا نے مرے دِل میں اُتر کر نہیں دیکها
گُزرے ہے یہاں دِن بهی قیامت کی طرح دیکھ
شب ہائے ہِجر تُو نے گُزر کر نہیں دیکها
واعظ تُجهے قبول ہے جنت مگر بتا
پهولوں سا اِس چمن میں بِکهر کر نہیں دیکها
مَیں اپنی ہی رفتار کو قابو میں رَکهوں کیا
اے کارواں کہ مَیں نے سُدهر کر نہیں دیکها
کرتا ہے کس وثوق سے عہدِ وفا کا قصد
عاشق نے تِرے خُود سے مُکر کر نہیں دیکها
اِس بزمِ دوستاں میں صنم ہم سا بهی کسی
تم سا بهی کسی اور نظر کر نہیں دیکها
سُدهرے گا حال کیا کہ عظیم آپ نے ہی خود
اپنے لئے جناب سدھر کر نہیں دیکها
مَیں رندِ خرابات ہُوں صاحب مگر ایسا
زاہد بهی کہیں سر کو یہ دَهر کر نہیں دیکها
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 10، 2014 9:52 صبح
پوری غزل کسی ایک بحر میں نہیں ہے شاید۔ اساتذہ کی توجہ درکار ہے
عظیم — اکتوبر 10، 2014 9:54 صبح
پوری غزل کسی ایک بحر میں نہیں ہے شاید۔ اساتذہ کی توجہ درکار ہے

اچھا کیا غلطیاں ہیں برائے کرم نشاندہی فرما دیجئے ۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 10، 2014 9:57 صبح
ہمارا مضمون ملاحظہ فرمائیے
عظیم — اکتوبر 10، 2014 9:59 صبح

ٹھیک ہے پڑھتا ہُوں ۔ کافی لمبا چوڑا مضمون ہے مگر کوئی تو خاص بات ہو گی کہ آپ نے لکھا ۔
عظیم — اکتوبر 10، 2014 10:09 صبح

جی جناب کونسی بحر ہے ؟ مجهے تو نہیں معلوم سیکهتا پهرتا ہوں -
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 10، 2014 10:30 صبح
ہماری مانیں تو اپنی تخلیقات کو اصلاحِ سخن کے زمرے میں پیش کریں تاکہ اساتذہ کی توجہ حاصل ہوسکے۔
عظیم — اکتوبر 10، 2014 10:35 صبح
-​
عظیم — اکتوبر 10، 2014 10:41 صبح
اصلاح کے لئے ہی حاضر ہے بهائی میں تو یہاں آتا ہی اپنی اصلاح کے لئے ہوں اب وہ اصلاح سخن میں ہو یا کہیں اور اصلاح کرنے والے اصلاح کر دیا کرتے ہیں سب کے سامنے اصلاح مانگتا پهرتا ہوں کوئی نہ کوئی تو رحم کر ہی دے گا -
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 10، 2014 10:54 صبح
لیجیے ہم نے اس غزل کو اصلاحِ سخن کے زمرے میں منتقل کردیا ہے۔ اب اساتذہ ضرور توجہ دیں گے۔
ہماری ناقص رائے کے مطابق پہلے چند ا شعار
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن​
کی بحر میں ہیں۔ خاص طور پر مندرجہ ذیل مصرعے

چاک اپنے گریبان کو کر کر نہیں دیکها
اپنے سا کسی اور نے مَر کر نہیں دیکها
دُنیا نے رکها دیکھ کسی اور کا غلبہ
دُنیا نے مرے دِل میں اُتر کر نہیں دیکها
گُزرے ہے یہاں دِن بهی قیامت کی طرح دیکھ
مَیں اپنی ہی رفتار کو قابو میں رَکهوں کیا
عاشق نے تِرے خُود سے مُکر کر نہیں دیکها
مَیں رندِ خرابات ہُوں صاحب مگر ایسا
زاہد بهی کہیں سر کو یہ دَهر کر نہیں دیکها
عظیم — اکتوبر 10، 2014 10:57 صبح
سب ہی استاد ہیں یہاں مجهے تو ہر کوئی ہر دن نئی بات سکها دیتا ہے - اللہ بهلا کرے آپ سب کا -
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 10، 2014 11:07 صبح
دوست یہاں ہم دونوں مبتدی ہیں، صرف اساتذہ کی نظرِ کرم ہے کہ محفل میں تشریف لاکرہم پر کرم فرماتے ہیں۔
آپ کے مندرجہ ذیل مصرعے
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن​
کی بحر میں نہیں ہیں۔

شب ہائے ہِجر تُو نے گُزر کر نہیں دیکها
واعظ تُجهے قبول ہے جنت مگر بتا
پهولوں سا اِس چمن میں بِکهر کر نہیں دیکها
اے کارواں کہ مَیں نے سُدهر کر نہیں دیکها
کرتا ہے کس وثوق سے عہدِ وفا کا قصد
عاشق نے تِرے خُود سے مُکر کر نہیں دیکها
اِس بزمِ دوستاں میں صنم ہم سا بهی کسی
سُدهرے گا حال کیا کہ عظیم آپ نے ہی خود
اپنے لئے جناب سدھر کر نہیں دیکها
عظیم — اکتوبر 10، 2014 11:21 صبح

اپنی نظروں سے گر گیا ہوں میں
شیخ صاحب سدهر گیا ہوں میں
بین کرتا تها وضع داری کا
آج خود سے مکر گیا ہوں میں
سوچتا تها کوئی مبلغ ہوں
بن کے فتنہ بکهر گیا ہوں میں
کوستا کیوں پهرا میں غیروں کو
اب تو اپنے سے ڈر گیا ہوں میں
تها کسی دشت سا مرا بچپن
اور جوانی میں مر گیا ہوں میں
کون صاحب کہاں کی عظمت آج
اپنی نظروں سے گر گیا ہوں میں
تهی مجهے کیا تلاش آخر کار
اس کے ہی ایک در گیا ہوں میں
عظیم — اکتوبر 10، 2014 12:00 شام

اِن حد سے گزرتوں کو گزرتے نہیں دیکها
عشاق کوئی آپ کا مرتے نہیں دیکها
دنیا نے رکها دیکھ ہواؤں کا بدلنا
دنیا نے ہواؤں کو گزرتے نہیں دیکها
اے گل ہزار آندهیاں تم نے سہیں مگر
یوں ٹوٹ کر تو تم کو بکهرتے نہیں دیکها
مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں
وعدوں سے آپ ایسا مکرتے نہیں دیکها
سدهرے ہزار لوگ مگر ہم نے بهی عظیم
سدهروں کے جیسا آپ سدهرتے نہیں دیکھا
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 10، 2014 12:24 شام
مندرجہ بالا غزل کی بحر پر بھی دوبارہ نظر دوڑائیے
عظیم — اکتوبر 10، 2014 12:28 شام

کس ستمگر کا انتظار کروں
چاک دامن کو تار تار کروں
محفلوں میں یوں غیر کی جا کر
میں ترا ذکر بار بار کروں
جانتا ہوں کہ میرا قاتل ہے
اک وہی شخص جس کو پیار کروں
میرے بس میں اگر ہوا کرنا
جان بهی آپ پر نثار کروں
کب تلک ٹهوکریں ہی کهاؤں میں
کب تلک صبر اختیار کروں
سید عاطف علی — اکتوبر 10، 2014 12:43 شام
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن ۔۔۔ یا۔فعولن۔یا ۔فاعلات
مفعول مفاعیل مفاعیل فاعلن ۔۔۔یا۔فعولن۔یا ۔فاعلات
عظیم۔یہ دو بحریں عموماً خلط ہو جاتی ہیں ۔ان میں ذرا زیادہ احتیاط کر لیا کرو۔ہمارے خلیل بھائی نے بر محل نظر ڈالی ہے اور صائب مشورے دیے ہیں ۔ ۔۔
عظیم — اکتوبر 10، 2014 12:43 شام
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن ۔۔۔ یا۔فعولن۔یا ۔فاعلات
مفعول مفاعیل مفاعیل فاعلن ۔۔۔یا۔فعولن۔یا ۔فاعلات
عظیم۔یہ دو بحریں عموماً خلط ہو جاتی ہیں ۔ان میں ذرا زیادہ احتیاط کر لیا کرو۔ہمارے خلیل بھائی نے بر محل نظر ڈالی ہے اور صائب مشورے دیے ہیں ۔ ۔۔

بہت شکریہ عاطف بھائی ۔
عظیم — اکتوبر 10، 2014 2:47 شام
بابا اب یہ بحور کے چکروں میں پڑ گیا - کبهی دستار اتاری تو کبهی چولا مگر کسی سے بهی خوب نہ بولا - خیر ماتها پهر سے تیار ہے پهوڑنے کو اب یہیں بیٹها ہوں اور انشاء اللہ جب آپ اجازت دیں گے تب ہی اٹهوں گا -
عظیم — اکتوبر 10، 2014 4:48 شام

یہ خبر دیجئے حریفوں کو
چاندنی چاہئے نصیبوں کو
آج تکتے ہیں کتنی حیرت سے
آپ امراء بهی ہم غریبوں کو
کر دکهائیں ہمارا چارہ آپ
آج تنہا ہی ان طبیبوں کو
کیا عجب ذائقوں سے رغبت ہو
شیخ و زاہد تمہیں عجیبوں کو
ناز کرتا ہوں پِیر ہونے پر
کانپتا دیکھ اِن ضعیفوں کو

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-110