کیا اب اتنا ستایا جاؤں گا
تیرے در سے اُٹھایا جاؤں گا
آپ کی اس حسین چوری سے
حیف میں بھی چرایا جاؤں گا
راہِ عشقِ بتاں سے گزروں پر
شیخ صاحب بلایا جاؤں گا
میں پیالہ ہوں کچی مٹی کا
توڑ کر پھر بنایا جاؤں گا
حرف ہوں کوئی اسطرح کا میں
لکھ لکھا کر مٹایا جاؤں گا
خوف آتا ہے اپنی حالت سے
حشر سے کیوں ڈرایا جاؤں گا
سوچتا ہوں عظیم دنیا میں
اور کب تک رلایا جاؤں گا