میری رائے کچھ سُرخ میں
کیا بتائیں کس کے غم میں چور ہیں
کیا کہیں کہ بے کس و مجبور ہیں
کس قدر ہم بے کس و مجبور ہیں
ہائے ہائے بد نصیبی ہو برا
پاس اپنے ہیں جب اس سے دور ہیں
خوش نصیبی، بد نصیبی، ہے یہ کیا
پاس ہوں اُسکے جب اُس سے دور ہوں
یوں چهپے بیٹهے ہیں تیری خلق سے
جس طرح شعلہ ء جبل طور ہیں
یوں چھپے بیٹھے خلق سے ہیں تری
ہم سے کیا تجه کو ہوا مطلوب اب ؟
ہم جو تیرے زکر پر معمور ہیں
ہم سے کیا مطلوب ہے تُجھ کو بتا؟