جنوں نے چھیڑ ڈالے تار کیسے
لبوں پر آگئے افکار کیسے
دکھائیں کس طرح سے زخم دل کے
بتائیں درد کی مقدار کیسے
سب اپنے بھی ہمارے اجنبی ہیں
شناسا ہم سے ہوں اغیار کیسے
بنا کر اپنی ہستی کی عمارت
یہ سوچیں اب کریں مسمار کیسے
مسیحا کو ہمارے فکر لاحق
شفا پائیں گے ہم بیمار کیسے
جو خود ہی نیند ابدی سو گیا ہو
وہ دل ہم کو کرے بیدار کیسے
خدایا ہم کو تُو اتنا بتا دے
کہ جائے ظلمتِ کردار کیسے
جو لمحے چال صدیوں کی چلیں گے
بھڑے گی وقت کی رفتار کیسے
عظیم اُس ایک وعدے کے لیئے تم
کرو گےموت کو انکار کیسے