مجھ سا بهی کہیں کیا دنیا میں تقدیر کا مارا رہتا ہے
یوں درد کے قصے سنتا ہے یوں غم کی کہانی کہتا ہے
چہرے پہ تبسم اور جس کی آنکهوں میں عجب رعنائی ہے
معلوم ہے کیا اُس کے دل میں اِک آگ کا دریا بہتا ہے
اے باد صبا کیا کوئی ہے، ہر شام جو اُس کی نظروں کے
یوں تیر جگر پر کهاتا ہے یوں کرب ِمسلسل سہتا ہے
وہ روز الجهتا ہے مجھ سے میں روز سلجھ سا جاتا ہوں
میں اور سلجھتا جاوں گا وہ اور الجهتا رہتا ہے
اے عالمِ برزخ کے مالک اے کون و مکاں کے خالق کیا
ہے وقت ابهی اُس ساعت میں جسے شیخ قیامت کہتا ہے
کب میں نے کہا اس سے ایسا وہ شخص قسم سے جهوٹا ہے
کہتا ہے کہی اپنی لیکن کہتا ہے کہ شاعر کہتا ہے
یوں درد کے قصے سنتا ہے یوں غم کی کہانی کہتا ہے
چہرے پہ تبسم اور جس کی آنکهوں میں عجب رعنائی ہے
معلوم ہے کیا اُس کے دل میں اِک آگ کا دریا بہتا ہے
اے باد صبا کیا کوئی ہے، ہر شام جو اُس کی نظروں کے
یوں تیر جگر پر کهاتا ہے یوں کرب ِمسلسل سہتا ہے
وہ روز الجهتا ہے مجھ سے میں روز سلجھ سا جاتا ہوں
میں اور سلجھتا جاوں گا وہ اور الجهتا رہتا ہے
اے عالمِ برزخ کے مالک اے کون و مکاں کے خالق کیا
ہے وقت ابهی اُس ساعت میں جسے شیخ قیامت کہتا ہے
کب میں نے کہا اس سے ایسا وہ شخص قسم سے جهوٹا ہے
کہتا ہے کہی اپنی لیکن کہتا ہے کہ شاعر کہتا ہے