کہیں گے سچ کہ حقیقت بیان کرتے ہیں
اُسی کا ذکر ہی زیرِ زبان کرتے ہیں
تو کیا ہُوا کہ محبت میں ہم جہاں بُھولے
تو کیا جو ہم ترا خود پر گمان کرتے ہیں
عجیب طرز کے محفل میں لوگ ہیں اُن کی
ہمیں سے غم کے وہ قصے بیان کرتے ہیں
ہمارے پاس کوئی غیر کیا نہیں اپنا
ہیں ایسے ایک جو اِک کا دھیان کرتے ہیں
پہنچ سکے نہیں صاحب وہ بات تک اپنی
جو کہہ رہے ہیں کہ صاحب بیان کرتے ہیں


