عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — اپریل 22، 2014 8:34 صبح
بیٹا
یہ تو دو بحریں خلط ملط ہو گئیں۔
فعولن فعولن فعولن فعو÷فعول
اور
فعولن فعولن فعولن فعولن

:) جی بابا
جزاک اللہ
عظیم — اپریل 22، 2014 9:21 صبح
کہیں گے سچ کہ حقیقت بیان کرتے ہیں
اُسی کا ذکر ہی زیرِ زبان کرتے ہیں
تو کیا ہُوا کہ محبت میں ہم جہاں بُھولے
تو کیا جو ہم ترا خود پر گمان کرتے ہیں
عجیب طرز کے محفل میں لوگ ہیں اُن کی
ہمیں سے غم کے وہ قصے بیان کرتے ہیں
ہمارے پاس کوئی غیر کیا نہیں اپنا
ہیں ایسے ایک جو اِک کا دھیان کرتے ہیں
پہنچ سکے نہیں صاحب وہ بات تک اپنی
جو کہہ رہے ہیں کہ صاحب بیان کرتے ہیں
عظیم — اپریل 22، 2014 10:00 صبح
بابا
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 22، 2014 10:22 صبح
مطلع کے دوسرے مصرع میں دو حصر بار ہوگیا ہے ، ”اسی“ بھی ہے اور ”ہی“ بھی۔ پھر ”زیر زبان کرنے“ میں غور فرمالیجیے۔
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 22، 2014 10:26 صبح
ہیں ایسے ایک جو اِک کا دھیان کرتے ہیں
لفظ دھیان کے بارے میں استاد محترم محمد یعقوب آسی صاحب کا ارشاد ہے:
اس ’’دھیان‘‘ میں دو باتوں پر دھیان دیجئے گا۔
اول یہ کہ اس کی یاے شعر میں نہیں بولتی جیسے کیا (سوالیہ)، پیارا، پیاس، کیوں میں نہیں بولتی۔
دوسرے اس کا نون غنہ نہیں ہو سکتا۔
عظیم — اپریل 22، 2014 10:26 صبح
مطلع کے دوسرے مصرع میں دو حصر دو بار ہوگیا ہے ، اسی بھی ہے اور ہی بھی۔ پھر زیر زبان کرنے میں غور فرمالیجیے۔

'' ہی '' تاکید ۔ ''زیرِ زبان'' بین السطور اگرچہ اس لفظ کی املا نہیں جانتا
محمد یعقوب آسی صاحب کیا یہ درست املا ہے ؟
عظیم — اپریل 22، 2014 10:28 صبح
ہیں ایسے ایک جو اِک کا دھیان کرتے ہیں
لفظ دھیان کے بارے میں استاد محترم محمد یعقوب آسی صاحب کا ارشاد ہے:

جزاک اللہ
محمد یعقوب آسی — اپریل 22، 2014 10:35 صبح
ہیں ایسے ایک جو اِک کا دھیان کرتے ہیں
لفظ دھیان کے بارے میں استاد محترم محمد یعقوب آسی صاحب کا ارشاد ہے:
اس ’’دھیان‘‘ میں دو باتوں پر دھیان دیجئے گا۔
اول یہ کہ اس کی یاے شعر میں نہیں بولتی جیسے کیا (سوالیہ)، پیارا، پیاس، کیوں میں نہیں بولتی۔
دوسرے اس کا نون غنہ نہیں ہو سکتا۔

تسلیم ہے حضور!
عظیم — اپریل 22، 2014 10:47 صبح
الف عین بابا
عظیم — اپریل 22، 2014 11:17 شام

جب بھی اُن کی گلی میں بُلائے گئے
ہم نگاہوں کو اپنی جھکائے گئے
غم کا کیا تذکرہ اب کریں، باخُدا
خُون رونے لگے جب ہنسائے گئے
اُن کی خواہش میں ایسے مٹے ساتھیو!
پھر نہ لوح و قلم سے مٹائے گئے
ظلم کی انتہا ہو گئی، ہاں ، مگر
کب اُنہیں ذخم دِل کے دِکھائے گئے
اُن کے در کی تمنا میں کیا اب کہیں
ہر کسی کے ہیں در سے اُٹھائے گئے
اب تو اُمید ٹُوٹی چلی دوستو !
صاحبو ! اب تو کتنا ستائے گئے
عظیم — اپریل 22، 2014 11:32 شام
۔۔۔۔۔۔
عظیم — اپریل 22، 2014 11:36 شام
برائے تنقید و تبصرہ
الف عین — اپریل 23، 2014 2:20 صبح
جب بھی اُن کی گلی میں بُلائے گئے
ہم نگاہوں کو اپنی جھکائے گئے
÷÷درست، اگرچہ جھکائے گئے‘ کا مطلب ہر جگہ ’جھکائے ہوئے گئے‘ ہی نہیں ہو تا۔ لیکن اتنی آزادی تو لی جا سکتی ہے
غم کا کیا تذکرہ اب کریں، باخُدا
خُون رونے لگے جب ہنسائے گئے
۔۔با خدا، خدا ے ساتھ، بخدا۔ خدا کی قسم، یہاں ’بخدا‘ کا محل ہے۔
ذکر غم کیا کریں ہم، خدا کی قسم
کر دو پہلے مصرع کو
اُن کی خواہش میں ایسے مٹے ساتھیو!
پھر نہ لوح و قلم سے مٹائے گئے
۔÷÷ بے معنی لگتا ہے، لوح و قلم سے مٹا دئے جانے کا مطلب ہے دنیا سے ہی رخصت ہونا۔ اگر یہ مراد ہے کہ ان کے عشق میں ’امر‘ ہو گئے تو الفاظ بدلنے کی ضرورت ہے۔
ظلم کی انتہا ہو گئی، ہاں ، مگر
کب اُنہیں ذخم دِل کے دِکھائے گئے
÷÷ہاں ، مگر‘ کہنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگلے مصرع میں کہا جائے گا کہ ظلم کی انتہا کے باوجود کچھ کیا گیا، لیکن جو یہاں کہا گیا ہے اس کا ظلم کی انتہا سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بھی دو لختی ہے۔
اُن کے در کی تمنا میں کیا اب کہیں
ہر کسی کے ہیں در سے اُٹھائے گئے
۔۔۔ دوسرا مصرع رواں نہیں، ”سنگ در سے اٹھائے گئے۔“کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ’کیا اب کہیں‘ کا استعمال مزید قوت کا مصرع چاہتا ہے۔
اب تو اُمید ٹُوٹی چلی دوستو !
صاحبو ! اب تو کتنا ستائے گئے
۔۔یہ مقطع ہے؟ صاحب نہیں آ سکا تو ’صاحبو‘ کر دیا؟
اس قدر ہم تو صاحب ستائے گئے
ٹوٹی چلی محاورے کے خلاف ہے، ’ٹوٹ چلی‘ کہا جاتا ہے۔
لیکن دونوں مصرعوں کو ملا کر دیکھنے میں کوئی خاص بات نہیں لگتی۔ محض بیانیہ ہے، خیال آرائی نہیں۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 23، 2014 2:30 صبح
'' ہی '' تاکید ۔ ''زیرِ زبان'' بین السطور اگرچہ اس لفظ کی املا نہیں جانتا
محمد یعقوب آسی صاحب کیا یہ درست املا ہے ؟

کہیں گے سچ کہ حقیقت بیان کرتے ہیں
اُسی کا ذکر ہی زیرِ زبان کرتے ہیں
’’جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے‘‘
’’عظیم لوگ کہاں کچھ دھیان کرتے ہیں‘‘ :sneaky:
الف عین — اپریل 23، 2014 2:46 صبح
کہیں گے سچ کہ حقیقت بیان کرتے ہیں
اُسی کا ذکر ہی زیرِ زبان کرتے ہیں
۔۔اسی، ہی اور زیر زبان کی بات ہو چکی ہے۔ لیکن اس شعر میں کہنا کیا چاہتے ہو۔ دونوں مصرع الگ الگ ایک بیان ہیں۔
تو کیا ہُوا کہ محبت میں ہم جہاں بُھولے
تو کیا جو ہم ترا خود پر گمان کرتے ہیں
÷÷واہ۔ بطور خاص دوسرا مصرع، لیکن پہلا مصرع کچھ ساتھ نہیں دے رہا۔ کیا بھولے؟ راستہ؟ پھر اس کا دوسرے مصرع سے تعلق؟
دو لخت کہوں گا تو تم برا مان جاتے ہو!!
عجیب طرز کے محفل میں لوگ ہیں اُن کی
ہمیں سے غم کے وہ قصے بیان کرتے ہیں
۔۔عجیب طرز کے ہیں لوگ ان کی محفل میں
بہتر ہو گا
ہمارے پاس کوئی غیر کیا نہیں اپنا
ہیں ایسے ایک جو اِک کا دھیان کرتے ہیں
۔۔دھیان بطور فعل بھی لایا جا سکتا ہے، لیکن دھیان کرنا اور دھیان رکھنا کے فرق پر غور کرو۔ یہاں شاید رکھنا ہونا چاہئے تھا۔
پہلے مصرع کی روانی بھی مار کھا رہی ہے، اور دو لخ۔۔۔۔۔
پہنچ سکے نہیں صاحب وہ بات تک اپنی
جو کہہ رہے ہیں کہ صاحب بیان کرتے ہیں
÷÷میں بھی پہنچ نہیں سکا کہ صاحب کیاکہنا چاہ رہے ہیں!!
عظیم — اپریل 23، 2014 7:21 صبح
جزاک اللہ : )
عظیم — اپریل 23، 2014 7:29 صبح
کہیں گے سچ کہ حقیقت بیان کرتے ہیں
اُسی کا ذکر ہی زیرِ زبان کرتے ہیں
’’جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے‘‘
’’عظیم لوگ کہاں کچھ دھیان کرتے ہیں‘‘ :sneaky:

قبلہ شرمندہ تو مت کیجئے :straightface:
'' عظیم لوگ '' :embarrassed:
عظیم — اپریل 23، 2014 7:33 صبح
کہیں گے سچ کہ حقیقت بیان کرتے ہیں
اُسی کا ذکر ہی زیرِ زبان کرتے ہیں
۔۔اسی، ہی اور زیر زبان کی بات ہو چکی ہے۔ لیکن اس شعر میں کہنا کیا چاہتے ہو۔ دونوں مصرع الگ الگ ایک بیان ہیں۔
تو کیا ہُوا کہ محبت میں ہم جہاں بُھولے
تو کیا جو ہم ترا خود پر گمان کرتے ہیں
÷÷واہ۔ بطور خاص دوسرا مصرع، لیکن پہلا مصرع کچھ ساتھ نہیں دے رہا۔ کیا بھولے؟ راستہ؟ پھر اس کا دوسرے مصرع سے تعلق؟
دو لخت کہوں گا تو تم برا مان جاتے ہو!!
عجیب طرز کے محفل میں لوگ ہیں اُن کی
ہمیں سے غم کے وہ قصے بیان کرتے ہیں
۔۔عجیب طرز کے ہیں لوگ ان کی محفل میں
بہتر ہو گا
ہمارے پاس کوئی غیر کیا نہیں اپنا
ہیں ایسے ایک جو اِک کا دھیان کرتے ہیں
۔۔دھیان بطور فعل بھی لایا جا سکتا ہے، لیکن دھیان کرنا اور دھیان رکھنا کے فرق پر غور کرو۔ یہاں شاید رکھنا ہونا چاہئے تھا۔
پہلے مصرع کی روانی بھی مار کھا رہی ہے، اور دو لخ۔۔۔ ۔۔
پہنچ سکے نہیں صاحب وہ بات تک اپنی
جو کہہ رہے ہیں کہ صاحب بیان کرتے ہیں
÷÷میں بھی پہنچ نہیں سکا کہ صاحب کیاکہنا چاہ رہے ہیں!!

بابا تسی تے ناں بس ! :(
بچے دی جان لو گے :worried:
عظیم — اپریل 23، 2014 7:44 صبح
یااللہ
محمد یعقوب آسی — اپریل 23، 2014 7:46 صبح
بابا تسی تے ناں بس ! :(
بچے دی جان لو گے :worried:
بچے دی جان بچے گی جے بابیاں توں بچے گا، یا پھر بابیاں دے آکھے لگ کے غلطیاں تو بچے گا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-48