غزل
نگاہِ یار کے جُز کُچھ نہیں ہے
مِرے دلدار کے جُز کُچھ نہیں ہے
نہیں ہے کُچھ مری خاطر یہ دُنیا
مرے انکار کے جُز کُچھ نہیں ہے
ہے کیا محشر میں رسوائی کا خدشہ
بس اک اقرار کے جُز کُچھ نہیں ہے
نظر کے سامنے ہے ایک منظر
کہ پردہ دار کے جُز کُچھ نہیں ہے
بتائیں کیا تُمہیں اُس کی جفائیں
وہ جس کے پیار کے جُز کُچھ نہیں ہے
اُنہیں صاحب بس اتنا تُم بتا دو
کہ حق حقدار کے جُز کُچھ نہیں ہے
محمد عظیم صاحب
نگاہِ یار کے جُز کُچھ نہیں ہے
مِرے دلدار کے جُز کُچھ نہیں ہے
نہیں ہے کُچھ مری خاطر یہ دُنیا
مرے انکار کے جُز کُچھ نہیں ہے
ہے کیا محشر میں رسوائی کا خدشہ
بس اک اقرار کے جُز کُچھ نہیں ہے
نظر کے سامنے ہے ایک منظر
کہ پردہ دار کے جُز کُچھ نہیں ہے
بتائیں کیا تُمہیں اُس کی جفائیں
وہ جس کے پیار کے جُز کُچھ نہیں ہے
اُنہیں صاحب بس اتنا تُم بتا دو
کہ حق حقدار کے جُز کُچھ نہیں ہے
محمد عظیم صاحب