عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — جون 18، 2014 1:33 شام
خُود سے کتنے خراب دیکھے ہیں
سب ہی صاحب جناب دیکھے ہیں
اب فقیری میں دورِ حاضر کیا
اِس سے بڑھ کر سراب دیکھے ہیں
میری آنکھوں پہ کُچھ ترس کھاؤ
اِن نے چاہت کے خواب دیکھے ہیں
ہم نے اپنی خطائیں اور واعظ
تُم نے اپنے ثواب دیکھے ہیں
بے خُودی میں نہ ڈوب جائیں کیوں
لوگ محوِ شراب دیکھے ہیں
جس نے ہم سے بُرے نہیں دیکھے
اُس نے خُود سے خراب دیکھے ہیں
صاحب اُن کا سوال رکهنے پر
دنیا بهر کے جواب دیکھے ہیں
عظیم — جون 18، 2014 10:14 شام
اُن سے امید ہے وفاؤں کی
تنگ جھولی ہے جن خُداؤں کی
طاق پر اِک چراغ رکھ میں نے
دشمنی دیکھ لی ہواؤں کی
ہے سفر آخرت کا در پیش اور
یاد آئی ہے اپنے گاؤں کی
میری دُنیا اُجاڑ کر اُس نے
خُو بدل دی ہے اِن فضاؤں کی
عشق میں مبتلا ہوں میں صاحب
ہے ضرورت مجهے دعاؤں کی
عظیم — جون 18، 2014 10:33 شام
جنوں کو آزمانے پر تُلے ہیں
کُچھ ایسا کر دِکھانے پر تُلے ہیں
تمہاری دید کی خواہش میں جاناں
یہ دُنیا بُھول جانے پر تُلے ہیں
جنہیں ہم نے ہمارا دوست جانا
وہی دشمن بنانے پر تُلے ہیں
ہم ایسے قیس ڈھونڈو تو اے لیلی
تُجھے دِل سے بُھلانے پر تُلے ہیں
خُدا جانے ہے کیسا ہم کو دعوہ
کہ ہم کیا کر دِکھانے پر تُلے ہیں
عظیم اُن کے لئے بے چین کیوں ہو
جو تم کو یوں ستانے پر تُلے ہیں
عظیم — جون 19، 2014 8:37 صبح
غزل
تھے جفاکار کیا وفا کرتے
کیا سلوک ہم سے ناروا کرتے
وقت وہ بھی گُزارا آہوں میں
جس میں بہتر تھا ہم دُعا کرتے
اُن سے اُن کی جفا کا جا کر ہم
سوچتے ہیں گلہ بھی کیا کرتے
رسمِ شہرِ بُتاں تھی دینا درد
کیوں مرے درد کی دوا کرتے
اپنے بس میں اگر یہ ہوتی جان
روح کو جسم سے رہا کرتے
تھا ہماری ہی دُھن میں کوئی عیب
ورنہ کُچھ لوگ سر دُھنا کرتے
جن کو اپنا پکارتے صاحب
کاش وہ لوگ اب ہُوا کرتے
ہم بھی اِک بُت تراش لائیں گے
تھک چکے ہیں خُدا خُدا کرتے
عظیم — جون 19، 2014 8:49 صبح
سینے کا درد، زخم جگر کا دِکھا دِیا
صاحب نے بزمِ یار میں سب کو رُلا دِیا
دیکھو عظیم تُم بھی نبھاکر تو دیکھ لو
مومن نے اِس زمین کو مسجد بنا دِیا
عظیم — جون 19، 2014 9:14 صبح
ڈھل چُکی شام دِل جلا جاتے
پھر رقیبوں کے ساتھ آ جاتے
کل میسر نہیں ہوا کھانا
عین ممکن تھا خُود کو کھا جاتے
اُس نے دیکھا ہی کب مری جانب
ورنہ اُس کی نظر کو بھا جاتے
ہم سے ممکن نہ ہو سکا، ورنہ
تم کو زخمِ جگر دِکھا جاتے
کیسی رغبت ہے اُس ستمگر سے
کاش اہلِ کرم بتا جاتے
سوچتے ہیں عظیم دنیا کو
اِس گدائی کے گُن سکھا جاتے
عظیم — جون 19، 2014 9:22 صبح
کیا مرا ضبط آزمائیں گے
تُجھ طرح لوگ بھی ستائیں گے
اے مرے یار تیرے بارے ہم
جانتے کیا ہیں جو بتائیں گے
یاد آتا ہے مسکرانا پر
عمر بھر اشک ہی بہائیں گے
تُم ہی کہہ دو کہ ہم متاعِ جاں
کیوں کسی غیر پر لٹائیں گے
زندگی بھر نہیں ملا ، صاحب
خاک مر کر قرار پائیں گے
عظیم — جون 19، 2014 11:22 صبح
دیوانہ جانتے ہیں ،مُجھے اِس جہاں کے لوگ
یارب نہ ہوں کُچھ ایسے ہی اِن سے وہاں کے لوگ
بیٹھے ہیں تیری سمت کو قبلہ نما سمجھ
زیرِ زمین خاک سے اُس آسماں کے لوگ
پائندہ باد ، زندہ و آباد تُو رہے
بد بخت ہیں مریں گے ہم اہلِ زباں کے لوگ
بزمِ یارانِ یار سجائے نہ بَن پڑے
ہیں منتظر مکان میں کُچھ لامکاں کے لوگ
ڈھونڈو تو ڈھونڈ لاؤ پہ صاحب سے گر مِلیں
تُجھ کو ترے جہان میں زاہد بُتاں کے لوگ
عظیم — جون 19، 2014 12:11 شام
تمہارے غم میں جینے، اور مرنے کی کہانی ہے
سنو اے گل بدن، سُن تو لو میری ہی زبانی ہے
لہو سا رنگ ہے لیکن یقین اے مہرباں جانو
مری پلکوں پہ آنسو ہیں مری آنکھوں میں پانی ہے
کہاں تدبیر حق کا کوئی متبادل نظر آیا
فقیہِ شہر کی دہلیز پر ہی دُم ہلانی ہے
تمہاری اِس نمائش اس بناوٹ نے بتاؤ کیا
تمہارے اجنبی سے آخرش پہچاں کرانی ہے
تباہی تو تباہی وہ ہے جو اس جاں پہ آنی ہے
مٹاکر دُنیاوی ہستی کسی نے کیا مٹانی ہے
جہاں پر بات کرنے کی اجازت بھی نہیں صاحب
وہیں ضد ہے کہ اپنی داستانِ غم سنانی ہے
واسطی خٹک — جون 19، 2014 12:25 شام
ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺗﻮ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺟﺎﮞ ﭘﮧ ﺁﻧﯽ ﮨﮯ
ﻣﭩﺎﮐﺮ ﺩُﻧﯿﺎﻭﯼ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﭩﺎﻧﯽ ﮨﮯ
wah
سید عاطف علی — جون 19، 2014 12:39 شام
واہ صاحب واہ۔
پہچاں کے نون کو غنہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس بارے میں رائے لے لیجیے۔
عظیم — جون 19، 2014 12:41 شام
واہ صاحب واہ۔
پہچاں کے نون کو غنہ نہیں کیا جساکتا ۔ اس بارے میں رائے لے لیجیے۔

بہت شکریہ آپ کا وہ مصرع بہت پسند آیا تھا اِس لئے اُس پر طبع آزمائی کی کُچھ ناگوار گُذرا ہو تو معزرت
سید عاطف علی — جون 19، 2014 12:47 شام
بہت شکریہ آپ کا وہ مصرع بہت پسند آیا تھا اِس لئے اُس پر طبع آزمائی کی کُچھ ناگوار گُذرا ہو تو معزرت
کونسا والا ؟
مجھے تو بلکہ اچھا لگا ۔:)
عظیم — جون 19، 2014 12:48 شام
تمہاری اِس نمائش اِس بناوٹ نے بتاؤ کیا
کوئی تدوین صورت میں تُمہاری کر دِکھانی ہے
عظیم — جون 19، 2014 12:49 شام
کونسا والا ؟
مجھے تو بلکہ اچھا لگا ۔:)

فقیرِ شہر کی دہلیز پہ بس دُم ہلانی ہے
ایسا ہی کُچھ ہے
عظیم — جون 19، 2014 12:52 شام
تمہارے غم میں جینے، اور مرنے کی کہانی ہے
سنو اے گل بدن، سُن لو کہ میری ہی زبانی ہے
لہو سا رنگ ہے لیکن یقین اے مہرباں جانو
مری پلکوں پہ آنسو ہیں مری آنکھوں میں پانی ہے
کہاں تدبیر حق کا کوئی متبادل نظر آیا
فقیہِ شہر کی دہلیز پر ہی دُم ہلانی ہے
تباہی تو تباہی وہ ہے جو اس جاں پہ آنی ہے
مٹاکر دُنیاوی ہستی کسی نے کیا مٹانی ہے
جہاں پر بات کرنے کی اجازت بھی نہیں صاحب
وہیں ضد ہے کہ اپنی داستانِ غم سنانی ہے
عظیم — جون 19، 2014 12:54 شام
امیرِ شہر کی دہلیز پہ بس دُم ہلانی ہے
یُوں ہے کُچھ
الف عین — جون 19، 2014 3:50 شام
واہ یہ تو اچھی غزل کہہ دی ہمارے شیر نے!!
الف عین — جون 19، 2014 3:51 شام
لیکن بھرتی کے الفاظ اس میں بھی ہیں، جن سے بچنا چاہئے تھا۔
عظیم — جون 19، 2014 3:55 شام
واہ یہ تو اچھی غزل کہہ دی ہمارے شیر نے!!

:rolleyes:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-67