عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — اگست 21، 2014 9:48 صبح
بابا ۔
عظیم — اگست 21، 2014 10:43 صبح
چلئے جناب آپ کے دیوانے ہی سہی
دُنیا ہے ہوشمند تو مستانے ہی سہی
شمعِ غزل نہ ہم کو میسر ہُوئی تو کیا
محفل میں اُڑ پھریں جو پروانے ہی سہی
دیکھیں حضور آپ ہمارے نہیں مگر
کُچھ تو جناب ہو گئے بیگانے ہی سہی
ہو کر قریب اتنا دُوری تو کم کرو
مرجائیں ہم سے آپ پر مرجانے ہی سہی
تُم بھی اے ظالمو کُچھ ہم سے لحاظ برتو
اپنوں سے ہم بھلے ہیں بیگانے ہی سہی
صاحب نہیں جو مسجد آباد آج کیا ہے
ہم سے منافقوں کے میخانے ہی سہی
عظیم — اگست 21، 2014 11:17 صبح
بابا میں صحیح ہوں کیا ؟ سہی یا صحیح ؟ اور یہ ہوشمنددددد پڑھا جاتا ہے یا '' تو '' کا اضافہ کرنا ہی پڑے گا ؟
عظیم — اگست 21، 2014 11:31 صبح
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
عظیم — اگست 21، 2014 12:08 شام
اپنی رسوائیوں سے ڈرتے ہیں
کب ترے عشق سے مکرتے ہیں
ہم سے بہتر جناب جانیں آپ
کیا جدائی کے دن گزرتے ہیں
جن کا غم چاہئے تھا جینے کو
آج شکوہ بھی اُن سے کرتے ہیں
وہ ہمیں دیکھتے ہیں چلمن سے
اور دنیا سے پردہ کرتے ہیں
کیا کہیں اپنی بد نصیبی تُجھ
ہم سے بگڑے بھی کب سدھرتے ہیں
صاحب اپنا گمان ہے شاید
شعر کب یوں کہیں اترتے ہیں
عظیم — اگست 21، 2014 12:24 شام
کُچھ تو کہئے بھلے برا کہئے
ہم سے اپنا بھی کُچھ کہا کہئے
ایسی ناراضگی ہمیں سے کیوں
کب تلک دیکھئے خفا کہئے
یُوں ہے گر مار ڈالئے مُجھ کو
پر ہے کیا عشق کی سزا کہئے
دیجئے وہم سے نجات آخر
ایک ایمان تک رسا کہئے
آپ ہی اے مرے طبیبِ جاں
درد کی ہے مرے دوا کہئے
ہو گئے ایک پل میں کس کے آپ
ایسا ہونا کہیں ہوا کہئے
کس کو صاحب کہیں جُدا خُود سے
خود کو کس سے جدا جدا کہئے
عظیم — اگست 21، 2014 1:18 شام
مُجھ سے نظریں بدل نہ جانا سُن
دیکھ ایسے نہ آزمانا سُن
جس کو جلوت میں ڈھونڈتا ہے شیخ
میری خلوت ہے اُس کا آنا سُن
سلمان حمید — اگست 21، 2014 1:53 شام
اتنے اچھے مگر فقط دو شعر؟
باقی اشعار لکھ کے جانا سن
عظیم — اگست 21، 2014 2:07 شام
اک یہی غم نہیں مجهے صاحب
روز پڑتا ہے کُچھ کمانا ----- سن !
---
سلمان حمید — اگست 21، 2014 2:24 شام
آج سب شعر سن کے جائیں گے
اب سنیں گے نہیں بہانا سن
عظیم — اگست 21، 2014 2:26 شام
سب کے سب شعر سن کے جائیں گے
ہم سنیں گے نہیں بہانا سن
یوں نہ عاشق کو آزمانا سن
جان دے دے گا یہ دوانہ سن
سلمان حمید — اگست 21، 2014 2:32 شام
اب تری جان لے کے جاؤں گا
اپنے وعدے سے پِھر نہ جانا سن
عظیم — اگست 21، 2014 2:40 شام
دیکھ اس بار چهوڑ دیتے ہیں
رعب ایسا نہ پهر دکهانا ---- سن
تجھ سے ہم بے ادب نہیں صاحب
با ادب ہو گیا زمانہ سن
سلمان حمید — اگست 21، 2014 3:12 شام
جس سے وعدے وفا کی باتیں کیں
بولا یہ اک نیا فسانہ سن
ہم کو دنیا سے کیا غرض صاحب
اب اسے بیچ میں نہ لانا سن
عظیم — اگست 21، 2014 3:23 شام
ہم کو دنیا سے کیا غرض صاحب
یہ ٹهکانا نہیں ٹهکانا سن
عظیم — اگست 21، 2014 3:26 شام
التجا تجھ سے ہم کریں صاحب
اس سے آگے نہ کُچھ سنانا --- سن :donttellanyone:
واسطی خٹک — اگست 22، 2014 7:52 صبح
دل لفافے میں بهیجا آپ نے کمال کر دیا حضور
ہمیں بھی سکهائیں یہ ہنر
عظیم — اگست 22، 2014 9:19 صبح
مُجھ سے نظریں بدل نہ جانا سُن
جان دے دے گا یہ دِوانہ سُن
جس کو جلوت میں ڈھونڈتا ہے شیخ
اپنی خلوت ہے اُس کا آنا سُن
سُن کر اوروں کے نغمہ ہائے ناز
میری آہوں بھرا ترانہ سُن
مُجھ کو وحشت ہے اِس زمانے سے
کاٹ کھاتا ہے یہ زمانہ سُن
کب کہاں جاؤں تُجھ کو جاں دے کر
میری ہستی ہے اِک فسانہ سُن
اے زمانے تُو سُن تو رکھا ہے
پر یہ نغمہ نیا ترانہ سُن
کون کرتا ہے یاد تُجھ صاحب
بات غیروں کی شاعرانہ سُن
عظیم — اگست 22، 2014 9:21 صبح
سلمان حمید بھائی سُن لیجئے ۔
عظیم — اگست 22، 2014 9:26 صبح
بابا ۔ اِش میں توئی تت بندی نئیں اول نہ ہی دو لُکھتی ہے ۔ تشم لے لیں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-78