عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — اگست 27، 2014 11:06 صبح
اب بھی قوافی درست ہیں، کہ مشترکہ حروف ’بوں‘ ہے، اور اس سے پہلے ’ی‘ پر ختم ہونے والے حروف
اصل صورت میں بھی درست تھے۔ مشترک حروف ’وں‘ ، فوں۔ بوں۔ دوںُ وغیرہ قوافی۔
تکنیکی بات نہیں کر رہا کہ مہرے ذہن میں خود حرف روی کی تعریف مبہم ہے!!

بابا میں نے بھی بوں فوں بوں باندھا تھا ۔ خیر اِسی بہانے ایک اور مشق ہو گئی ۔
ابن رضا — اگست 27، 2014 11:07 صبح
اب بھی قوافی درست ہیں، کہ مشترکہ حروف ’بوں‘ ہے، اور اس سے پہلے ’ی‘ پر ختم ہونے والے حروف
اصل صورت میں بھی درست تھے۔ مشترک حروف ’وں‘ ، فوں۔ بوں۔ دوںُ وغیرہ قوافی۔
تکنیکی بات نہیں کر رہا کہ مہرے ذہن میں خود حرف روی کی تعریف مبہم ہے!!
استادِ محترم یہاں بسمل بھائی کو زحمت دیتے ہیں
الف عین — اگست 27، 2014 11:07 صبح
وفا فالا تو درست ہو گیا لیکن صحیح سہی پسند نہیں آیا۔ میرا ہی متجوزہ مصرع بہتر ہے۔
عظیم — اگست 27، 2014 11:09 صبح
وفا فالا تو درست ہو گیا لیکن صحیح سہی پسند نہیں آیا۔ میرا ہی متجوزہ مصرع بہتر ہے۔

اچھا اچھا یہی سہی یارو
عظیم — اگست 27، 2014 11:29 صبح
استادِ محترم یہاں بسمل بھائی کو زحمت دیتے ہیں

اُستادِ محترم نہیں آپ دیتے ہیں ۔ زحمت ( مذاق )
عظیم — اگست 27، 2014 11:56 صبح
اور دنیا میں کیا کروں یارب
گر نہ آہ و بکا کروں یارب
جن میں لپٹا ہے غم زمانے کا
ایسی خوشیوں کا کیا کروں یارب
مُجھ سے کیسی وفا کی امیدیں
میں تو خُود سے جفا کروں یارب
ہے مگر کرب کے گزارا کب
جانتا ہُوں بُرا کروں یارب
کوئی میرا بھلا نہیں چاہے
میں تو اپنا بھلا کروں یارب
اتنا خود دار ہو گیا ہوں میں
آج تُجھ سے گلا کروں یارب
پوچھتے ہو عظیم صاحب کیا
کیا کروں کیا کِیا کروں یارب
مزمل شیخ بسمل — اگست 27، 2014 4:46 شام
میرے نزدیک دوسری صورت میں قوافی درست ہیں۔ پہلی صورت میں ایطائے خفی پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر بہت ہی زیادہ مجبوری ہے تو کام چلایا جاسکتا ہے۔ لیکن فنی اعتبار سے غزل کے قوافی مجروح رہیں گے۔
عظیم — اگست 28، 2014 8:37 صبح
کتنا مغرور ہو گیا ہُوں مَیں
تُجھ سے بھی دُور ہو گیا ہُوں مَیں
یاد تیری تھی میری عادت پر
اب تو مجبور ہو گیا ہُوں مَیں
تُم ہی مُجھ کو سمیٹ پاؤ گے
اسقدر چُور ہو گیا ہُوں مَیں
خاکساری مرا مقدر تھی
یہ جو غیور ہو گیا ہُوں مَیں
میری مٹی کو بھی جِلا بخشو
دیکھ لو طور ہو گیا ہُوں مَیں
ظاہرا میں تھا ناتواں لیکن
آج مقدور ہو گیا ہُوں مَیں
صاحب ایسا بھی کیا ہُوا مُجھ کو
یہ جو مغرور ہو گیا ہُوں مَیں
عظیم — اگست 28، 2014 8:39 صبح
بابا ۔
عظیم — اگست 28، 2014 8:43 صبح
دوستوں سے رائے کی درخواست ہے ۔
عظیم — اگست 28، 2014 9:09 صبح
مُجھ کو دیوانہ کر گئی یارو
اُس مرے یار کی نہی یارو
کیوں سنوں غیر کا کہا جبکہ
بھول بیٹھا ہوں ہر کہی یارو
میں نے مانا گناہ گار تھا مَیں
اچھا یونہی صحیح سہی یارو
ہر تمنا گو مٹ چکی ہے لیک
دِل میں حسرت سی اک رہی یارو
بے وفائی کا جن کی چرچا ہو
بات اُن کی وفاؤں کی یارو
ایک صورت ہے میری آنکھوں میں
ایک مورت ہے یار سی یارو
دل دھڑکتا ہے کانپ جاتا ہُوں
دَم نکلنا ہے کیا یہی یارو
اب وہ آئیں تو کس لئے آخر
کرنے صاحب سے دُشمنی یارو
عظیم — اگست 28، 2014 9:38 صبح
یار کوئی میرا دوست بنے گا ؟
ابن رضا — اگست 28، 2014 10:17 صبح
جی احقر حاضر ہے:)
عظیم — اگست 28، 2014 10:24 صبح

رائے کی درخواست ہے ۔
ابن رضا — اگست 28، 2014 10:48 صبح
رائے کی درخواست ہے ۔
اپنی کوتاہ بینی کا پیشگی اعتراف کرتے ہوئے کچھ گزارشات (اوزان سے قطع نظر)
کتنا مغرور ہو گیا ہُوں مَیں
تُجھ سے بھی دُور ہو گیا ہُوں مَیں
دوسرے مصرع کا مخاطب کون ہے؟ اس میں کچھ ایسا اندازِ بیاں اپنایا گیا ہے کہ جیسے پہلے مصرعمیں کچھ کہا گیا ہو کہ میں فلاں سے تو دور تھا ہی اب تم سے بھی دور ہو گیا ہوں۔ گویا دونوں مصرع باہم مربوط محسوس نہیں ہوتے۔
یاد تیری تھی میری عادت پر
اب تو مجبور ہو گیا ہُوں مَیں
یاد کا عادت پر ہونا چہ معنی دارد؟ اور یہ محاورا بھی نہیں اور بالفرض محال یاد تیری میری عادت پر ہو بھی تو اس میں اب مجبور ہونے والی کیا بات ہے؟ گویا دونوں مصرع باہم مربوط محسوس نہیں ہوتے۔
تُم ہی مُجھ کو سمیٹ پاؤ گے
اسقدر چُور ہو گیا ہُوں مَیں
دوسرا مصرع پہلے مصرع میں نفی کا متقاضی ہے کہ جیسے کہ اب تم بھی نہ مجھ کو سمیٹ سکو گے کہ اس قدر چور ہو گیا ہوں۔ ایسے بات بنتی دکھائی نہیں دیتی۔
خاکساری مرا مقدر تھی
یہ جو غیور ہو گیا ہُوں مَیں
باہم غیر مربوط۔
فی الوقت اتنی ہی دوستی کافی ہے یا مزید درکار ہے؟
عظیم — اگست 28، 2014 10:51 صبح
اپنی کوتاہ بینی کا پیشگی اعتراف کرتے ہوئے کچھ گزارشات (اوزان سے قطع نظر)
کتنا مغرور ہو گیا ہُوں مَیں
تُجھ سے بھی دُور ہو گیا ہُوں مَیں
دوسرے مصرے کا مخاطب کون ہے؟ اس میں کچھ ایسا اندازِ بیاں اپنایا گیا ہے کہ جیسے پہلے مصرے میں کچھ کہا گیا ہو کہ میں فلاں سے تو دور تھا ہی اب تم سے بھی دور ہو گیا ہوں۔ گویا دونوں مصرے باہم مربوط محسوس نہیں ہوتے۔
یاد تیری تھی میری عادت پر
اب تو مجبور ہو گیا ہُوں مَیں
یاد کا عادت پر ہونا چہ معنی دارد؟ اور یہ محاورا بھی نہیں اور بالفرض محال یاد تیری میری عادت پر ہو بھی تو اس میں اب مجبور ہونے والی کیا بات ہے؟ گویا دونوں مصرے باہم مربوط محسوس نہیں ہوتے۔
تُم ہی مُجھ کو سمیٹ پاؤ گے
اسقدر چُور ہو گیا ہُوں مَیں
دوسرا مصرع پہلے مصرع میں نفی کا متقاضی ہے کہ جیسے کہ اب تم بھی نہ مجھ کو سمیٹ سکو گے کہ اس قدر چور ہو گیا ہوں۔ ایسے بات بنتی دکھائی نہیں دیتی۔
خاکساری مرا مقدر تھی
یہ جو غیور ہو گیا ہُوں مَیں
باہم غیر مربوط۔
فی الوقت اتنی ہی دوستی کافی ہے یا مزید درکار ہے؟

خُوب حق ادا کِیا دوستی کا صاحب ۔ جزاک اللہ ۔
جی نہیں محترم اتنی ہی دوستی کافی ہے ابھی اتنی برداشت نہیں ۔
عظیم — اگست 28، 2014 10:58 صبح
پوچھتے ہیں اے مخاطب کون ہے
ہم بتائیں کیا کہ کاتب کون ہے
نام غالب کا سنا رکھا تھا پر
کوئی بتلا دے یہ صاحب کون ہے
( مذاق )
عظیم — اگست 28، 2014 11:16 صبح
پوچھتے ہیں اے مخاطب کون ہے
ہم بتائیں کیا کہ کاتب کون ہے
نام غالب کا سنا رکھا تھا پر
کوئی بتلا دے یہ صاحب کون ہے
( مذاق )

ابن رضا بهائی غلط ریٹنگ کردی آپ نے - اسے پر مزاح کی ریٹنگ ملنی چاہیئے تهی - بهلا اس میں کیا معلوماتی ؟
ابن رضا — اگست 28، 2014 11:32 صبح
ابن رضا بهائی غلط ریٹنگ کردی آپ نے - اسے پر مزاح کی ریٹنگ ملنی چاہیئے تهی - بهلا اس میں کیا معلوماتی ؟
ارے بھیا وہی جو بریکٹس میں ہے:)
عظیم — اگست 28، 2014 11:36 صبح
ارے بھیا وہی جو بریکٹس میں ہے:)

اچھا دوست تنگ تو مت آؤ :p

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-82