اپنے ہی غم میں مبتلا رکها
ایسا بندہ ہمیں بنا رکها ڈال کر خوف دل میں محشر کا
حشر سا اس نے اک اٹها رکها کیوں کریں فکر روزگاری کی
کس نے دنیا کو ہے کما رکها ہم نے ان محفلوں میں اپنا ہی
اک تماشا سا تها لگا رکها کام جو آج ہونے والا تها
ہم نے اسکو بهی کل اٹها رکها تم سے بهی دیکه جا چکا عالم
اور ہم کو بهی کیوں دکها رکها خواہشیں آرزوئیں مجبوری
ایسی باتوں ہے آج کیا رکها صاحب اس شوق نے ہمیں ہر دم
آپ اپنے سے بهی جدا رکها
عظیم — ستمبر 9، 2014 11:42 صبح
کیا یہی خو ہے تم نرالوں کی
بات کرتے ہو گزرے سالوں کی کیوں تغافل کا ان کے شکوہ ہو
یہ تو عادت ہے حسن والوں کی کوئی قسمت کا دیکهے پهر جانا
اس پہ خوبی پهر ان کی چالوں کی کیا ہماری جناب ہے صاحب
ہے یہ نعمت جناب والوں کی ہم کہ ان کی مثال دے جائیں
شکل دیکهی ہے ان مثالوں کی
عظیم — ستمبر 9، 2014 12:09 شام
کیا کروں مجه میں آ بسا ہے عشق
جانتا ہوں بری بلا ہے عشق کیسے بتلاوں اے جہاں والو
آپ سب نے فقط سنا ہے عشق مجه سے بیمار کا مسیحا ہے
میرے ہر درد کی دوا ہے عشق اک خلل ہے دماغ کا شاید
روح انسان کی غذا ہے عشق آپ اپنے میں مبتلا پایا
آپ اپنے کو ہو گیا ہے عشق کیا کہوں اس کی عظمتیں صاحب
میرے قد سے کہیں بڑا ہے عشق
نیرنگ خیال — ستمبر 9، 2014 12:27 شام
بہت خوب عظیم صاحب۔ شاندار ہے غزل۔ داد قبول کیجیئے۔
عظیم صاحب کے حکم پر کیا کروں مجھ میں آ بسا ہے عشق
جانتا ہوں بری بلا ہے عشق کیسے بتلاؤں اے جہاں والو
آپ سب نے فقط سنا ہے عشق مجھ سے بیمار کا مسیحا ہے
میرے ہر درد کی دوا ہے عشق اک خلل ہے دماغ کا شاید
روح انسان کی غذا ہے عشق آپ اپنے میں مبتلا پایا
آپ اپنے کو ہو گیا ہے عشق کیا کہوں اس کی عظمتیں صاحب
میرے قد سے کہیں بڑا ہے عشق
عظیم — ستمبر 9، 2014 12:38 شام
حکم - جانے دو یار پہلے ہی بہت بهٹکا ہوا ہوں -
عظیم — ستمبر 9، 2014 5:07 شام
بابا - کیسے بتلاؤں اے جہاں والو
آپ سب نے فقط سنا ہے عشق مجھ سے بیمار کا مسیحا ہے
میرے ہر درد کی دوا ہے عشق ×××
عظیم — ستمبر 10، 2014 12:26 صبح
آ پڑی ہے یہ شب جدائی کی
اب ہمیں نیند بهی نہ آئے گی اے غم انتظار کی وحشت
اور کتنوں کے بن جلائے گی دل سے اس دید یار کی حسرت
کیا مری جان لے کے جائے گی بچ بهی نکلے جو آسمانوں سے
تو یہ دنیا ہمیں ستائے گی یاد رکهنا یہ دل لگی صاحب
ایک دن خون دل رلائے گی
عظیم — ستمبر 10، 2014 12:50 صبح
بابا تهورے دن اور ماتها----
الف عین — ستمبر 10، 2014 4:32 صبح
واہ واہ عظیم، یہ تو اچھی نکالی ہے غزل۔۔ویسے ہر شعر میں معمولی سی تبدیلی سے بہتر ہو سکتی ہے آ پڑی ہے یہ شب جدائی کی
اب ہمیں نیند بهی نہ آئے گی
÷÷’آ پڑی" اچھا نہیں لگ رہا۔ یہ مطلع بھی نہیں ہے جو ردیف قافئے کی مجبوری ہو
آ گئی رات پھر جدائی کی
میں کیا برائی تھی؟ اے غم انتظار کی وحشت
اور کتنوں کے بن جلائے گی
۔۔خوب، یوں ہی ٹھیک ہے دل سے اس دید یار کی حسرت
کیا مری جان لے کے جائے گی
۔۔اس دید یار کی حسرت یا دید یار کی یہ حسرت؟
شاید یوں بہتر ہو
یار کی دید کی یہی حسرت
کیا مری جاں ہی لے کے۔۔۔۔ بچ بهی نکلے جو آسمانوں سے
تو یہ دنیا ہمیں ستائے گی
۔۔’تو‘ اچھا نہیں لگتا۔ تب ‘یا ’پھر‘ کہو۔ یاد رکهنا یہ دل لگی صاحب
ایک دن خون دل رلائے گی
÷ایک دن دل کو خوں۔۔
زیادہ بہتر ہو
الف عین — ستمبر 10، 2014 4:45 صبح
اچھی غزل ہے میاں، کیا پہلے لکھنے میں املا کی اغلاط ہو گئی تھیں؟مطلع میں پہلے کو دوسرا اور دورے مصرع کو پہلا کر دو تو بہتر تاثر بنتا ہے۔ آپ اپنے میں مبتلا پایا
آپ اپنے کو ہو گیا ہے عشق
سمجھ میں نہیں آ سکا
باقی اچھے اشعار ہیں
الف عین — ستمبر 10، 2014 4:48 صبح
مجھے لا جواب کر دیا تو میں اب کیا جواب دوں؟
الف عین — ستمبر 10، 2014 4:51 صبح
یہ تو تک بندی محض لگ رہی ہے۔کوئی خاص بات نہیں
الف عین — ستمبر 10، 2014 5:42 صبح
پہلی غزل خوب،
دوسری غزل۔۔ محاورہ کا خیال نہیں رکھا۔ کچھ شعار بہت خوب
تیسری غزل ، اوسط۔ جناب واکا شعر سمجھ میں نہیں آ سکا