عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — ستمبر 16، 2014 9:06 صبح
خوشیوں کے ساتھ آہ!!!

غم کی عادت سی ہو گئی ہے نا -
عظیم — ستمبر 16، 2014 9:08 صبح
ب میں کس طور دل کو بہلا دوں
بہلا دوں محاورے کے خلاف ہے
اے مرے رہنماو چاکر ہوں
تم کہو تم کو آج پهسلا دوں
سمجھ میں نہیں آیا
باقی درست تقریبآ

:confused:
عظیم — ستمبر 16، 2014 9:11 صبح
پسند نہیں آئی۔تک بندی ہو گئی یہ تو

شکر ہے کم ہو گئیں -
عظیم — ستمبر 16، 2014 9:53 صبح
یوں پریشان ہو گئی ہو کیا
تم مری جان ہو گئی ہو کیا
سن کے میری اس آہ و زاری کو
تم بهی حیران ہو گئی ہو کیا
دیکھ کر میرے دل کا سونا پن
خود بهی ویران ہو گئی ہو کیا
اب جو خوابوں میں آ ستانا ہے
اتنی شیطان ہو گئی ہو کیا
میں تو کم عقل تها زمانے سے
تم بهی نادان ہو گئی ہو کیا
کوئی تجھ کو نہ آنکھ بهر دیکهے
تم مری آن ہو گئی ہو کیا
اب جو کہتا ہوں لوٹ آو بهی
سن کے سنسان ہو گئی ہو کیا
صاحب اس بے خبر سے پوچهو تو
اتنی انجان ہو گئی ہو کیا
عظیم — ستمبر 16، 2014 10:11 صبح
اب چلے آئیے کہ روتے ہیں
غم گسار اس طرح کے ہوتے ہیں
دیکهئے تو ہمارا خط لکهنا
خون میں انگلیاں ڈبوتے ہیں
عشق کیا چیز ہے خدا جانے
جاگتے میں بهی اب تو سوتے ہیں
کل نہ جانے رہیں رہیں ہم لوگ
آئیے آج کل تو ہوتے ہیں
دل پہ جو میل تها کیا رخصت
اب تو دامن کے داغ دهوتے ہیں
کهلنے والے ہیں پهول الفت کے
بیج کچھ چاہتوں کے بوتے ہیں
آپ غالب کے ہوں بھتیجے لاکھ
میر صاحب کے ہم بهی پوتے ہیں
عظیم — ستمبر 16، 2014 11:36 صبح
اپنے قدموں میں ہی گرا پایا
جیت میں ہار کا مزا پایا
جس کو دیکها تمہارے ہی غم میں
ہم نے دنیا میں مبتلا پایا
اپنی ہر بات کو پرکھ دیکها
کچھ نہ اغیار سے ملا پایا
آپ سے ہم نے خود کو کم جانا
آپ نے خود سے ہم برا پایا
آرزو ہے وہ بار اٹهانے کی
جس کو عالم نہیں اٹها پایا
صاحب اس شوق میں گنوا کر سب
دیکهئے تو جناب کیا پایا
عظیم — ستمبر 16، 2014 11:50 صبح
روح سے تشنگی نہیں جاتی
کیا کریں عاشقی نہیں جاتی
کہنا چاہوں جو بات اپنی میں
یار کے بن کہی نہیں جاتی
اب یہ وحشت یہ میری تنہائی
یاالہی سہی نہیں جاتی
مار ڈالے گا غم جدائی کا
اور یہ بے بسی نہیں جاتی
کتنا چپ چاپ ہو گیا ہوں میں
بات خود سے بهی کی نہیں جاتی
جان جاتی ہے عاشقوں کی لیک
دل سے حسرت کبهی نہیں جاتی
عظیم — ستمبر 16، 2014 11:53 صبح
بابا قوافی ؟
عظیم — ستمبر 16، 2014 10:45 شام
بات دل کی جناب کیا جانیں
آپ سے کچھ خراب کیا جانیں
پی ہے کب چشم ناز سے ان نے
شیخ صاحب شراب کیا جانیں
ان حقیقت شناس لوگوں کے
دل بهلا میرے خواب کیا جانیں
بات کرتے ہیں تول تال کے آپ
یہ چلن بد حساب کیا جانیں
جن کو تکنا ہو یار کا چہرہ
دیکھ رکهیں حجاب کیا جانیں
ہم کہاں محفلوں میں پهرتے ہیں
ایسی خلوت حباب کیا جانیں
کس ستمگر سے دل لگا صاحب
ہم سے خانہ خراب کیا جانیں
عظیم — ستمبر 16، 2014 10:45 شام
بابا تکے مارے ہیں - دیکهئے کوئی صحیح بهی لگا ؟
عظیم — ستمبر 16، 2014 10:54 شام
بابا ہنسی آتی ہے اب تو -
الف عین — ستمبر 17، 2014 3:52 صبح
ہنسو مت، کچھ تو درست ہیں، بلکہ درست تو سب ہیں لیکن اچھے بھی ہیں دو ایک۔ مطلع اور آخری چار اشعار بیکار لگے مجھے
الف عین — ستمبر 17، 2014 4:12 صبح
قوافی بھ درست ہیں، اور غزل بھی زبردست ہے۔ بس مقطع زبردستی کا محسوس ہوتا ہے۔ باقی سارے اشعار بہت خوب۔
الف عین — ستمبر 17، 2014 4:19 صبح
یہ بھی اچھی کہی عظیم!
جس کو دیکها تمہارے ہی غم میں
ہم نے دنیا میں مبتلا پایا
÷÷
جس کو دیکھا، تمام دنیا میں
تیرے ہی غم میں ۔۔۔۔
بہتر اور واضح ہو گا۔
اپنی ہر بات کو پرکھ دیکها
کچھ نہ اغیار سے ملا پایا
آپ سے ہم نے خود کو کم جانا
آپ نے خود سے ہم برا پایا
۔۔یہ دونوں اشعار نکالے جا سکتے ہیں۔ بات نہیں بنی
عظیم — ستمبر 17، 2014 9:13 صبح
وصل کا انتظار کر کر کے
کٹ گئی میری عمر مر مر کے
میری جهولی میں خاک ڈالی ان
لوگ لائے ہیں پهول بهر بهر کے
اک زمانے کی ٹهوکریں کهائیں
ہم دهکیلے ہوئے ہیں در در کے
ہے بہت طول داستان عشق
گو سنائیں گے مختصر کر کے
پہلے زندہ تو کیجئے صاحب
جی اٹهیں گے ہزار مر مر کے
عظیم — ستمبر 17، 2014 9:18 صبح
بابا -
عظیم — ستمبر 17، 2014 9:23 صبح
بابا بتا دوں مقطع میں صاحب کوئی اور ہیں - ایسا نہ ہو کہ کوئی اپنی مری ہوئی بلی زندہ کروانے لے آئے :ROFLMAO:
عظیم — ستمبر 17، 2014 10:16 صبح
قوافی بھ درست ہیں، اور غزل بھی زبردست ہے۔ بس مقطع زبردستی کا محسوس ہوتا ہے۔ باقی سارے اشعار بہت خوب۔

مقطع نکال دیا بابا -
عظیم — ستمبر 17، 2014 10:17 صبح
ہنسو مت، کچھ تو درست ہیں، بلکہ درست تو سب ہیں لیکن اچھے بھی ہیں دو ایک۔ مطلع اور آخری چار اشعار بیکار لگے مجھے

بابا پنجابی میں کہاوت ہے - " سیانیاں دی ہر گل وی نئی من لئی دی "
عظیم — ستمبر 17، 2014 10:43 صبح
یہ بھی اچھی کہی عظیم!
جس کو دیکها تمہارے ہی غم میں
ہم نے دنیا میں مبتلا پایا
÷÷
جس کو دیکھا، تمام دنیا میں
تیرے ہی غم میں ۔۔۔۔
بہتر اور واضح ہو گا۔
اپنی ہر بات کو پرکھ دیکها
کچھ نہ اغیار سے ملا پایا
آپ سے ہم نے خود کو کم جانا
آپ نے خود سے ہم برا پایا
۔۔یہ دونوں اشعار نکالے جا سکتے ہیں۔ بات نہیں بنی

بابا اتنی غلطیاں نکال کر بهی کہتے ہیں اچهی کہی -

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-94